فاونڈرالخدمت ٹائم۔ حوصلےعزم و ہمت کا پہاڑاور استاد صحافت رکن پشاور پریس کلب رشید احمد صدیقی ۔ بیماری، علاج، پریس کلب صحافیوں اور حکومت کی ذمہ داری

جماعت اسلامی کی فیملی سےتعلق رکھنےوالےالخدمت ٹائم،شاہین سمیت متعددجریدوں کےفاونڈر،اورخرم جاہ مرادکےشاگردکس حال سےگذررہےہیں؟

رشید صدیقی ممبرپریس کلب پشاورصحافت کی بے نیام تلوار۔
رشیداحمد صدیقی دیرپائین چکدرہ سے تعلق رکھنے والے نڈربے باک صحافی جو اپنوں اور پرائوں کی خبرگیری میں مشہور۔۔ گذشتہ ڈھائی سال سے گردوں کے عارضہ میں مبتلاء ہیں اور مسلسل ڈائیلاسسز پر ہیں۔ اب صحت کی کچھ بہتری پر وہبپشاور بچوں کیلئے لکھے گئے نئے کتاب آٹھ جنتی کے افتتاح تقریب رونمائی میں تشریف لائے تھےانہیں اتناپراعتماد دیکھ انتہائی خوشی ہوئی۔ انہوں روزنامہ مشرق سے لیکردیگر پائے کے اخبارات ایجنسیز میں ایک ایڈیٹر۔نیوز ایڈیٹرکی حیثیت سے فرائض سرانجام دئے ۔ پریس کلب سے منسلک رہنے کے باوجود انہیں پریس کلب کے مراعات جن میں میڈیاکالونی فیز ون اور فیز ٹو کے پلاٹس سے صرف اس وجہ سے محروم رکھا گیاکہ انکا فیملی بیک گراونڈ جماعت اسلامی سے ہے۔ اس وقت بھی وہ ڈیلی پیام خیبر کے ایڈیٹر ہیں۔ اب وہ گردوں کی تبدیلی کیلئے کوشاں ہیں۔ ان سے تقریب سے پہلے چند باتیں ہوئیں جو پورے خیبرپختونخوا پشاور پریس کلب کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔۔۔
سرآپ نے میڈیاکالونی میں پلاٹ کیوں نہیں لیا۔۔؟
جواب۔۔مجھے دیاجاتاتو خوشی ہوتی تاہم مجھے کوئی پریشانی نہیں مجھے کیوں نہیں دیا اس کاجواب تو میڈیاکارکن دینگے اور خصوصامیرے شاگرد۔تاہم میں اس حوالے سے کسی کو امتحان میں نہیں ڈالناچاہتااس کا بدلہ مجھے اپنارب دیگا۔
سوال۔۔ سر آپ نے محکمہ انفارمیشن سے اس حوالے سے رابطہ کیاہے؟
جواب۔۔ نہیں اللہ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتا۔
سوال ۔۔سر یہ تو آپ کا حق ہے؟
جواب۔۔حق ہے تو یہاں نہ ملا وہاں ضرور ملےگا۔۔ پر اس کا مفصل جواب میرے پریس کلب کے ساتھی دے سکتے ہیں سارے اچھے دوست ہیں۔
سوال۔ سر اب آپ علاج کررہے ہیں ایک صحافی کیلئے اتنا مہنگاعلاج کرنا ناممکن ہے کیاپریس کلب کے فلاحی فنڈ برائے علاج سے آپکو گرانٹ یا پریس کلب کے ذرئعہ خیبرپختونخوا حکومت سے ؟
اپنے چند ساتھیوں نے عیادت کی ہے انکامشکور ہوں ۔ تاہم علاج کیلئے جہاں تک گرانٹ کی بات ہے تو اپنے بھائی زندہ ہیں ۔ پریس کلب سے کوئی گرانٹ ملی نہ ان سے توقع ہے میرے لئے میرااللہ ہی کافی ہے۔
قارئین سوال و جواب تو بہت ہیں لیکن پھر کبھی سہی اب آخری بات یہ ہے کہ رشید صدیقی کو جو لوگ یا شاگرد جانتے ہیں انکو پتہ ہے کہ انہوں نے درویشی کی زندگی گزاری ہےوہ انتہائی خودار ہیں ۔ پریس کلب کے ساتھی انکو ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سےتو اٹھالاتے ہیں لیکن !اب روبصحت ہیں انشاء اللہ بہت جلد اس فیلڈ میں ہونگے۔ وسائل اللہ تعالی پورے کرینگے ۔ ہم تمام پریس برادری کی طرف سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ انکے علاج کیلئے حکومت خیبرپختونخوا اور مرکزی حکومت خصوصی گرانٹ فراہم کرے۔ مزید پریس کلب پشاور کے کروڑوں کا بجٹ کیا صحافیوں کے قبروں پر تختی لگانے کیلئے رکھاگیاہے؟یہ تمام ورکنگ جرنلسٹ کیلئے اور خصوصا سینئرزکیلئے ایک المیہ ہے ایسے اوقات کسی بھی وقت کسی کو دبوچ سکتے ہیں۔اس لئے ہوش کے ناخن لیں اور پریس کلب انتظامیہ اور حکومت خیبرپختونخوا کو مجبور کریں کہ وہ استاد صحافت رشید صدیقی کا نہ صرف یہ کہ فری علاج اور میڈیا کالونی پلاٹ کابندوبست کرلیں ۔کیونکہ یہ صرف رشید صدیقی کی بات نہیں صحافی کی ہے۔
اور مندرجہ بالا اقدامات نہ کئے گئے تو پھر آنے والے وقتوں میں تمام صحافی ایسے حالات کیلئے تیار رہیں۔۔
وہ بغیر علاج نہیں رہینگے ہمیں امید ہے کہ انکا علاج ہوجائیگا لیکن نیت اور بہت کچھ سامنے آجائیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلی قسط

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں