اپوزیشن کے پرامن احتجاج کا راستہ روک کر حکومت نے اپنی بوکھلاہٹ اشکارا کردی ، میاں افتخارحسین

الیکشن کمیشن مخصوص سیاسی جماعت کی بی ٹیم بن گئی ہے ،نگران حکومت اور سیکورٹی ادارے ان کے ہمنوا ہیں،،،عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین

پشاور(رپورٹ: نواب شیر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن مظاہرے کیلئے دی جانے والی کال پر موجودہ حکومت کے سخت ردعمل کی پرزور مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پشاور میں الیکشن کمیشن کے دفتر جانے والے راستوں کو جس طرح سیل کردیا گیا اور جس طرح پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے جوانوں کو تعنیات کیا گیا، اس سے معلوم ہوتاہے کہ حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور اس بوکھلاہٹ کے عالم میں وہ جمہوری اقدارمزید پامال کررہے ہیں۔ وہ پشاور میں احتجاجی مظاہرین اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے ایک پرامن مظاہرے کی کال دی تھی جس کا مقصد صوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا تھا کیونکہ الیکشن کمیشن شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے انعقاد میں ناکام ہوگئی ہے اور یوں عوامی رائے اور جمہوری عمل کا تقدس پامال ہوا ہے جسے متحدہ اپوزیشن کسی بھی لحاظ سے تسلیم نہیں کرتا اور اس سلسلے میں پرامن احتجاج کرنا اور تحریر و تقریر کے ذریعے اپنا منشاء عوام اور اداروں کو پہنچانا ہمارا حق تھا جس سے آج ہمارے راہنماوں اور کارکنوں کو روکا گیا جس کی عوامی نیشنل پارٹی پرزور مذمت کرتی ہے۔صوبائی حکومت نے پرامن مظاہرین کو سہولیات بہم پہنچانے کے بجائے پولیس اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری کوتعینات کردیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ نگران حکومت بھی جانبدار ہے اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اس جانبداری میں ان کا نگہبان بنا ہوا ہے۔ میاں افتخارحسین نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے خلاف ایسے غیرجمہوری ہتھکنڈوں سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ حکمران عوامی احتجاج سے خائف ہیں ۔اگر ایک طرف الیکشن کمیشن جانبدار اور ایک مخصوص سیاسی جماعت کی بی ٹیم بنی بیٹھی ہے تو دوسری طرف نگران حکومت اور سیکورٹی ادارے ان کے ہمنوا بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے ھاندلی زدہ انتخابات کو تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا ہے اور اے این پی غیر متعلقہ اداروں کی مداخلت کے بغیر فری اینڈ فیئر الیکشن کا مطالبہ کرتی ہے ، 2013کے انتخابی نتائج ہم نے تحفظات کے باوجود قبول کئے لیکن اس بار ہم میدان میں اس لئے آئے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دھاندلی ہوتے دیکھی ہے اس لئے نتائج کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کٹھ پتلی وزیر اعظم تسلیم کریں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ خلاف توقع نجی میڈیا نے ایسا رول اپنا یا ہے جس پر سرکاری میڈیا کا گمان ہوتا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ پرائیویٹ میڈیا صرف حکومتی پالیسی نہ اپنائے، ہم نے میڈیا کی آزادی کیلئے جنگ لڑی ہے اور مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔ آج جب ہم آئینی اور قانونی طریقے سے احتجاج کررہے ہیں تو اس پر میڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔ میاں افتخارحسین نے میڈیا ہاوسز کے مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ مصلحت کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس طرح وہ گھاٹے کا سودا کررہے ہیں۔ جس طرح میڈیا ہاوسز اپنے مفادات کیلئے اپنے چینلوں کے ذریعے مقابلہ کرتے ہیں اسی طرح وہ عوامی حقوق کے حصول کیلئے بھی اٹھ کھڑے ہوں تو ان کا یہ کردار امر ہوجائیگا ورنہ پی ٹی وی کی طرح ان کی ساکھ بھی باقی نہیں رہے گی۔اس لئے میڈیا کی آزادی برقرار رکھنے کیلئے میڈیا ہاوسز خود بھی قدم اٹھائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں