سپریم کوٹ نےتفصیلی فیصلہ جاری کردیا

اسلام آباد(نٹ نیوز) حدیبیہ پیپر ملز کیس سے متعلق نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے 36 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریفرنس کا مقصد ملزمان کو دباؤ میں لانے کے سوا کچھ نہ تھا جب کہ ملزمان کو دفاع کا موقع بھی نہیں دیا گیا
تفصیلی فیصلے کے مطابق حدیبیہ کیس کی اپیل نیب نے 1229 دن تاخیر سے دائر کی، جس کی وجوہات نیب بیان نہیں کرسکا، نیب نے نوازشریف اور شہباز شریف کی خودساختی جلاوطنی کا موقف اپنایا، یہ موقف حقائق کے برخلاف ہے، نوازشریف ،شہباز شریف نے وطن واپسی کے لئے درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کیں،
جبکہ ان دونوں کو باہر بھیجنے والے افراد کے خلاف نیب نے کوئی کارروائی نہیں کی، اسحاق ڈار کا اعترافی بیان ملزمان کی موجودگی میں لیا جانا چاہیئے تھا اور اس پر ملزمان کو جرح کا موقع ملنا چاہیئے تھا، قانونی نکات سے ہٹ کر لیے جانے والے بیان کی کوئی قانونی حثیت نہیں، اسحاق ڈار کا بیان نہ تو چیر مین نیب اور نہ ہی احتساب عدالت کے سامنے لیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیس کی دوبارہ تحقیقات نہ کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں تاہم ہائی کورٹ جج نے دوبارہ تحقیقات نہ کرانے کی وجوہات اپنے فیصلے میں بیان نہیں کیں، ریفرنس کو غیر معینہ مدت تک زیرالتوا رکھ کر قانونی عمل کی نفی کی گئی جبکہ ریفرنس کے وقت نیب پرعزم نظر نہیں آیا اور نیب نے ٹرائل کورٹ میں ملزمان کے خلاف ایک بھی گواہ یا ثبوت پیش نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کسی شخص پر الزام کا فیصلہ جلدازجلد ہونا چاہئے تاکہ قصور وار ملزم کو سزا اور بے قصور بری ہوسکے، غیرمعینہ مدت تک التوا میں رہنے والے مقدمات’انصاف میں تاخیر ناانصافی کے مترادف‘کے محاورے کو سچا ثابت کرتے ہیں، چار سال تک چیئرمین نیب نے ریفرنس بحالی کے لئے کوئی درخواست نہیں دی، پھر جب چیئرمین نیب نے بحالی کی درخواست دی تو کیس کی پیروی نہیں کی۔
تفصیلی فیصلے میں میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ سماعت کے دوران میڈیا کی جانب سے سنجیدہ رپورٹنگ کی گئی جبکہ کچھ میڈیا گروپس نے کیس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی رائے کو بھی شائع کیا، ٹرائل کورٹ میں نیب نے کئی بار التوا کی درخواستیں دیں جس کی کوئی مناسب وجوہات بیان نہیں کیں، جبکہ ٹرائل کورٹ میں ملزمان میں سے کسی نے بھی کیس کو ملتوی کرنے کی استدعا نہیں کی اور ملزمان کی جانب سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے پر نیب متحرک ہوگیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں