مولاناسمیع الحق نےعلمائےکرام ومشائخ سےسعودی عرب سمیت دیگراسلامی ممالک میں منعقدہ کانفرنسوں میں شرکت نہ کرنےکی اپیل کردی!

پشاور(تفہیم ڈاٹ پی کےآن لائن) جمعیت علماء اسلام کے امیر اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے ایک بیان میں پاکستان اور عالم اسلام کے علماء و مشائخ سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں جاری جہاد کے خلاف امریکہ اور مغربی طاقتوں کے حالیہ سازش پر گہری نگاہ رکھتے ہوئے اسے ناکام بنادیں، اور مختلف اسلامی ممالک بشمول سعودی عرب میں منعقد کئے جانے والی کانفرنسوں میں شرکت سے اجتناب کریں کیونکہ ان کانفرنسوں کا بنیادی مقصد نہ صرف افغانستان بلکہ پوری اسلامی دنیا میں امریکی سامراجی جارحیت کے خلاف جہاد کو روکنا ہے، افغانستان میں سامراجی افواج کے سربراہ جنرل نکولسن نے ۱۸مارچ ۲۰۱۸ء کو واضح اعلان کیا تھاکہ اب ہم افغان جہاد کے خلاف مذہبی دباؤ کا بھی سہارا لیں گے جس کا مقصد علما اور دینی طاقتوں کو دھوکے میں رکھ کر انہیں جہاد کے خلاف استعمال کرنا تھا، اس سازش کا آغاز پاکستان میں امن کانفرنسوں کے نام سے ہوا اور پھرانڈونیشا میں اور آخر میں افغانستان میں اس نسخہ کو آزمایا گیا اور اب کل اور پرسوں جدہ او رمکہ معظمہ میں یہ ڈرامہ دہرایا جائے گا،ان کانفرنسوں میں بعض علما ء کے کلمہ حق کہنے او رجہاد کی اہمیت بیان کرنے کے باوجود ان کے بیانات کو دبا کر مقصد برآری پر یعنی اعلامیہ جاری کردیا گیا اورپوری میڈیا نے زوروشور سے اسے پھیلایا اور کسی عالم کے کلمہ حق کہنے کو نظرانداز کیا گیا جبکہ سالہا سال سے جاری اس جہاد میں لاکھوں افراد شہید اور اپاہج ہوئے ،ان حضرات کوا س معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے باز پرس کو ملحوظ رکھنا چاہیے جبکہ ان کانفرنسوں میں دہشت گردی کے نام پر جہاد کی مذمت کی گئی ،امریکی جارحیت اور دہشت گردی کے بارہ میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا، مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اگر جہاد کو مسلم ممالک کے حکمرانوں کی اجازت اور فتویٰ سے مشروط کیا گیا تو قیامت تک جہاد کا نام ونشان ہی نہیں رہے گا، جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیامت تک جاری رہنے کی خبردی ہے اب تک اسلام کے دفاع اور تحفظ کے لئے جتنے جہاد ہوئے اس میں حکمرانوں کی مرضی شامل نہیں تھی،امام سید احمد شہیدؒ ،شیخ عبدالقادر الجزائری افریقہ کے عمر مختار ،محمد احمد مہدی سوڈانی ،ابراہیم بیگ شیخ الہند محمود الحسن جیسے بے شمار زعماء نے مسلمانوں کے دفاع اور اسلام کے تحفظ کے لئے علم جہاد بلند کیا، وقت کے حکمران ان کے خلاف تھے پھر دفاعی جہاد کے لئے کسی کی اجازت ضروری نہیں ۔ کافر کی یلغار کی صورت میں بیوی اپنے شوہر کی اجازت کی پابند نہیں اسوقت کہیں بھی مسلمانوں نے جارحیت نہیں کی بلکہ کشمیر ،فلسطین ،افغانستان ،روہنگیا،برما وغیرہ میں مسلمانوں کو غلام بنا کر جارحیت کی جارہی ہے اگر کوئی ریاست اورحکومت کی اجازت پر بضد ہیں توانہیں معلوم ہونا چاہیے کہ افغانستان میں اس وقت جاری جہاد وہاں کے اسلامی امارت کے جائز اور شرعی حکومت کے حکمران ملا محمد عمر مجاہد کے حکم سے شروع ہوا جبکہ پچانوے فیصد ملک پر ان کی حکومت تھی اور ہزاروں علماء نے اس جہاد کو فرض عین قرار دیا، مولاناسمیع الحق نے کہا کہ ان اسلامی ممالک کو امریکی جارحیت ختم کرانے کی کوشش کرنی چاہیئیں اسلام امن اور آشتی کا علمبردار ہے مگر غیرمسلم اقوام کی جارحیت پرخاموش بیٹھ جانے کی قرآن وسنت ہرگز اجازت نہیں ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں