قاضی حسین احمد ایک عالمی شخصیت،ہمیں فخرہےکہ انکا تعلق نوشہرہ سےتھا،خدمات تاحیات یادرکھی جائنگی،میاں افتخار حسین کی نوشہرہ میں قاضی حسین احمد برسی تقریب سے خطاب

نوشہرہ(تفہیم ڈاٹ پی کے آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ قاضی حسین احمد مرحوم کی جمہوریت کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔ اور ہیمں فخر ہے کہ ان کا تعلق نوشہرہ سے تھا ۔ آآ کہ بلوچستان میں عدم تحریک اعتماد کے بعد کے پی کے اور سند

ھ کی باری ہوگی تاکہ قبل از وقت عام انتخابات کیلئے راہ ہموار کرکے جمہوریت پر شب خون مارنے کی سازش کی جائے تینوں حکومتوں کو گرانے کی سازش کی جارہی ہے پہلے بلوچستان حکومت اور اس کے بعد کے پی کے اور سندھ حکومت کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایاجارہا ہے تمام سیاسی اور جمہوریت پسند جماعتوں کو مل کر جمہوریت کے خلاف اٹھنے والے ہاتھوں کو روکنا ہوگا کیونکہ جمہوریت کی بقاء کیلئے ہر سیاسی جماعت نے قربانیاں دی ہیں موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدتیں پوری کریں پانچ سال انتظار کیا تو پانچ مہینے کا انتظار کیوں نہیں کیاجاسکتا افغانستان اور پاکستان لازم اور ملزوم ہے پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے پاکستان حکومت اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ملک کی مفاد ات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں تشکیل دے نہ کہ کسی دوسروں کے مفادات کو ترجیح دے امریکی صدر ٹرمپ پاکستان اور افغانستان کے عوام کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کے اعتراف کی بجائے پاکستان سے حساب کتاب کرنے پر اترآیا ہے امریکی صدر ٹرمپ سمیت تمام صدور نے پاکستان اور افغانستان امداد دینے کے عوض پاکستان اور افغانستان میں لاکھوں بچوں کا قتل عام کیا اور امریکہ نے امداد دینے والی رقم اپنی مفادات کے لئے استعمال کیا تمام حساب سود سمیت لیں گے اب تمام اندرونی اور بیرونی پالیسیاں پاکستان اور افغانستان کے مفادات میں بنائی جائے گی ان خیالات کااظہار میاں افتخار حسین نے نوشہرہ پریس کلب میں قاضی حسین احمد مرحوم کی یاد میں چھٹی برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا سیمینار سے وفاقی وزیر اکرم خان درانی، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق احمد خان، ایم این اے صاحبزادہ طارق اللہ اور آصف لقمان قاضی نے بھی خطاب کیا

میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ قاضی حسین احمد نے جمہوریت کی بقاء پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے آخری سانس تک بھرپور جدوجہد کی تھی اور ان کی اس جدوجہد سے آج ملک میں جمہوریت کی فضاء قائم ہے قاضی حسین ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک تحریک کانام ہے ایسی شخصیات تاریخ میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور قاضی حسین احمد کا نام ہمیشہ تاریخ میں زندہ رہے گا انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان اور ولی خان کے فلسفہ عدم تشدد پر کار بند ہیں۔ مگر امریکی صدر ٹرمپ کی اشتعال انگیزی اور خطے میں عدم توازن کی پالیسی اور پاکستان پر بے جاء تنقید کی پرزور مزمت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پختونوں نے بالعموم اور پوری پاکستانی قومی نے بالخصوص جو قربانی دی ہے۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل تلافی نقصان اٹھایا۔ صدر ٹرمپ ہوش کے ناخن لیں اور دینا پر عالمی جنگ مسلط کرنے کی بجائے امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ پاکستان کے اندر موجود مقتدرقوتوں اور اداروں کو امریکی صدر ٹرمپ کے بیان اورامریکی پالیسی اور ارد گردکے ماحول سے سبق سیکھنا چاہیے۔ملک میں جمہوریت کاتسلسل اشد ضروری ہے۔ انتخابات وقت پر ہونے چائیے۔ سینٹ کے انتخابات بھی ہونے چاہیں۔ جو قوتیں جمہوریت کے خلاف نیا کھیل شروع کرنا چاہتی ہے وہ نہ ملک اورنہ اس خطے کے مفادمیں ہے میاں افتخار حسین نے کہا کہ پاکستان انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی جس مالی امداد کی بات کررہے ہیں۔ درحقیقت یہ مالی امداد جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں ملی ہے۔جمہوری حکومتوں نے کبھی بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوے امریکی صدر کے رویہ کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔ اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے۔ جن لوگوں نے افغانستان میں جنگ کو جہاد کانام دیا اے این پی نے اس کوہمیشہ فسادکانام دیا۔امریکہ صرف اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اورنہ صر ف افغانستان بلکہ امت مسلمہ کے بیشتر ممالک میں جنگ مسلط کررکھی ہے ایک طرف بے گناہ پختونوں اور مسلمانوں کاخو ن بہایا جارہا ہے۔دوسری طرف امریکہ گیدڑ بھگیوں پر اتر ایا ہے حکومت پاکستان پاک فوج کو اس وقت ملکی مفاد کے فیصلے کرنے چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانا معنی خیز ہے۔ یہ جمہوریت کے خلاف شب خون مارنے کے لیے کوشش کے مترادف ہے۔ اورملک میں غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے زریعے بحرانی صورت پیدا کرنے کی سازش کے مترادف ہے خدشہ ہے کہ اس کے بعد وزیراعلیٰ پرویز خان خٹک کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور سندھ میں بھی بحران پیدا کرکے تینوں صوبائی اسمبلیوں کو توڑ کر سینٹ کے انتخابات اور 2018 کے انتخابات کوروکنے کی کوشش ہے اور ایسی تمام کوششوں کی اے این پی ہر گز حمایت نہیں کرتی کیونکہ اے این پی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ موجودہ حالات میں ملک کی بقا اور سلامتی کاسوال ہے۔ ملک میں استحکام کی خاطر سینٹ اور عام انتخابات بروقت ہونے چاہیے۔انھوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ادارے اپنا ائینی کردار ادا کریں گے اور ائین کے منافی ہر قسم کے غلط کام کوروکا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ ارمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ کے سینٹ میں دو ٹوک بیان کے باوجود کچھ قوتیں ملک میں افرا تفری اور انتشار کی سیاست کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ قوتیں اس خطے میں بدامنی لاقانونیت اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں ہے جس طرح ایران کی حکومت کے خلاف تحریک شروع کی گئی ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں بھی اس قسم کے حالات پیدا کیے جائیں۔ اس لیے تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر جمہوریت کاراستہ اختیار کرنا چاہے اور 2018 کے انتخابات میں عوام جس کومینڈیٹ دیں اس کااحترام کیا جائے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں