احتساب ہوگا تو سب کے سامنے۔۔۔شہباز شریف نے کمرہ عدالت میں ایسا مطالبہ کردیا کہ ہر کوئی حیران رہ گیا

میں کیس کی کھُلی عدالت میں سماعت چاہتا ہوں۔ شہباز شریف نے مطالبہ کر دیا
شہباز شریف کے مطالبے پر احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے کھُلی عدالت میں سماعت شروع کر دی

لاہور (تفہیم ڈاٹ پی کے آن لائن) مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نیب عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔ شہباز شریف نے مقدمے کی سماعت کھُلی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میں چیمبر میں سماعت نہیں کروانا چاہتا۔ جس پر احتساب عدالت کےجج نجم الحسن نے ان کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے کھُلی عدالت میں سماعت شروع کر دی۔
واضح رہے کہ نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا۔ نیب کے ہاتھوں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں گرفتار کئے گئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی احتساب عدالت پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد احتساب عدالت کے باہر جمع تھی، شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کے لئے کارکن موجود تھے۔ احتساب عدالت کے باہر کارکنوں نے نعرے بازی کی ، شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لایا گیا۔ اس موقع پر کارکنان نیب کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ گئے ، جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کیا ۔ دوسری جانب احتساب عدالت میں پیشی سے قبل شہباز شریف کا طبی معائنہ کیا گیا، ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز نے طبی معائنے میں شہباز شریف کو مکمل فٹ قرار دیا جس کے بعد انہیں احتساب عدالت روانہ کیا گیا،صدر مسلم لیگ ن و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر احتساب عدالت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئےگئے تھے،احتساب عدالت کے باہرچھ سو سے زائد افسران اور اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ احتساب عدالت کے اطراف کے راستوں کو رکاوٹیں لگاکر سیل کردیا گیا ہے۔ ماہر قانون امجد پرویز شہباز شریف کے وکیل مقرر کر دئیے گئے۔ اس حوالے سے امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف کو سپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ سابق وزیر اعلیٰ کو بے بنیاد الزامات میں گرفتار کیا گیا۔جمعہ کی سہ پہر 2 بجکر 55 منٹ پر صدر ن لیگ شہبازشریف اپنی سفید لینڈ کروزر میں صاف پانی سکینڈل میں پیشی کیلئے نیب آفس پہنچے، تقریباً 25 منٹ بعد نیب کا مرکزی اور ذیلی دروازے بند کر دیئے گئے۔ کسی بھی سائل کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی، اس سے قبل کبھی بھی پیشی کے وقت دروازے بند نہیں کیے جاتے تھے، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی 34 منٹ تک نیب آفس میں موجود رہے، ان سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی، باضابطہ طور پر 3 بجکر 29 منٹ پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کیا گیا ، 3 بجکر 35 منٹ پر پریس ریلیز کے ذریعے گرفتاری کی اطلاع جاری کی گئی۔ نیب لاہور سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا گیا ہے، گرفتاری کے بعد اپوزیشن لیڈر کو نیب لاہور کے دفتر میں ہی رکھا گیا،ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے مطابق شہباز شریف سے تفتیش کرنے والی نیب کی تین رکنی ٹیم میں پراسیکیوشن، انویسٹی گیشن اور انٹیلی جنس کے لوگ شامل ہیں، ذرائع کے مطابق نیب نے فواد حسن فواد کے انکشاف پر شہباز شریف کو گرفتار کیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں