چین اور امریکا میں خاموش سرد جنگ کا آغاز، نائب سربراہ ایسٹ ایشیا مشن سینٹر فار سی آئی اے نےانتہائی خطرناک پیش گوئی کردی

نیویارک(ویب ڈیسک)امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایسٹ ایشیا مشن سینٹر کے نائب سربراہ مائیکل کولنز نے کہا ہے کہ چین نے امریکا کے خلاف خاموش سرد جنگ شروع کر رکھی ہے،چین عالمی سطح پر امریکی پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے، امریکا شمالی کوریائی جوہری پروگرام پر چینی مدد و معاونت کا طلب گار ہے، امریکا اور چین مابین تجارتی جنگ کا بھی آغاز ہو چکا ہے،بحیرہ مشرقی چین کا تنازعہ مشرق بعید کے کریمیا سے مماثلت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک ماہر کے مطابق چین نے امریکا کے خلاف خاموش سرد جنگ شروع کر رکھی ہے۔ ماہر کے مطابق چین امریکا کی جگہ پر عالمی طاقت بننے کی کوشش میں ہے۔امریکی ریاست کولوراڈو کے معتبر ایسپن سکیورٹی فورم کے دوسرے دن امریکی خفیہ ادارے سی آئی کے کے ایسٹ ایشیا مشن سینٹر کے نائب سربراہ مائیکل کولنز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ واضح ہے کہ بیجنگ حکومت کسی بھی صورت میں امریکا سے جنگ کی متمنی نہیں ہے لیکن موجودہ صدر شی جن پنگ کی حکومت مختلف انداز میں امریکا مخالف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔مائیکل کولنز کے مطابق یہ تمام خاموش سرگرمیاں ایک نئے انداز کی سرد جنگ ہیں اور اس کا مقصد چین کو امریکا کی جگہ پر عالمی طاقت تسلیم کروانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سرگرمیاں روس کی کارروائیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ کولنز کے مطابق روسی افعال کو امریکی میڈیا پر تشہیر زیادہ دی جاتی ہے اور اس باعث زیادہ آگہی ہے۔مائیکل کولنز نے واضح کیا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ چین کی امریکا مخالف سرگرمیاں بنیادی طور پر ایک سرد جنگ ہے۔ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ نئی سرد جنگ ساٹھ کی دہائی میں شروع ہونے والی امریکا اور سابقہ سوویت یونین کی سرد جنگ کے دوران طے شدہ تعریف سے مختلف ہے۔امریکا اور چین محصولات کے نفاذ میں عمل اور ردعمل کی پالیسی کے تناظر میں تجارتی جنگ شروع کر چکے ہیں۔امریکی اہلکار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین محصولات کے نفاذ میں عمل اور ردعمل کی پالیسی کے تناظر میں تجارتی جنگ شروع کر چکے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ امریکا شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے میں چین کی مدد و معاونت کا طلب گار ہے۔مائیکل کولنز نے بحیرہ مشرقی چین کے تنازعے کو مشرق بعید کا کریمیا قرار دیا۔ کولنز کے مطابق بحیرہ جنوبی چین پر چین کا ملکیتی دعوی کریمیا کے روس میں ادغام کی طرح ہے۔ اسی فورم میں امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے سربراہ نے امریکا کو درپیش خطرات اور چیلنجز پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ایسپن سکیورٹی فورم میں امریکا کو درپیش سلامتی و اقتصادی مسائل و مشکلات پر فوکس کیا جاتا ہے۔ اس میں امریکی حکومتی اہلکاروں کے علاوہ صحافی، دانشور اور مختلف امور کے ماہرین شریک ہو کر اختلافی و نزاعی امریکی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق ایسپن سکیورٹی فورم میں پیش کی جانے والی تجاویزات امریکی پالیسی کی تشکیل میں بھی سامنے رکھی جاتی ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں