سیاسی مخالفین کی جانب سےدہشت گردی کےحالیہ واقعات میں دارالعلوم حقانیہ کوملوث کرنےکی سازش پرحقانیہ اورجمعیت علمائے اسلام کےصوبائی امیرکاسخت ردعمل

اکوڑہ خٹک (ٹی ڈی پی ) دارالعلوم حقانیہ اور جمعیت علماء اسلام (س) کے صوبائی امیر مولانا سید یوسف شاہ نے مختلف سیاسی رہنماؤں کی حالیہ مخالفانہ بیانات اور ایک ٹی وی چینل کو جناب اسفندیار ولی کے حالیہ انٹرویو جس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں دارالعلوم کو ملوث کرنے کی کوشش کی ہے ، اوراب تو اسفندریار انتخابی جلسوں میں پشاور کی دہشت گردی پر اپنی توپوں کا رخ دارالعلوم حقانیہ کی طرف موڑ دیا ہے ، پر اپنا تفصیلی موقف جاری کیا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ کی پرانی امداد کے متعلق ازِ سرنو تنقید اور ہرزہ سرائی اس بات کا اشارہ ہے کہ مخالفین جمعیت علماء اسلام ، دارالعلوم حقانیہ اور اس سے وابستہ ہزاروں مدارس کے تعلیمی و روحانی ،تبلیغی بڑھتے کردار سے گھبراہٹ کا شکار ہیں اور وہ مغربی ممالک اور امریکہ کے دین ِ اسلام اور مدارس کے خلاف جاری مزاحمت کے ایجنڈے پر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔دارالعلوم حقانیہ قیام پاکستان سے قبل تعلیمی ،روحانی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔افغانستان پاکستان سمیت پوری دنیا میں اس کے ہزاروں لاکھوں شاگرد فضلاء اور فیض یافتہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں سرگرم عمل ہیں۔ چونکہ افغانستان میں افغان حقانی فضلاء نے اے این پی کے پرانے آقا روس ،افغان حکومت کے صدر ڈاکٹر نجیب اللہ وغیرہ کو شکست فاش سے دوچار کرایا تھااسی لئے اے این پی اوراس کی قیادت وقتاً فوقتاً دارالعلوم حقانیہ کے خلاف غم و غصے کا اظہار مختلف صورتوں میں کرتی رہتی ہے ۔خود اے این پی نے پانچ سالہ دور حکومت میں اربوں روپے کی کرپشن کی (جس کے ”شاہکار” وزیراعلیٰ کا بھائی اور سیکرٹری معصوم شاہ حیدر ہوتی نیب کے سامنے اعتراف کرکے سزا اور ڈھیل کرچکے ہیں) اور خود بیگم نسیم ولی خان نے اپنے بیٹے اسفندیار ولی کی کرپشن کے قصے ساری دنیا کے سامنے پریس کانفرنس کے ذریعے بیان کئے ۔اسفندیار ولی اُن ایک ارب تینتس کروڑ روپے کا حساب دیں جو انہوں نے صرف ضلع مردان و صوابی میں اپنے منظور نظر افراد کو مساجد ،مدارس کے نام پراور حتی کہ اے این پی سے وابستہ افراد کے حجروں کی تعمیر کیلئے دئیے تھے۔اور اس کے گھپلے بھی زبان زدِ عام ہیں۔ باقی دارالعلوم حقانیہ کا ماضی میں کردار مسئلہ افغانستان کے حوالے سے سیاسی وروحانی اور اخلاقی طورپر تھااور وہ اے این پی کے اس مکروہ کردار سے ہزاروں درجے بہتر تھا جس میں انہوں نے کابل میں بیٹھ کر روس اور اسکی کٹھ پتلی حکمرانوں کی ایماء پر پاکستان کے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بم دھماکوں کے ذریعے بجائی تھی،اے این پی نے ہمیشہ ہندوستان اور افغانستان کو پاکستان اور اس کے مفادات پر ترجیح دی ہے،اسفندیار ولی کو اپنی توجہ اپنے مخالف سیاسی جماعتوں سے مقابلے پر دینی چاہیے نہ کہ امریکہ کی خوشنودی کیلئے ایک تعلیمی دینی ادارہ کی مخالفت پرواحد تعلیمی ادارہ جس کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے سرہتھیلی پر رکھ کر اور جان جوکھوں میں ڈال کر ملک میں امن کی خاطر تحریک طالبان پاکستان سے کئی ماہ مذاکرات کئے ان کے حساس علاقوں کے سفر کئے اگر سیاستدانوں اور حکمرانوں کے بیرونی آقاؤں نے ان کوششوں کو سبوتاژ نہ کیا ہوتا تو آج یہ سب کچھ تباہی نہ ہوں، اسفندیارولی اور ان کے ساتھ اس بات کو بھول گئے ہیں کہ یہ وہی تعلیمی ادار ہ ہے جس کی امداد ان کے دادا عبدالغفار خان اور ولی خان نے بھی اُس وقت اپنی بساط کے مطابق کی تھی۔ (جس کے ثبوت دارالعلوم میں تاریخی دستاویزات کی شکل میں موجود ہیں، ولی خان مرحوم نے ایک موقعہ پر دارالعلوم آمد کے موقع پر اپنے خطاب میں دارالعلوم کو خدائی فلاحی سٹیٹ قرار دیا تھا ، جہاں تک صوبائی حکومتی امداد کا تعلق ہے تواس کا تعلق دارالعلوم کے زیراہتمام حقانیہ ہائی سکول کو اپ گریڈ کرکے کالج کے لئے اکیڈمک بلاک سے ہے دارالعلوم کے اخراجات مطبخ ،تنخواہوں اور جامع مسجد کی تعمیر وغیرہ کو اس کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا گیا، نہ رقم وزیراعلیٰ یا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے دی ہے بلکہ حلقہ کے ایم پی اے نے اپنے ترقیاتی فنڈ سے مختص کی ہے جس سے اب تک دارالعلوم حقانیہ کو (ADP Scheme)کے تحت تیس کروڑ میں سے تقریباً ساڑھے نو کروڑ روپے تعمیرات کیلئے جاری کئے جاچکے ہیں (جس میں کروڑوں روپے وفاقی وصوبائی انکم ٹیکسز وغیرہ کی مَد میں واپس بھی لئے جا چکے ہیں ) جو حکومتی محکموں C&W اور وزارت ِاوقاف، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلویپمنٹ اور معروف کنسلٹنٹ فرم MAC کی نگرانی میں اکیڈمک بلاک کی تعمیر اور وسعت میں ان کے ذریعے صرف کئے جاچکے ہیں۔ جہاں تک مخالفین کے ستاون کروڑ روپے کا کہنا ہے تو یہ صرف شوشہ ہی ہے ۔دارالعلوم حقانیہ کے عظیم الشان کمپلیکس ،تعلیمی خدمات اور ا س سے وابستہ مدارس کیلئے تیس کروڑ یا ستاون کروڑ روپے کوئی خاطرخواہ رقم نہیں،کیونکہ صرف جہانگیرہ میں مجوزہ ایک تعلیمی ادارہ کیلئے ایک ارب پچانوے کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔تیس کروڑ روپے میں تو آج کل ایک درمیانی کالج کی بلڈنگ بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے۔جبکہ یہ ادارہ اسلامیہ ہائی سکول پچھلے ایک صدی سے قوم کے سینکڑوں بچوں کو بلا فیس مفت تعلیم دے رہا ہے ۔ دارالعلوم حقانیہ اپنے روایتی دینی اور مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ بعض دیگر شعبہ جات کو وسعت اور جدید تقاضوں کے ہم آہنگ لانے کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے۔اس زیرتعمیر بلاک میں دور جدید کے نئے مروجہ علوم وفنون ،مجوزہ ڈگری کالج کے کلاس رومز ،جدید تعلیمی اصلاحات مثلاً حقانیہ انسٹی ٹیوٹ فار ماڈرن لینگوئجز (عربی ،فارسی، انگلش، فرنچ،چائنیز) جدید کمپیوٹرز لیبارٹری ،سائنس لیبارٹری ،ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز ، میتھس،آن لائن فتویٰ سسٹم ، آن لائن درس قرآن اور طلباء سکالرشپ پروگرام وغیرہ کے انتظامات کئے جائیں گے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں