جماعت اسلاامی اور الخدمت کی خاطر جان لڑانے والےسینئرترین صحافی رشید صدیقی کی ڈھائی سال سےجاری ڈائیلائسز، الخدمت کےڈائیلائسزسنٹربھی کام نہ آسکے


گذستہ روز سینئرصحافی رشید صدیقی سے ملاقات کے دوران پتہ چلا کہ انہوں نے صحافتی فیلڈ میں اس وقت جب اخبارات کا راج تھا اور صحافت کرنا بھی ایک مشکل ترین کام تھا تب انہوں نے صحافت میں جماعت اسلامی اور الخدمت کیلئے پریس میں ریڑھ کی ہڈی کاکردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف اخبارات میں خبروں بلکہ کالم نویسی پر بھی بھرپور توجہ دی۔دلیرانہ صحافت اور مذہب کوترجیح دینے پر ایک وقت میں اپنے پیٹی بند بھائیوں نےان پر پر جھوٹاٹوہین رسالت کا مقمدمہ بنوایاجسے وہ پانچ سال تک بھگتتے رہے۔حالت یہاں تک پہنچی کہ الیکشن 2002 میں بننے والی ایم ایم اے حکومت بھی مقدمہ واپس نہ لے سکی۔عدالت میں اکیلے لڑتا رہا۔ اس دوران جماعت اسلامی نےپوچھاتک نہیں قطع تعلق رکھاگیاتھا ضمانت کروانےتک کا تکلف نہیں کیا تاہم اللہ نے بری کردیا اسکے بعد مسلسل آزمائشوں کے شکار رہےکیریر داو پر لگی اپنے اخبارجسارت کی ملازمت بھی گئ۔تاہم حوصلہ نہ ہارا اور پرایویٹ سکولوں میں ملازمت شروع کی۔اسکے بعد دوبارہ صحافت میں آنا بڑا مشکل تھا اللہ نے مدد کی۔ایم ایم اے حکومت میں سینیٹرسراج الحق صاحب ک تقریروں کو تحریر کی شکل دے کر اخبارات میں کالم کا نیا طرز ایجاد کیا۔تاہم جس تحریک کے لیے زندگی وقف کر رکھی تھی۔صحافت میں واپسی کے لے اس نے بھی آنکھیں چرائیں۔جس اخباری دفتر میں گئے جماعت کا لیبل پاوں کی بیڑیاں بنی رہی۔بالاخر اخباری صحافت سے کنارہ کش ہونا پڑا۔سکول ملازمت کے ساتھ جماعت میڈیا میں اپنی خدمات پیش کرتےرہے۔بیمار ہوا تو پرایویٹ ملازمت ہاتھ سے گئی اور یوں ایک بڑی آزمائش کے شکار ہوگئے مہنگی بیماری اور گھریلو اخراجات اللہ کے سہارے چلے۔بھائیو اور دوستوں نے سنبھالا دیا اس دوران جماعت کے بہت کم اکابرین نے ایک آدھ دفعہ تیمارداری کی اور پھر بھول ہی گئے تاہم اپنے جمعیت کے دور کے ساتھیوں نے ساتھ دیکر کر زندگی کی شمع جلائے رکھی۔ان سے گفتگو سے معلوم ہوا کہ وہ جماعت اور الخدمت سے اتنے مایوس ہیں کہ ان سے توقع ہی ختم ہوگئی اس وقت ان کے زمانہ طالب علمی کے کچھ دوستوں نے ایک سوسائٹی کے تعاون سےگردوں ٹرانسپلانٹ کے لیے مکمل مالی اور اخلاقی تعاون کا انتظام کر رکھا ہے۔انکا ارادہ ہے کہ اللہ نے زندگی اور صحت دی تو اسی کے لےبقیہ زندگی وقف کردینگے۔۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں