ڈاگ بےسود کی تاریخ – راٸٹر : توصیف احمد

ڈاگ بےسود کی تاریخ

صوبہ خیبرپختونخوا میں ضلع نوشہرہ کا ایک خوب صورت ترین گاٶں جس کا نام ڈاگ بے سود ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ڈاگ بے سود کی تاریخ تقریباََ 800ء سال پرانی ہے۔

اصل میں ڈاگ بہسود دو لفظوں کا مجموعہ ہے اور ہر لفظ کا اپنا اپنا مطلب ہے جیسے ”ڈاگ“ ” بے سود“
”ڈاگ“ کا مطلب تو آپ خوب جانتے ہیں کہ ڈاگ ایک کھلے میدان یا علاقے کو کہتے ہیں
اور ”بے سود“ افغانستان میں جلال آباد کے ایک علاقے کا نام ہے جس طرح ہمارے ہاں نوشہرہ۔پشاور اور پبی ہیں ۔۔۔۔بلکل اسی طرح افغانستان کے جلال آباد میں بھی بے سود ایک علاقے (گاٶں) کا نام ہے جس کا پورا نام گاٶں بے سود ہے۔
وہاں کے لوگ بہت نرم دل۔ مہمان نواز اور خوش مزاج ہیں۔ ان کی رہن سہن اور ہماری رہن سہن کافی ایک جیسی ہے۔ اگرہم پانچ سے آٹھ صدی پیچھے دیکھیں تو اس وقت سارے پشتون بھاٸی ایک ساتھ رہتے تھے آنے جانے پر کوٸی پابندی نہیں تھی۔
افغانستان اور صوبہ سرحد کے دور دور علاقوں پر پشتون بھاٸی آباد تھے۔ اس وقت افغانستان کے نادر خان نامی ایک شخص کے چار بیٹے (یاد خان۔ سنگر خان۔ اسدخان اور موتی خان) اپنے اپنے بیویوں کے ساتھ یہاں پرآٸے۔۔ اپنے لیے گھر بناۓ اور یہاں پر رہنے لگے۔
وہ چار بیٹے/بھاٸی آپس میں بہت پیار ومحبت کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ وہ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے تھےاور ہر کسی کے ساتھ کافی اچھی تعلقات رکھتے تھے۔ یہاں کے لوگ ان سے بہت خوش تھے۔ ان کے آنے سے یہاں پر خوشحالی کا دور شروع ہوا۔ دور دور تک ان کے چرچے پھیل گۓ۔
اس وقت یہاں کی آبادی انتہاٸی کم تھی ۔ کچھ عرصہ بعد ان کے بچے ہوۓ اور ان کے بچوں نے یہاں پر شادیاں کی اور پھر اِن کے بچے ہوۓ۔ اس کے بعد اِن چار بھاٸیوں کے بچوں کو لوگ اس کے باپ ( یعنی سنگرخان۔یادخان۔موتی خان اور اسدخان) کی وجہ سے پہچانتےتھے۔ اور ہر بھاٸی کے بچوں کو لوگ اس کے باپ کے نام سے پکارتے تھے۔
جسے سنگر خان کے اولاد کو لوگ سنگر خیل۔ اسد خان کی اولاد کو اسدخیل۔ یادو خان کے اولاد کو یادو خیل اور موتی خان کے اولاد کو موتی خیل کے نام سے پکارتے تھے۔ اور اسی طرح ہر بھاٸی کی اولاد بڑھتی چلی گٸ جو آج کل ڈاگ بہسود کے بڑے بڑے خیل/ قومیں ہیں۔
اِن چار قوموں کے علاوہ جتنی بھی قومیں یہاں پرآباد ہیں یہ سنکڑوں سال پہلے آس پاس کے علاقوں سے یہاں پر آۓ تھے اور آباد ہوۓ۔ ان کی بھی ایک الگ تاریخ اور ایک پہچان ہے۔
اگرآج ہمارے گاٶں کا نام ڈاگ بے سود ہے تو یہ صرف ان چار بھاٸیوں کی وجہ سے ہیں کیونکہ وہ سب سے پہلے یہاں پر آۓ اور آباد ہوۓ۔ ایک بزرگ بابا جی کے مطابق آج کل تقریباََ 10 چھوٹے بڑے اقوام ہمارے گاٶں میں آباد ہیں۔
اِسی طرح ہمارے گاٶں کی آبادی وقتاََ بوقتاََ بڑھتی گٸ اور 2016 کے مردم شماری کے مطابق ڈاگ بے سود کی آبادی (یعنی ویلج 1 اور 2) تقریباََ 21000 ہزار پرمشتمل ہے۔ جس میں 13 بلاک اور دو ویلج کونسل ہیں۔ 5 لڑکوں کے پراٸمری سکول اور 2 لڑکیوں کے پراٸمری سکول۔ ایک لڑکوں کے لیے ہاٸی سکول اور ایک لڑکیوں کے لیے ہاٸی سکول ہیں۔
اتنے سکولوں کے باوجود بھی یہاں پر لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کی شرح کافی غیرتسلی بخش ہیں۔
اسی طرح یہاں پر 2 ناظمین اور تقریباََ 15 کونسلرز ہیں۔
یہاں پر گنے۔ گندم اور آلو بڑی مقدار میں اگاۓ جاتے ہیں۔
دوستوں ڈاگ بے سود کے حوالے سے میں نے آپ کو جو تاریخ بیان کی ہے اس کے پیچھے میں نے کٸی ہفتے لگاۓ ہیں۔ اِس تحریر کو لکھنے سے پہلے میں اپنے علاقے کے کٸ بزرگوں سے ملا ہوں ۔۔۔ اور آخر میں تمام تر معلومات کو اِکٹھا کرنے کے بعد میں نے اِس کو ایک تحریر کی شکل دیں دی۔
ضروری نہیں۔۔کہ میری یہ تحریر %100 درست ہو۔ اس میں کمی و بیشی ہوسکتی ہے۔
انٹرویو میں ہم سے اکثر گاٶں کا نام اور اِس کا تاریخی منظر نامہ کے حوالے سے پوچھاجاتا ہے اور ویسی بھی اپنے گاٶں کے بارے میں معلومات اور تاریخ جاننا اچھی بات ہیں۔
#نوٹ: یہ معلومات مجھے اپنے گاٶں کے 11 بزرگ حضرات سے حاصل ہوٸی ہیں۔
تحریرراٸٹر : توصیف احمد
Tauseef Ahmad
0333-9155855

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں