2018کے انتخابی عمل پر ہمارے تحفظات تاحال برقرار ہیں ،کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،حیدرہوتی

مینڈیٹ چور کیا گیا جو لوگ رات کو اپنے حلقے میں جیت چکے تھے ،اندھیرے میں انہیں ہرا دیا گیا
میاں افتخار حسین یا کسی اور ساتھی کو نقصان پہنچا تو ہماری دعویداری حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ہوگی
تین صوبے کالاباغ ڈیم کو مسترد کر چکے ہیں ہم ڈیموں کے خلاف نہیں بلکہ اپنی تباہی کے خلاف ہیں تاہم متنازعہ معاملات کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے،صدر عوامی نیشنل پارٹی حیدرہوتی کی پریس کانفرنس

پشاور (رپورٹ: نواب شیر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدرامیر حیدر خان ہوتی نے دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے ،2018کے انتخابی عمل پر ہمارے تحفظات تاحال برقرار ہیں اور ان تحفظات کو دور کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ، میاں افتخار حسین یا کسی اور ساتھی کو نقصان پہنچا تو ہماری دعویداری حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف ہوگی۔ضمنی الیکشن میں جنات آ گئے تو نتائج حالیہ انتخابات سے مختلف نہیں ہو نگے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں صوبائی جنرل سیکرٹری سردارحسین بابک اوردیگرقائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کاکہناتھاکہ الیکشن میں جو کچھ بھی ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر بیلٹ بکس کھولے گئے اور نتائج تبدیل کئے گئے ، مینڈیٹ چور کیا گیا جو لوگ رات کو اپنے حلقے میں جیت چکے تھے ،اندھیرے میں انہیں ہرا دیا گیا،انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا مطالبہ ملک میں جمہوریت کی بقا کیلئے ہے اور وزیر اعظم نے اپنی پہلی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا تھا لہٰذا تمام دھاندلی کے خلاف تمام جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل پارلیمانی کمیشن تشکیل دے کر انتخابی عمل میں شریک پولنگ ایجنٹس اور انتخابی عملہ سمیت پولیس اور فوجی اہلکاروں تک تحقیقات کرائی جائیں، انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ ہونے والے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان موجود ہے اور اگر وہی طریقہ کار اپنایا گیا تو نتائج بھی مختلف نہیں ہونگے جس سے ملک کی سیاست میں موجود تلخی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا،کالاباغ ڈیم کے حوالے سے چیف جسٹس کے بیان پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تین صوبے کالاباغ ڈیم کو مسترد کر چکے ہیں ہم ڈیموں کے خلاف نہیں بلکہ اپنی تباہی کے خلاف ہیں تاہم متنازعہ معاملات کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے ، چیف جسٹس ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہیں البتہ انہیں ان متنازعہ معاملات میں الجھنے کی بجائے منڈا اور بھاشا ڈیم پر توجہ مرکوز رکھنی چاہئے ،آرتیکل6کے حوالے سے انہوں نے جواب دیا کہ جس شخص پر آرٹیکل6کا مقدمہ چل رہا ہے اور حقیقت میں جس نے آئین کو پامال کیا پہلے اسے ملک میں واپس لاکر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اے این پی ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سینکڑوں قائدین ، منتخب نمائندوں اور کارکنوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ،انہوں نے کہا کہ میاں افتخار حسین نے جب تک دہشت گردی کے خلاف موقف پیش کیا انہیں دھمکیاں ملتی رہیں لیکن ناقابل فہم بات یہ ہے کہ آج جب وہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں تھریٹ الرٹس کیوں جاری کئے جا رہے ہیں ، دہشت گردوں کا دھاندلی سے کیا کنکشن ہے،؟انہوں نے کہا کہ حکومت کو حملہ آوروں کے علاقے ان کے حلیے اور نام تک پتہ ہو تا ہے تو انہیں روکا کیوں نہیں جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ہر شہری کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ، حکومت صرف تھیٹ الرٹ جاری کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی ، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میاں افتخار حسین یا اے این پی کے کسی ساتھی کو نقصان پہنچا تو ہماری دعویداری حکومت اور ریاستی اداروں پر ہو گی، انہوں نے کہا کہ ہارون بلور شہید اور ابرار خیل شہید کے قتل کے حوالے سے ہمیں آج تک حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا ،جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حکومت نے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نئے قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے جس کی ہم بھرپور مخالفت کریں گے، انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ این ایف سی ایوارڈ کے بعد اٹھارویں ترمیم منظور کی گئی جس میں بیشتر محکمے صوبوں کے حوالے کئے گئے لہٰذا حکومت ایسا کوئی اقدام کرنے سے گریز کرے جس سے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے ، انہوں نے کہا کہ نئے ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ مزید بڑھایا جانا چاہئے،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبے میں انضمام کے بعد قبائلی علاقے بھی صوبوں کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا سابق فاٹا کا حصہ بھی بڑھانے کے ساتھ ساتھ100ارب کے ترقیاتی پیکج پر بھی عمل درآمد کیا جائے تاکہ قبائلی علاقے بھی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکیں ، مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے حکومت نے کوئی مثبت اقدام کیا تو اے این پی اس کی حمایت کرے گی تاہم مہنگائی ،گھریلو اشیا ،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی ،انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ترقی و خوشحالی کے ڈھنڈورے پیٹنے والے آج کس بات کا رونا رو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مالاکنڈ پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے نوٹس لیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں