باجوڑمیں سینیٹرسراج الحق کاتاریخی جلسہ !ایف سی آرکےخاتمےاورصوبےمیں انضمام کے بعد سینیٹرسراج الحق نےاب فاٹاکیلئےبڑامطالبہ کردیا

پشاور(تفہیم ڈاٹ پی کےآن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ایف سی آر کے کالے قانون سے آزادی کے لیے قبائلی عوام نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں ۔ آج قبائل آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں تو اس میں جماعت اسلامی کا بنیادی کردار ہے ۔ ہم لوگو ں کو جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرمایہ داروں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں سے نجات دلانا چاہتے ہیں تاکہ عوام اللہ اور رسول کے احکامات اور اپنی تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی گزار سکیں ۔ سامراجی قوتوں کے غلام حکمران ہمیں بھی مغرب کی غلامی میں دینا چاہتے ہیں ۔ قومی فیصلے آ ج بھی اسلام آباد کی بجائے واشنگٹن میں ہوتے ہیں ۔ ایم ایم اے پاکستان کے عوام کو حقیقی آزادی دلانے اور ملک کو اس کے بنیادی مقصد ، اسلامی انقلاب سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے باجوڑ میں جماعت اسلامی کے امیدوار سردار خان کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسہ سے امیر جماعت ا سلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی خطاب کیا ۔

SIRAJULHAQ

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قبائل کو سو سالہ غلامی کی محرومیوں اور پریشانیوں کے ازالہ کے لیے فاٹا کو سی پیک کے ثمرات سے حصہ ملنا چاہیے اور قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے ہر بڑے شہر میں طلبا و طالبات کے لیے ڈگری کالجز ، انجینئرنگ و میڈیکل یونیورسٹیز کا قیام ، پختہ سڑکوں کی تعمیر ، لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے انڈسٹریل زون اور چھوٹی صنعتوں کے قیام کی فوری ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ قبائل کو ان کے اپنے رسم و رواج اور تہذیب کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے ۔ قبائل اپنے معاملات میں زیادہ سرکاری مداخلت کو پسند نہیں کرتے اس لیے تھانوں اور پٹوار خانوں کے ذریعے ان کو ہراساں کرنے کا رویہ اختیار نہ کیا جائے ۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی قبائلی عوام کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم ان کے مسائل کے حل کے لیے ان کا ساتھ دے گی اب کسی وڈیرے اور خان کی یہ جرا ¿ت نہیں کہ وہ دوبارہ قبائلی عوام کو غلامی پر مجبور کرے ۔ ان کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرنے والے عوامی غیظ و غضب کا شکار ہوں گے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قبائل کو آنے والی صوبائی اسمبلی میں ان کا مناسب حصہ ملے گا اور کسی کو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں آئندہ حکومت ان شاءاللہ ایم ایم اے بنائے گی جبکہ مرکز میں ایم ایم اے کا بنیادی اور جاندار کردار ہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ متحدہ مجلس عمل عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے اور اقتدار کو چند خاندانوں کے قبضہ سے نکال کر عوام کے حقیقی نمائندوں کے حوالے کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اقتدار میں آنے کے بعد ایم ایم اے کا پہلا کام ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ ہوگا ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں