صوبے میں غیر مستقل معیشت کو دیر پا ، مستقل اور باقاعدہ معیشت میں تبدیل کیا جائے گا،محمودخان

تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں ہمارے مجموعی اقدامات میں معیار ہی واحد پیمانہ ہو گاجس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے
ہم نظام تعلیم میں کمزوریوں سے آگاہ ہیں اور ان کمزوریوں پر قابو پانے کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کرچکے ہیں
آئس اور دیگر ڈرگز کے خلاف آئندہ قومی پالیسی کی تشکیل میں صوبے کا نمایاں کردار ہو گا، منشیات کے استعمال کو نفسیاتی اور صحت سے متعلق مسئلہ سمجھنا چاہیئے ،وزیراعلی خیبرپختونخوا محمودخان

پشاور (رپورٹ: نواب شیر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں موجود مختلف نوعیت کے وسائل کے مفید استعمال اور تیز رفتار ترقی کیلئے مالی بنیادمضبوط کرنے کے حکومتی عزم کا اظہار کیا ہے ۔ اُنہوں نے عوام کی خوشحالی اور حقیقی فلاح و بہبود کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں غیر مستقل معیشت کو دیر پا ، مستقل اور باقاعدہ معیشت میں تبدیل کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت نے اپنے سابق دور حکومت میں شفافیت ، کرپشن فری حکمرانی اور انصاف کی تیزر فتار فراہمی کیلئے درجنوں قوانین بنائے ہیں۔ ان میں آئس اور دیگرمنشیات کے خلاف اقدامات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اُن کی حکومت بچوں کے ساتھ جبر و زیادتی کی حوصلہ شکنی کرے گی ۔ معاشرے میں موجود اقلیتی طبقات جو دوسروں کے ساتھ اپنے مسائل شیئر نہیں کر سکتے حکومت اُن کو سہولت فراہم کرے گی کیونکہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں آئس ڈرگ کے استعمال کا بخوبی ادراک ہے اور اس رجحان کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات اُٹھانے کیلئے ہم پہلے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پاکستان میں منشیات اور جرائم کے خلاف اقوام متحدہ کے نیشنل گڈ وِل سفیر شہزاد رائے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اُن سے ملاقات کی ۔ شہزاد رائے نے خیبرپختونخو ا کے تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کے تدارک ، ابتدائی تعلیمی اداروں میں مادری زبان میں درس و تدریس کے تعارف اور سیاحت سے متعلقہ سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے جدید نظریات سے آگاہ کیا ۔ محمود خان نے صوبے میں معیاری تعلیم کیلئے ترقیافتہ اقوام کے آزمودہ خطوط پر کام کرنے کا یقین دلایا ۔اُنہوں نے کہاکہ تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں ہمارے مجموعی اقدامات میں معیار ہی واحد پیمانہ ہو گاجس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ ہم نظام تعلیم میں کمزوریوں سے آگاہ ہیں اور ان کمزوریوں پر قابو پانے کیلئے پہلے سے منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔ حکومت نظام تعلیم کی ہمہ گیر اصلاح کیلئے ٹھوس ربط پیدا کرے گی تاکہ یہ بین الاقوامی معیار کے کسی بھی تعلیمی نظام کا مقابلہ کر سکے ۔ اس سلسلے میں ہر سطح پر حکومت کے اقدامات نظر آئیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں بچوں کے داخلے کی مہم کی بھر پور کامیابی کیلئے بھی انتہائی سنجیدہ ہیں۔ ہم نظام تعلیم میں اصلاحات کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے بھی آگاہ ہیں مگر اس کے باوجود ہم جدت پر مبنی اقدامات کے ذریعے تعلیمی نظام کی بہتری کا پختہ عزم کر چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا اپنے تعلیمی اصلاحات کو رول ماڈل بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھے گا۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ اُن کی حکومت صوبے میں دیر پا اقتصادی ترقی کیلئے پر عزم ہے۔ سیاحت ، توانائی اور معدنی ذخائر صوبے کی مستقبل کی معیشت میں استحکام کا اہم ذریعہ ہوں گے ۔ اُن کی حکومت سرمایہ کاروں کو نہ صرف خوش آمدید کہے گی بلکہ اُنہیں سہولت بھی فراہم کرے گی اور اُنہیں سرمائے کی واپسی کی ضمانت بھی دے گی ۔ اس عمل سے صوبے اور اس کے عوام کی خوشحالی کا راستہ ہموار ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پرملاکنڈ اور ہزارہ سمیت صوبے میں سیاحت کی پوٹینشل رکھنے والے مختلف علاقوں کی نشاندہی بھی کی اور کہاکہ ان سیاحتی سپاٹس کو ترقی دے کر صوبے کی معاشی بنیاد کو آسانی سے اُٹھا یا جا سکتا ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ حکومت نہ صرف تعلیمی اداروں میں نشہ آور ڈرگز کی حوصلہ شکنی کیلئے اقدامات کرے گی بلکہ اس رجحان کو پورے معاشرے سے ختم کرنے کیلئے بھی موثر اقدامات اُٹھائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ مضر صحت اور نشہ آور اشیاء کے تدارک کیلئے ضرورت پڑی تو قانون سازی بھی کریں گے ۔ نشے کے عادی افراد کے علاج معالجے کیلئے ہسپتالوں میں سہولیات یقینی بنائی جائیں گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ آئس اور دیگر ڈرگز کے خلاف آئندہ قومی پالیسی کی تشکیل میں اس صوبے کا نمایاں کردار ہو گا۔ اُنہوں نے کہاکہ منشیات کے استعمال کو نفسیاتی اور صحت سے متعلق مسئلہ سمجھنا چاہیئے لیکن ان ڈرگز کی فروخت بھی ایک سنگین جرم قرار پائے گی اور اس جرم کو معاشرے میں فروغ دینے والے مجرم سزا سے بچ نہیں پائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے ابتدائی تعلیمی اداروں میں مادری زبان میں تعلیم کے فروغ کیلئے جدید اصلاحات کے سلسلے میں شہزاد رائے کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے نمائندہ وفد اور صوبائی محکمہ تعلیم کے مابین اجلاس کے انعقاد کا یقین دلایا ۔ اُنہوں نے کہاکہ سابق فاٹا کے نئے اضلاع کا انضمام ، کرپشن کی روک تھام ، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے بعض علاقوں میں فروغ پانے والے جرائم کا خاتمہ ، بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا ازالہ ، میرٹ ، انصاف اور شفافیت کی بالادستی ایسے اہداف ہیں جن پر صوبائی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ صوبے کے مستقبل کو بہتر بنایا جا سکے ۔ اُنہوں نے بچوں سے ظلم و زیادتی کے خلاف نظر آنے والے اقدامات کرنے اور اس سلسلے میں نظام عدل کو بہتر کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ شہزاد رائے نے حکومتی وژن ، پلان اور عزائم کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ اقوام متحدہ آئس ڈرگ ، نارکوٹکس اور محکمہ سماجی بہبود میں مسائل سے نمٹنے کیلئے استعداد کار اور فورس میں اضافے اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ یونٹ کیلئے صوبائی حکومت کی مدد کرے گا۔ اُنہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں میں اصلاحات میں مصروف اپنے ٹرسٹ ” زندگی” کے حوالے سے بھی وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا اور کہاکہ زندگی کا متعارف کردہ ماڈل صوبے کے نظام تعلیم کی مضبوطی کیلئے اپنایا جا سکتا ہے ۔ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم ، آسان طریقے سے تعلیم و تدریس ، اساتذہ کی تربیت وغیرہ اس ماڈل میں شامل ہیں۔ درسی کتب کی مفت فراہمی اور معیار تعلیم میں بین الاقوامی خلق دوست اداروں اور تنظیموں کی معاونت بھی لی جائے گی ۔ ہم اس صوبے کو پورے ملک کیلئے بطور نمونہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں