انجینئر بننا چاہتا تھا، مسیحا بن گیا:ڈاکٹر طارق رحیم شاہ۔۔۔۔۔۔ بات چیت،مراد خان

ڈاکٹر طارق رحیم شاہ۔۔۔۔۔۔ بات چیت،مراد خان
تصاویر،جہانگیر چوہدری

پاکستان میں کسی بھی شعبے کو دیکھا جائے تو قابل اور اپنے کام سے مخلص لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نمایاں نظر آتی ہے جنہوں نے نہ صرف ملک میں اپنا لوہا منوایا بلکہ عالمی سطح پر شہرت حاصل کی اسی طرح شوبز انڈسٹری نے بھی ایسے ایسے فٹکار پیدا کئے جنہوں نے دینا پر اپنی دھاک بٹھائی اور ناظرین کو اپنے سحر میں گرفتار رکھا۔ اداکار ی کے شعبے کو اگر دیکھا جائے تو لاتعداد ایسے اداکار ہیں جنہوں نے اپنے کرداروں کو زندہ جاوید کردیا وہ کردار نہ صرف اپنے وقت میں مقبول رہے بلکہ آج بھی لوگ انہیں اسی طرح پسند کرتے ہیں۔ان میں اداکاروں میں قوی خان، فردوس جمال ،،رشید ناز،عابد علی ،ساجد حسین،راخت کاظمی،شفیع محمد،توقیر ناصر،نجیب اللہ انجم وغیرہ،خواتین اداکاروںمیں بدرخلیل ،لیلہ زبیر،فریال گوہر،بشری انصاری،شہناز شیخ،ثمینہ پیرزادہ،مارینہ خان اور دیگر بہت سے نام شامل ہیں۔
ان پرانے اداکاروں میں سے ایک نام ڈاکٹر طارق رحیم شاہ کا بھی ہےجنہوں نے جتنا بھی کام کیا اس کا خوب حق ادا کیا۔ ’’بندھن ‘‘ اور ’’ناموس ‘‘ ڈرامے ان کی پہنچان ہیں ،جن میں ان کا کردار بہت ہی یاد گار ہے۔ آخری دفعہ انہوں نے شعیب منصور کی فلم ’’ورنہ‘‘ میں کام کیا ۔ ڈاکٹر صاحب آج کل اسلام آباد کے مارگلہ پہاڑ کے ایک نہایت ہی دلکش اور دلفریب قدرتی نظاروں میں گھرے علاقے شاہ اللہ دتہ میں ایک ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ صحت سے متعلق کچھ پراجیکٹ پربھی کام کررہے ہیں ، ان سے ایک خصوصی نشست میں ان کے ماضی و حال اور آئندہ کے ان خوابوں اور پیش بندی سے متعلق گپ شپ کی ہے جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
ڈاکٹر طارق رحیم شاہ کا تعلق بنیادی طورپر کوہاٹ سے ہے،پید ا بنوں میں ہوئے،والدفوج میں تھے بریگیڈئر ریٹائر ہوئے، والدہ لیکچرار تھیں چو نکہ والد آرمی میںتھے تو کوئٹہ ،سیالکوٹ،پشاور،ایبٹ آباد اور کھاریاں میں رہے ،ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے شروع ہوئی ،والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد پشاور سٹیل ہوئے ،ایف ایس سی پشاور سے کیابعد میں خیبر میڈکل کالج پشاور سے ایم بی بی ایس کیا،اس کے بعد کچھ عرصے تک نوکری کی پھر لاہور چلے گئے ۔لاہور سے پھر اسلام آباد منتقل ہوئے اور23سال سے اسلام آبادمیں ہی رہ رہے ہیں ۔یہاں پربطور پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ کام کرتے رہے۔ فیملی پلاننگ کے ایکسپرٹ ہیںاور مختلف این جی اوز کیلئے براجیکٹس تیار کرتے ہیں۔بچپن کی زندگی کے بارے میں ڈاکٹر طارق رحیم کہتے ہیں کہ بچپن کی زندگی بہت اچھی تھی گھر اور سکول میں بہت شرارتی تھا والد سے بہت مار کھائی ہےاور کبھی کبھی میں سوچتا تھا یہ میرے سگے نہیں سوتیلے والد ہیں،اداکاری پر بات کرتے ہوئے کہنے لگے اداکار تو ایک طرح سے بچپن سے شروع کی تھی ، ٹی وی کے پروگرام میں پہلی شرکت اس وقت کی جب میں چوتھی کلاس میں تھا، بچوں کا ایک پروگرام’’آئو بچوں ہنسیں گائیں‘‘ ہوا کرتا تھاجس میں میں نے پہلی دفعہ حصہ لیا۔ باقاعدہ اداکاری کا آغاز 1979 میں ہوا پی ٹی وی پشاور سینٹر دیکھنے گیا تھا وہاں پر پروڈیوسر جہانزیب سہیل سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا ٹی وی میں کام کرنا ہے؟ میں نے بتایا کبھی کیا تو نہیں انہوں نے بہت پیاری بات کی ہے کہ ہمارے پاس پتھر آتے ہیں اس کو تراشنا ہمارا کام ہےاس وقت میں ایف ایس سی کا طالب علم تھا میں نے کہا کہ ٹھیک کرلیتا ہوں۔ پشتو کا ایک پروگرام ہوا کرتا تھا’’پہ تول پورہ‘‘ اس میں کام کیا پہلا معاوضہ یاد نہیں کہ کتنے پیسے تھے، انہوں نے بتایاکہ میں نے اردو ، پشتو اور پنجابی ڈراموں میں کام کیا البتہ تعداد یاد نہیں کہ کتنے ڈراموں میں کام کیا ہے،بی بی سی کی ایک ڈاکومنٹری ’’دی ٹریفک ‘‘میں بھی کام کیا جس میں جمال شاہ،فریال گوہر اور شکیل بھی تھے۔ میری اصل پہچان پشاور سنٹر سے سریل’’ناموس‘‘ اور اسلام آباد سنٹر سے ’’بندھن‘‘ تھی (بندھن میں کتب نام تھا جس کی بیو ی مر جاتی ہے جس کی ایک بیٹی ہوتی ہےجو بعد میں دال آویز سے شادی کرتاہے) اس کے علاوہ حال میں شعیب منصور کی فلم ’’ورنہ ‘‘ میں کیا جس میں ہیرو کے والد کا رول کیا۔
اپنی خاندان سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ہم چار بہن بھائی ہیں میں سب سے بڑا ہوں دونوں بہنیں ڈاکٹر ہیں ایک بہن کینیڈا اور دوسری برطانیہ میں ہے۔ شادی شدہ ہیں۔ بھائی بھی فوج میں تھے بطور کیپٹن آرمی کو چھوڑ دیا اب پشاور میں رہ رہے ہیں۔میرے تین بچے ہیں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ دونوں بیٹیوں کی شادی ہوگئی ہے۔بیٹا میرے ساتھ ریسٹورنٹ چلا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں نے اس لئے بنایاکہ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان طبقہ کمروں سے باہر نکل آے اور قدرتی چیزوں کو انجوائے کرے۔ یہاں پر ہم ٹریکنگ کراتے ہیں، اپنے بچوں کے بارے میں بتایا کہ بچوں کو اداکاری کا کوئی شوق نہیں،ایک بیٹی نے جو’’ بندھن‘‘ میں بھی میری بیٹی کا رول (پری) کیا تھا بس وہی ایک ڈرامے میں کام کیا تھا اس کے علاوہ ٹی وی پر اور کام نہیں کیا، میں دو ڈراموں سے زیادہ مشہور ہوا ایک ’’ناموس‘‘ دوسرا ’’بندھن‘‘۔ ناموس اتنا مشہور ہوا تھا کہ جس وقت وہ شروع ہوتا تھا ولگ دکانیں بند کردیتے تھے ’’ناموس ‘‘ میں پٹھانوں کے کلچر کو دکھایا گیا تھا، میں ڈراموں اور فلموں میں کام بہت کم کرتا ہوں کیونکہ میں پروفیشنل اداکار نہیں ہوں میں ایک ڈاکٹر ہوں اس فیلڈ میں زیادہ کام کرتا ہوں اداکاری تو بس ایک شوق ہے جب ٹائم مل جاتاہے تو کرلیتا ہوں، پاکستان میں اداکار کی قدر نہیں ہے لیکن اب جیسے چینلز بڑھ رہے ہیں لوگ اب اداکار ی کو پسند کرنے لگے ہیں کیونکہ پرانے زمانے میں صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اب تو بہت چینلز آگئےاس کے علاوہ زیادہ تر پشتو یا پنجابی فلمیں بنتی تھیں اردو فلمیں بہت کم بنتی تھیں اور دوسری بات یہ کہ اداکار اگر خود قدر کرواتا ہے تو ٹھیک ورنہ لوگ نہیں کرتے ہیں، جیسے سلطان راہی یا بدرمینر تھے انکے جو چاہنے والے تھے وہ زیادہ تر ٹرک ڈرائیور ، ہوٹل اور مزدور طبقہ تھا، اس وقت گنے چنے ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز ہوا کرتے تھے اُس وقت لوگ ڈائریکٹروں اور پروڈیوسروں کی عزت کرتے تھے اب تو اتنے ڈائریکٹرز ،پروڈیوسرز اور اداکار ہو گئے ہیں کہ پتھر اٹھائو نیچے ڈائریکٹر ،پروڈیوسر اور اداکار ملے گا، آج کے ڈائریکٹرز کو تو اے بی سی کابھی پتہ نہیں جس کے پاس پیسے آگئے وہ ڈائریکٹر ،پروڈسر بن گیا اور اپنا پروڈیکشن ہائوس بنایا اور ڈرامہ بنالیا، پرانے جو پروڈسر ڈائریکٹر تھے وہ جرمنی، امریکا، کوریا والے ٹریننگ دینے کیلئے بلاتےتھے،ہمارے زمانے میں پانچ دن ریہرسل ہوا کرتی تھی پورے سکرپٹ کیساتھ ہوتی تھی اب تو ریہرسل رہی ہی نہیں ہمارے ڈرامے پوری دنیا میں مشہور تھے لیکن اب نہیں ہیں اس وقت کراچی ،لاہور،کوئٹہ پشاور سنٹر سے پانچ سریل چلتے تھے اورآج دیکھیں تو 50سریل چلتے ہیں ان 50میں اگر کوئی ایک ہٹ ہوجائے تو کمال کی بات ہےپہلے اگر پانچ ڈرامے چلتے تھے اگر پورے پانچ نہیں تو چار تو لازمی ہٹ ہوا کرتے تھے۔ پرانے جو ڈرامے تھے اس کا تو جواب ہی نہیں اور لوگ ابھی تک یاد کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں آج جو ڈرامہ ہے وہ ڈرامہ نہیں،ابھی ڈرامہ بن ہی نہیں رہاہے، آج کل کے ڈراموں میں تو انڈیا کو فالو کیا جارہاہے ،آج کل شوبز نے ترقی کی ہے لوگوں کو روزگار مل گیااب لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو نوکریاں مل گئی ہیں لیکن ڈرامہ اس طرح نہیں بن رہا ہے جیسے پہلے بنتا تھا،اُس وقت لوگوں کو اداکاری کرنے کا بہت شوق تھا، پی ٹی وی سنٹروں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوا کرتی تھیں مجھے یاد ہے کہ باطن فاروق راولپنڈی سے تین سال تک پشاور جاتارہا وہاں گیٹ پر کھڑے ہو کر انتظار کرتا کہ کوئی رول مل جائے لیکن ان کو گیٹ کے اندر ہی جانے کا موقعہ نہیں ملتا تھا۔ تین سال کے بعد ان اندر جانے کی اجازت مل گئی،اس زمانے میں لوگوں کو ہیرو بننے کا شوق جنوں کی حد تک ہوا کرتا تھا اس طرح کا حال سٹوڈیو کے باہر ہوا کرتا تھا ہر کوئی سلطان رہی اور بدرمیر بننا چاہتا تھا۔ ہر لڑکی انجمن،رانی اور شبنم بننا چاہتی تھی لیکن وہ جنوں کا شوق اب میرے خیال میں ختم ہوگیا ہے،اداکاری ایسی چیز ہے کہ اس کی کمائی سے آپ اپنے گھر کےاخراجات پورے نہیں کرسکتے ہیں ساتھ میں کچھ اور کام کرنا پڑتا ہے،
ڈاکٹر طارق رحیم کہتے ہیں کہ ایک اچھے اداکار میں میں خوبی ہونی چاہیے کہ جو بھی کردار کرے وہ دل سے کرے اورکردارمیں ڈوب جائےاداکاری کیلئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے بہت مطالعہ کرنا پڑتا ہےاس کیلئے آپ کا مشاہدہ بہت تیز ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر مجھے ایک بھکاری کا کردار ملتا ہے تو مجھے پہلے جو حقیقی زندگی میں بھکاری ہوتا اس کو دیکھناچاہیےکہ ایک بھکاری حقیقی زندگی میں کس طرح زندگی گزارتا ہے،مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک کردار کی پیشکش ہوئی جس میں ایک نشی کا رول کرنا تھا وہ 25 منٹ کا پلے تھا یہ کردار پہلے ایک اور ہیرو کو آفر ہوا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر میں نے یہ کردار ادا کیا تو میرا والد مجھے گولی مار دے گا اس پلے کے پروڈیوسر مسعود شاہ تھے انہوں نے پھر مجھے آفر کی اس رول کیلئے کہ یہ کردار کر لیں گے میں نے کہا کرلونگا مجھے خود نہیں پتا تھا کہ ہیروئن پی کر بندہ کیسے چلتا ہے کیسے بولتا ہے میں اس رول کو کرنے سے پہلے خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے ڈرگ ٹرٹمنٹ سنٹر گیا وہاں پر ایک جرمن کو ٹرٹمنٹ کیلئے لایا تھا میں مسلسل اس کو دیکھتا تھا کہ کیسے چلتاہے کیسے بولتا ہےوہ چیخ رہا تھا اس کے جسم میں درد ہو رہا تھا،پورے مشاہدے کے بعد میں نے وہ رول کیا،مطلب اداکاری میں ابرزویشن بہت ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک میرا کوئی آئیڈیل اداکار نہیں رہا نہ میل میں نہ فی میل میں اور وہ اس لئے کہ بڑے اداکاروں نے بعض ایسے رول کیے ہیں کہ وہ بہت یادگار تھے تو اگر میں کسی ایک کا نام لوں گا تو باقیوں کیساتھ ناانصافی ہوگی،مطلب میں کسی ایک اداکار کا فین نہیں ہوں، ویسے بطور انسان جس کے ساتھ میری یاری تھی وہ قاضی ہمایوں تھا، بچپن میں کیا بننا چاہتے ہیں کے سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ بچپن سے خواہش تھی کہ میں انروٹکل انجینئر بنوں لیکن والد کی خواہش تھی میں ڈاکٹر بنوں۔ اصل میں اداکار کی کوئی خا ص انکم نہیں ہوتی، ایکٹنگ میں اتنا معاوضہ نہیں ملتا ہے جس سے آپ اپنے گھر کے نظام کو چلا سکیں اور جو زیادہ کما رہے ہیں وہ چند ایک ہیں۔ آج کل ہمارے ڈرامے میں ماڈرن دور کے کلچر کو پیش کیا جارہاہے، دیہاتی کلچر کو نہیں پیش کیا جارہاہے۔ اب بھی ہمارے دیہات میں دوپٹہ اور چادر کلچر ہے جو میڈیا پر پیش نہیں کیا جارہاہے صرف جو ماڈرن کلچر ہے جس میں جینز وغیر ہ ہے وہ پیش کیا جارہا ہے، ذاتی زندگی کے بارے ڈاکٹر طارق رحیم شاہ نےکہا کہ میری توجہ اچھی زندگی گزارنے اور خوش رہنے پر مرکوز ہے میری توجہ اس کام کی طرف ہے جو میں کرنا چاہتاہوں میں آج ریسٹورنٹ چلارہاہوں کل میں کسی اور کام کیلئے نکل جائوں گا، میں نے اپنے آپ کو کسی ایک چیز تک پابند نہیں رکھا، میں اداکاری بھی کرتاہوں
،ریسٹورنٹ بھی چلا ہوں، چونکہ میں ڈاکٹر بھی ہوں اس حوالے بھی کام کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو محدود نہیں رکھاہے، میں چاہتا ہوں کہ ہر وہ کام کروں جس میں مجھے خود خوشی اور سکون ملے۔ اپنی ازدوجی زندگی کے بارے میں بتایا کہ اللہ کاشکر ہے کہ جو زندگی میں چاہی وہ ملی ہے شادی پسند کی ہے جو چیز آپ کو حاصل ہوجائے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چا ہیے اور جو چیز نہ ملے اس میں اللہ کی طرف سے انسان کیلئے بہتری ہوتی ہےاگر کوئی چیزحاصل کرنے کیلئے آپ نے بہت کوشش کی ہے اگر وہ پھر بھی حاصل نہیں ہوسکی تو انسان کو سمجھ لینا چاہیے کوئی ذات ہےجو سب کچھ کرنے والی ہے اگر وہ چیز آپ کو نہ ملے تو بس صبر کریں اللہ آپ کیلئے بہتر کریگا۔ میری اداکاری کے حوالے سے خواہش رہی کہ میں ایک آرمی آفیسر کا رول کروں، شہزاد خلیل صاحب راشدمنہاس شہید پر پلے بنا رہے تھے جس کیلئے مجھے انہوں نے راشد منہاش شہید کا رول کرنے کی آفر کی تھی میں اتنا خوش ہو ا کہ میں بیان نہیں کر سکتاہوں لیکن ائیرفورس والوں نے کہا کہ یہ رول کوئی اور نہیں ہمارا اپنا ایک پائلٹ ہے وہ کرے گا اس طرح وہ رول مجھے نہیں ملا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ اس کے بعد 1994ء میں ایک میجر پر پلے بن رہا تھا وہ رول میں نے کیا تھا جس میں دکھایا گیاکہ 1947میں ایک پٹھان میجر تھا جو انڈیا سے ایک ٹرین بھگا کر پاکستان لاتا ہے۔ میجر کا رول میں نے ادا کیا تھا جب وہ پلے بن گیا تو اس میں کوئی ٹیکنکل مسئلہ آ ٓگیااور وہ پلے نشر نہیں ہوسکا، اس طرح میر ی یہ خواہش ابھی تک پوری نہیں ہوسکی لیکن اب بھی یہ خواہش ہے کہ آرمی آفیسر کا رول کروں، اپنا کوئی ڈرامہ دائریکٹ کرنے یا لکھنے کے حوالے ڈاکٹر طارق رحیم شاہ کہتے ہیں کہ میں نے کوئی ڈائریکشن یا ڈرامہ لکھا تو نہیں ایک دفعہ ایک ائیڈیا دیا تھا کہ ہیلتھ سے متعلق کوئی پلے بنایا جائے ،زندگی کی خوشی اور دکھ کے بارے میں ڈاکٹر طارق رحیم نے کہا دکھ اس وقت بہت ہوا تھا جب میرے ماں باپ اس دنیا سے چلے گئے جس کا دکھ اب بھی ہو رہا ہے جیسے اور لوگوں کو ہوتاہے اور خوشی کے ایسے لمحے زندگی میں بہت سے آئے ہیں لیکن پوری زندگی کی اگر سب سی بڑی خوشی کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ میرے بچوں کی شادیاں تھیں جس دن بیٹیوں کی شادیاں ہورہی تھیں اس دن خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئےتھے۔ ابھی پچھلے دنوں بیٹے کی منگنی ہوئی اس دن بھی وہی صورتحال تھی کہ میری آنکھوں میں اسی طرح خوشی کے آنسو تھے ، جب میرا بیٹا پید اتھا ان دنوں میں مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ یہ بچ جائیگا کیونکہ اس وقت اس کا جگر کا م نہیں کررہا تھاتو جب وہ وقت یاد کرتا ہوں کہ مجھے اس کے بچنے کی امید نہیں تھی اور آج اللہ کا شکر ہے کہ وہ جوان ہوگیا اور اس کی منگنی کی جارہی ہے تو یہ میرے لیے خوشی کے ایسالمحات تھے کہ میں ان کو بھول نہیں سکتا،
اگر اپنا کوئی ڈرامہ یا فلم بنائیں تو کس موضع پر بنائیں گے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میں دہشتگردی پر ڈرامہ یا فلم بناناچاہتا ہوں جو حقیقت ہے میں وہ اس میں دکھانا چاہتا ہوں کہ ایک جوان کیسے طالبان یا دہشتگرد بنتا ہے وہ کیا عوامل ہیں جس کی وجہ سے وہ دہشتگرد بن جاتا ہے یہ جو دہشتگرد ہیں یہ کوئی غیر نہیں ہیں ہم میں سے ہیں باہر سے تو کوئی نہیں آتا اگر انڈیا کے ایک یا دو ایجنٹ کسی طریقے سے یہاں آتے ہیں اور لوگوں کو خریدتے ہیں تو جو لڑنے والا ہے وہ کسی اور ملک کا نہیں یہاں کا ہی ہوتا ہے تو میں اس لئے دہشتگردی کے حوالے فلم یا ڈرامہ بنانا چاہتاہوں جس میں یہ ساری حقیقت دکھائوں کہ حقیقت ہے کیا۔ اداکار اور ایک آدمی کی زندگی میں فرق کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اداکار کو لوگ پہچانتے ہیں ایک اداکار کی اپنی ذاتی زندگی نہیں ہوتی ہے وہ ایک پبلک پراپرٹی ہوتا ہےجبکہ عام آدمی کی زندگی محدود ہوتی ہے صرف اس کے رشتہ دار یا علاقے کے لوگ اسے جانتے ہیں ،جب لوگ ملتے ہیں اور پہچانتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہےکیونکہ لوگ بہت پیار سے ملتے ہیں، اداکاری میں اتنا پیسہ تو نہیں ہےلیکن اداکار کیلئے اس کےفین ہی سب کچھ ہوتے ہیں جب ایک اداکار کوفین ملتے ہیں اس کے کام کے تعریف کرتے ہیں اداکار کیلئے وہ سب کچھ ہوتا ہے، اپنے فین کے کےحوالے سے ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں میڈیکل کالج میں تھا اور’’ ناموس‘‘ ڈرامہ چل رہا تھا، میں کالج سے ہاسٹل آیا تو میرے کمرے میں ایک خط پڑا تھا جو کسی فین کا تھا جب خط کھولا تو کوئی محمد یوسف یا محمد یونس کا تھا، بخل منزل برنس روڈکراچی کاتھا ۔ خط میں لکھا تھا کہ میں آپ کا فین ہوں میں شادی شدہ ہوں سات سال ہوئے شادی کو میری کوئی اولاد نہیں میری خواہش ہے کہ ایک دفعہ آپ سے ملاقات ہوجائے،آپ جب بھی کراچی آئیں مجھے خدمت کا موقع دیںا ، خط میں اس نے بہت سی دعائیں لکھی تھیں۔ ان دنوں میں کالج کی طرف سے کراچی کے ٹورکا پروگرام بن گیا جب ہم کراچی پہنچے تو وہ خط میرے پاس ہی تھا میں نے اپنے ایک دوست کو کہا کہ چلو اس بندے کو تلاش کرتے ہیں ہم دونوں تلاش کرتے کرتے اس کے گھرپہنچے گئے اور جیسے ہی گھر کی گھنٹی بجائی اس بندے نے دروازہ کھولا سامنے مجھے دیکھ کر ششدر رہ گیا اور کافی دیر تک مجھے دیکھتا رہا، مطلب وہ اتنا خوش ہوا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں اس کے گھر آیا ہوں پھراس نے مجھے کافی دیر تک گلے لگایا گھر کے اند ر لے گیا اپنی بیوی کو بلایا کہ دیکھو کون آیا ہے انہوں نے ہماری خوب دعوت کی اگلے دن ہماری لئے ٹیکسی بک کرائی اور پوری کراچی کی سیر کرائی اور جس وقت میں اس کے گھر سے واپس جارہا تھا انہوں نے مجھے کچھ تحفے دیئے اور ساتھ میں کوئی ایک سو ایک روپے دیئے کہ جب آپ کی شادی ہو تو کیا پتہ ہم آسکیں کہ نہیں یہ آپ کی ہونیوالی بیوی کی منہ دکھائی ہے۔ میں اب چاہتا ہوں کہ اگر اب بھی مجھے اس شخص کا پتہ مل جائے تو میں اس سے ملاقات ضرور کروں گا۔
کسی بھی شعبہ میں پسندیدہ شخصیت کے بارے میں کہتے ہیں اگر سیاسی شخصیت کے بارے میں بات کریں تو پوری زندگی میں میری آئیڈیل جو شخصیت تھی وہ عبدالغفار خان بابا تھے وہ اس لئےکہ انہوں پاکستان بنتے وقت جو سٹینڈ لیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے پختونوں کیلئے جو کوشش کی انکی جو تعلیمات تھیں میں اس سے اتفاق کرتاہوں یہ الگ

مراد خان (اسلا آباد)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں