میرے استاد شیخ احمد یاسین کے بیٹو! بھلا تمہارے جذبوں کو بھی کبھی اسرائیل شکست دے سکے گا؟ شیخ کے بیٹو! تحریر: زبیر منصوری

میرے استاد شیخ احمد یاسین کے بیٹو!
بھلا تمہارے جذبوں کو بھی کبھی اسرائیل شکست دے سکے گا؟
شیخ کے بیٹو!
تمہیں استاد نے فٹبال کے میدانوں سے لیا تھا اور تمہارے سینوں کو امید آزادی یقین اللہ و رسول کی محبت اور اسرائیل سے شدید نفرت کی آگ سے بھر دیا تھا اب بھلا کوئی اس آگ کو بجھا سکے گا؟
شیخ کے بیٹو !
حافظو! قاریو! انجینیروں پی ایچ ڈی ڈاکٹرو! تم نے تو عیسی ع کی فوج کا ہراول دستہ بننا ہے اللہ نے تم سے اپنے خاکے میں رنگ بھروانا ہے تمہارے گرم تازہ توانا لہو کا رنگ !وہ بھلا تمہیں کیسے تنہا چھوڑے گا؟
شیخ کی عزیز بیٹیو!
تمہارے اس جذبہ کو بھلا یہ گولیاں گولے فائرنگ شہادتیں شکست دے سکتی ہیں جو تم کہتی ہو کہ ہم زیادہ بچے پیدا ہی اسی لئے کرتی ہیں کہ تحریک کو تازہ خون مل سکے
شیخ کے بیٹو!
شیروں اور چیتوں کی نسلیں نایاب ہو جاتی ہیں مگر بھلا کبھی اللہ کے نام پر روز زبح ہونے والے بکروں اور گائیوں کی نسل معدوم ہوتے دیکھی ہے؟ پھر اللہ کے نام پر اللہ کے گھر کی حفاظت کرنے والے اللہ کے نعرے بلند کرنے والے اس کی راہ میں سینہ تان کے گولیاں کھانے والے نوجوان ختم ہو جائیں گے۔۔؟
شیخ کے بیٹو اور بیٹیو!
تم جیو ہزاروں سال
تم جیو گے
تم جیتو گے
اور تم کیوں نہ جیتو کہ ہار اور جیت عطا کرنے والا رب ہی تمہارا ہے۔۔۔!
ان شا اللہ
#خود کلامی۔۔۔زبیر منصوری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں