حکومت بنانے کیلئے پیپلزپارٹی سے بات کرنا ہوگی، نوٹس ڈیڑھ کروڑ کا آیا ، ڈھول 40ارب کا بجایا جا رہا ہے:آصف زرداری کی حسین لوائی پر تشدد کی مذمت

کراچی (تفہیم ڈاٹ پی کے آن لائن)پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ حکومت بنانے کیلئے پیپلزپارٹی سے بات کرنا ہوگی ، جو کچھ ہونے جارہا ہے اس کو جمہوری طریقے سے روکیں گے ،حسین لوائی پر تشدد کیا جارہا ہے جس کی مذمت کرتا ہوں،سیاستدان کبھی سیاسی موت نہیں مرتا ۔ہم کو نوٹس ڈیڑھ کروڑ کا آیا ، ڈھول 40ارب کا بجایا جا رہا ہے ۔جو کچھ ہونے جا رہا ہے جمہوری طریقے سے ر وکیں گے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ”محاذ“ میں گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا ہے کہ جو ہم کو نوٹس آیا ہے وہ ڈیڑھ کروڑ اور جو ڈھول بجایا جا رہا ہے وہ 40ارب کا ہے اور ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“ہم نے پہلے بھی ایسے کیسز کا سامنا کیا ہے اور اب بھی کریں گے ۔ ایک باعزت آدمی حسین لوائی کو اٹھا کر لے جایا جائے اور پھر اس پر تشدد کیا جائے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔میں اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں۔ اگر میں کسی کے پاس 50ہزار روپے بھی رکھوا دوں تو وہ بھی واپس لینا مشکل ہے ۔ البتہ میں نے اپنے جاننے والوں کو سندھ میں آکر کاروبار کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ تھر کے منصوبے میں دیگر کمپنیوں کا بھی حصہ ہے اور وہ آئے ہیں اور ہم نے ان کو سہولیات بھی مہیا کی ہیں۔نواز شریف کے سیاست میں مستقبل کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ سیاستدان کبھی بھی سیاسی طور پر نہیں مرتا اور اس لئے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ کوئی سیاستدان ختم ہوگیا ۔ اب ہم اس دیوار پر کھڑے ہیں کہ جو بھی ہونے جارہا ہے اور جوبھی ہونے والا ہے اس کو جمہوری طور پر نہیں ہونے دینا اور جمہوریت کو پٹری سے نہیں اترنے دینا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتساب کا وقت نہیں ہے ۔ کیا جیتنے والے کیس نہیں بھگتے ۔ میں نے اور بی بی شہید نے بھی کیسز بھگتے ہیں۔احتساب الیکشن سے پہلے یا بعد میں ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ مسئلے کاحل نہیں ہے ، ہم الیکشن کا بائیکاٹ کرکے کسی کوموقع نہیں دیں گے ۔ بلوچستان کی حکومت اور کنگ میکر ہونے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جس نے بھی حکومت بنانی ہے اس کو پیپلز پارٹی سے بات کرنا ہوگی ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی بھی کسی غیر جمہوری قوت کے ساتھ اتحاد نہیں کیا ،انہوں نے کہا ایک دفعہ ذوالفقار علی بھٹو اور مفتی محمود کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے جبکہ اس دوران نماز کا وقت ہوجاتا اور مفتی صاحب نماز پڑھنے چلے جاتے تو ذوالفقار علی بھٹونے کہا کہ” مولانا صاحب اگر فرائض 55ہوجاتے تو پھر آپ کیا کرتے ؟ “توجواب میں مولانا نے کہا کہ بھٹو صاحب اگر فرائض 55بھی ہوتے تو پھر بھی آپ ہمارے بغیر حکومت نہیں بنا سکتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بنانے کے لئے بھی اپوزیشن ضروری ہے ۔نوازشریف کے حوالے سے سوال پر سابق صدرنے ایک کنویں میں موجود مینڈک اور بچھو والا قصہ سنا یا اور کہا کہ ایک دفعہ ہم نے ان کو بچایا بھی تھا اور ان کے بڑی جمہوری خیر خواہی کی لیکن ہم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصانات بڑے ہوئے۔ اب ہم ان کیلئے کوئی خیر خواہی شو نہیں کریں گے ۔ہمیں کسی کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن نواز شریف کو حمایت حاصل تھی ۔نواز شریف کی سیاست کا انحصار حالات پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس نے 13سال قید کاٹی ہو اور وہ بندہ نہ بنا ہو! سنوں گا میں سب کی لیکن کرنا میں نے وہ ہے جو پیپلز پارٹی ، پاکستان اور تاریخ کے مفاد میں ہو۔انہوں نے کہا کہ ایک دن ایک ٹرک آیا اور سارے کاغذ اٹھا کر لے گیاجس پر ہم نے ایکشن لیا کہ یہ قواعد کے خلاف ہے اس پر میراخیال تھا کہ نواز شریف نوٹس لیں گے اور ہم معاملات حل کرلیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ڈاکٹر عاصم میرا دوست ہے لیکن شرجیل میمن حکومت سندھ کے وزیر تھے میرے دوست نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی یہ چیزیں دیکھیں ہیں ۔ کونسا ظلم ہے جو میر ے ساتھ نہیں ہوا ہے ؟ تفتیش کے دوران میری ٹانگوں پر بم باندھ دیاگیا ۔ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کے مابین موازنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے شعر پڑھا کہ

میخانے کی توہین ہے ، رندوں کی ہتک ہے

کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

انہوں نے کہا کہ کہاں ذوالفقار علی بھٹو ، کہاں بے نظیر بھٹو اور کہاں نواز شریف اور کہاں مریم نواز ، میں نے نواز شریف سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں نئی جمہوریت بننے جارہی ہے ۔ نوازشریف کا جو ٹرائل ہوا ہے اس میں نواز شریف نے اپنا مقدمہ صحیح طریقے سے نہیں لڑا جس کی وجہ سے ان کوتکالیف ہوئی ہیں۔میرے خلاف جے آئی ٹی بن چکی ہے جس کے چیف نجف مرزا ہیں۔ میری جے آئی ٹی میں فوج ملوث نہیں ہوگی کیونکہ یہ کوئی بین الاقوامی معاملہ نہیں ہے ۔ فوج ایک ادارہ ہے۔ جس ملک میں فوج کا ادارہ ٹوٹ جاتا ہے وہ ملک بھی ٹوٹ جاتا ہے آپ لیبیا سے لیکر افغانستان تک چلے جائیں جہاں بھی فوج کا ادارہ ٹوٹا ملک ٹوٹ گیا ۔ اس لئے فوج کا بطور ادارہ مستحکم ہونا ملک کی سلامتی کے لئے بہت ضروری ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں