کبھی سوچتا ہوں! کہ یہ جو عام سیاسی ورکر ہے آخر یہ ہے کون اور چاہتا کیا ہے؟

کبھی سوچتا ہوں!
کہ یہ جو عام سیاسی ورکر ہے آخر یہ ہے کون اور چاہتا کیا ہے؟ یہ عام ورکر یہ چاہے پی ٹی آئی کا ہو یا جما عت اسلامی کا یہ مسلم لیگ کا ہے یا پی پی کا یہ مولانا فضل الرحمن کا ہے یا خادم رضوی کا یہ عام ورکر تو بڑا پیارا اور معصوم ہے نا! یہ دن بھر اپنی محنت یا نوکری کرتا ہے یا پڑھتا ہے ،معاشرے کے سارے جبر سہتا ہے ،پولیس والے کی ڈانٹ سنتا ہے ،رشوت دیتا اور موبائل چھنواتا ہے ، بسوں میں دھکے کھاتا ہے ،مگر اس کے کچھ خواب ہیں ،یہ ان سب خراب حالات سے نکلنا چاہتا ہے یہ اپنی نسلوں کو اس سے بچانا چاہتا ہے کسی کا ورکر تبدیلی کے خواب دیکھتا ہے کسی کااپنے رب کی حکومت قائم کرنے کی شدید خواہش اپنے اندر پاتا ہے کہیں یہ محمد عربی ص کا غلام بن کرکامیابی چاہتا ہے تو کہیں نوکری اور روٹی کپڑے کا نعرہ اسے متاثر کرتا ہے
آخر ان سب میں سے غلط بات کیا ہے؟
ان میں برائی کیا ہے؟
یہ عام ورکر نہ دانشور ہے نہ ملک کے نظام تعلیم نے اسے اچھا کامیاب انسان بنایا ہے وہ بس عام سا ہے ! مگر ان کروڑوں سے بہتر جن کے کوئی خواب تک نہیں کوئی سیاسی سوچ تک نہیں کوئی اجتماعی فکر تک نہیں جنہیں بس کولہو کا بیل بنا دیا گیاہے یہ سیاسی ورکر ان کے مقابلے میں بہت قیمتی ہے۔۔۔ا
یہ لڑنا چاہتا ہے ،اس میں امید ہے ،اس میں حوصلہ ہے ،اس نے اپنے اردگرد کو قبول نہیں کر لیا ،یہ نئی دنیا چاہتا ہے
یقین کریں یہ بہت قیمتی ہے ،یہ زیادہ با شعور ہے ،یہ سوسائٹی کی ضرورت ہے ،اس کی قدر کی جانی چاہئیے ۔
مگر افسوس یہ ہر وقت آپس میں دست گریبان رہتا ہے اس کو یاد کروا دیا گیا ہے کہ وہ دوسرا تمہارا دشمن ہے، وہ دوسرا جو خود بھی اسی کی طرح کا ہے اسی جیسی زندگی گزار رہا ہے اسی کا بھائی ہے اسی کی طرح کے خواب دیکھتا ہے اسی کی طرح سوچتا ہے ۔۔۔
مگر وہ اس کا دشمن ہے !
نہ جانے کیوں؟
مجھے سب سیاسی کارکنوں سے محبت ہے
یہ سب میرے بھائی ہیں
وہ مجھے اپنا دشمن سمجھیں
وہ مجھے گالی دے کر خوش ہوں
تو بھی!
میں انہیں اپنا سمجھتا ہوں
قیمتی سمجھتا ہوں
عزیز سمجھتا ہوں
ہر سیاسی کارکن کو میرا سلام !
خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں