چیف جسٹس سے یہ امیدنہ تھی۔۔۔پاکستان کی محبت میں 35سال بعد فرانس سے وطن آکر بھاری سرمائے سے ہسپتال بنانے والے پاکستانی نژاد فرانسیسی شہری کا تمام جائیدا بیچ کر پاکستان چھوڑنے کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور میں نیشنل ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سنٹر بنانے والے پاکستانی نژاد فرنچ نیشنل محمود بھٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کرایک بار پھر پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ۔محمود بھٹی لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور 35سال تک فرانس میں مقیم رہے ۔وطن کی محبت میں پاکستان واپس آکر خطیر سرمائے سے ہسپتال بنایا لیکن گزشتہ روز چیف جسٹس کی ڈانٹ ڈپٹ سے دلبرداشتہ ہو کر ایک بار پھر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔
محمود بھٹی نے خطیر سرمایہ سے ڈی ایچ اے لاہور میں نیشنل ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سنٹرقائم کیا تھا۔گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کا اچانک دورہ کیا تو انتظامی عہدیداروں کے علاوہ محمود بھٹی خود بھی موجود تھے ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مریضوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تم چوروں کے ہاتھ میں پھنس گئے ہو یہاں سے کیسے نکلوگے ۔چیف جسٹس کو جب محمود بھٹی نے بریف کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے ڈانٹ دیا اور کہا کہ ہاتھ کو ہلائے بغیر بات کریں آپ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مریضوں سے فیس وصول کی ہے ۔ چیف جسٹس محمود بھٹی کو حکم دیا کہ عدالت میں بھی پیش ہونا اور کپڑے تبدیل کرکے آنا۔جناب چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میں اس ہسپتال کی قانونی پوزیشن کا بھی جائزہ لوں گا کہ اسے کس طرح چلایا جارہا ہے جسٹس میاں ثاقب نثار نے موقع پرموجود ایف آئی اے اہلکاروں کوہدایت کی کہ اس ہسپتال کے تمام امور کا جائزہ لیا جائے ۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کے انتظامی عہدیداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تو بہتر آپ مریضوں کو دوگولیاں دے کر مار دیا کرو تاکہ ان کی جان ہی چھوٹ جائے ۔اسی دوران انہوں نے دوبارہ محمود بھٹی کو طلب کرکے سرزنش کی ۔محمود بھٹی نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے کہا کہ حضور میں نے غریبوں کے لئے بہت کام کیا ہے اور مزید بھی آپ جیسا کہیں گے ہم کریں گے لیکن چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے غریبوں کیلئے کچھ نہیں کیا ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں