ایم ایم اے میں انتشار.فائدہ کس کاہوگا،اگلی حکومت کس کی ہوگی؟رپورٹ فداخٹک

جے یوآئی ف ایم ایم اے کی اکثر سیٹوں پر قابض’ جماعت اسلامی کے کارکنوں میں مایوسی 

Leaders Of MMA
Leaders Of MMA On The Stage

       تجزیہ۔۔۔ فداخٹک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!۔
عام انتخابات کے لئے امیدواروں کی حتمی فہرست سامنے آنے اور انتخابی نشانات ملنے کے بعد ملک بھر کی طرح خیب پختونخوا میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے اپنی مہم تیزکردی ہے تاہم شدید گرمی اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران حکومتوں کی ناقص اور مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے انتخابی مہم میں وہ جوش وخروش نظر نہیں آرہا جس کی توقع کی جارہی تھی ۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور اسکے اتحادی جماعت اسلامی گزشتہ پانچ سال کے دوران اقتدار میں رہیں تاہم صوبائی دارالحکومت میں میٹروبس منصوبے بی آر ٹی کے نامکمل ڈھانچے نے تحریک انصاف کیلئے انتخابی مہم کے دوران مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ صوبے میں کوئی دوسرا میگا پراجیکٹ بھی مکمل نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے عام شہری انتخابی مہم میں دلچسپی لینے سے ہچکچارہے ہیں جبکہ دوسری جانب نوجوانوں کی جانب سے تاحال سونامی کیلئے ہمدردیاں موجود ہیں اور وہ ہی زیادہ تر تحریک انصاف کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جنہوں نے گزشتہ الیکشن میں پشاور سے اے این پی کے حاجی غلام بلور کو شکست سے دوچار کیا تھا بس منصوبے کی وجہ سے پشاور کے شہریوں کی ناراضگی کے باعث انہوں نے اپنا حلقہ تبدیل کرتے ہوئے اس بار بنوں کا انتخاب کیا جہاں پر انہیں اپنے سب سے بڑے حریف جے یوآئی ف کے اکرم درانی کا چیلنج درپیش ہے ۔ اس سلسلے میں عمران خان نے بنوں میں اپنی انتخابی مہم کا پہلا جلسہ منعقد کرکے اپنے مخالفین کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یکم جولائی کا جلسہ عمران خان کے عمومی جلسوں سے کہیں کمزور تھا اور اگر انہیں اپنے مضبوط حریف اکرم درانی کو انکے ہوم گراؤنڈ پر شکست سے دوچار کرنا ہے تو انہیں مزید محنت کرنا ہوگی۔ تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق عمران خان انتخابی مہم کے دوران بنوں میں ایک اور جلسہ بھی کریں گے جس کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔جماعت اسلامی جو گزشتہ پانچ سال کے دوران صوبے میں تحریک انصاف کے اتحادی کے طورپر اقتدار کے مزے لوٹتی رہی نے حکومت کے آخری آیام میں تحریک انصاف سے راہیں جداکرکے ایم ایم اے میں شمولیت اختیارکی تاہم ایم ایم اے میں شمولیت جماعت اسلامی کے لئے بذات خود ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی کیونکہ صوبے سے اکثر قومی وصوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر جے یوآئی ف قابض ہوگئی جبکہ جماعت اسلامی کو کئی حلقوں سے پسپائی اختیارکرنا پڑی ۔ ایم ایم اے میں نشستوں پر اختلافات اور اکثر نشستیں جے یوآئی ف کے پاس چلے جانے سے جماعت اسلامی اپنی تاریخ کی بدترین انتشار کا شکار ہوئی اور متعدد ضلعوں میں جماعت اسلامی کے ارکان اور عہدیدار نہ صرف مستعفی ہوئے بلکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدواروں کی حیثیت سے میدان میں آگئے جبکہ بعض اضلاع میں جماعت اسلامی کے سینئر ارکان اور عہدیداروں نے ایم ایم اے کی بجائے دیگر پارٹیوں کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ۔دوسری جانب جے یوآئی ف نے بھی ان حلقوں پر جہاں پر ایم ایم اے کے کوٹے سے جماعت اسلامی کو ٹکٹ دئیے گئے وہاں اپنے آزاد امیدوار کھڑے کئے جس سے متحدہ مجلس عمل کی افادیت عملا نہ ہونے کے برابر رہ گئی اور اس بات کے اشارے دونوں جانب سے دئیے جارہے ہیں کہ دونوں کے کارکن ایک دوسرے کے امیدواروں کو سپورٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ایم ایم اے کی تابوت میں آخری کیل سابقہ فاٹا سے اسکے خاتمے کے اعلان نے ٹھونک دی ’ فاٹا جہاں کے بیشتر حلقوں پر ایم ایم اے کے فارمولے کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری ہونے تھے لیکن مولانا فضل الرحمن نے اس سلسلے میں یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے اپنے امیدواروں کو ایم ایم اے کے ٹکٹ جاری کردئیے تاہم جماعت اسلامی کے کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس پر جماعت اسلامی نے احتجاج بھی کیا تاہم اس احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہوا جس کے بعد جماعت اسلامی کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے الیکشن میں اترنا پڑا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایم ایم اے کی بحالی سے سب سے زیادہ جے یوآئی ف کو پہنچا ہے جس کے امیدوار کتاب کی نشان پر انتخاب لڑرہے ہیں تاہم جماعت اسلامی کے امیدواروں کو اپنا پارٹی نشان ترازو بھی مل نہیں سکا جس کیو جہ سے وہ الگ الگ نشانات پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور ہیں تاہم دوسری جانب دیر کے اضلاع میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کو ایم ایم اے کا اس حد تک فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ جے یوآئی ف نے یہاں سے اپنے امیدوار دستبردار کرالئے ہیں جبکہ اسکے علاوہ پنجاب اور کراچی سے بھی جماعت اسلامی کو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے ٹکٹیں ملی ہیں لیکن خیبر پختونخوا جہاں پر جماعت اسلامی کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے میں جماعت اسلامی متعدد اضلاع سے سیاسی طورپر آؤٹ ہوچکی ہے جن میں جنوبی خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع شامل ہیں جہاں سے جماعت اسلامی کو ایک بھی ٹکٹ نہیں دیاگیا ۔تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی کے انتخابات کے لئے صوبے میں اصل مقابلہ تحریک انصاف اور ایم ایم اے کے مابین قراردیا جارہا تھا تاہم ایم ایم اے میں موجودہ اختلافات کی وجہ سے اب دیگر پارٹیاں بھی مقابلے میں شامل ہوچکی ہیں اور ایم ایم ا ے میں انتشار کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو پہنچ رہا ہے جو ایک بار پھر صوبے میں حکومت بناسکتی ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں