دھرنے پر بیٹھے فسادیوں نے پولیس اہلکار مارڈ الا،جلائو گھیرائو ،پولیس کی 10 گاڑیاں نذر آتش

اسلام آباد ،روالپنڈی (ویب ڈیسک) فیض آباد میں دھرنے پر بیٹھے مذہبی جماعت کےجنونی پولیس آپریشن کےبعد بپھر گئے ہیں اور ان کے پتھرائو سے نہ صرف ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے بلکہ پولیس حکام سمیت سینکڑوں اہلکار زخمی ہو گئے ہیں-
سواں سے آنے والے مذہنی جماعت کے کارکنوں کے فیض آباد پہنچنے کے بعد صورتحال بدل گئی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پسپا ہوتے چلے گئے اور اب مذہبی جماعت کے ان کارکنوں نے شمس آباد تک کے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے-اطلاعات کے مطابق مذہبی جماعت کے کارکنوں نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے گھر پر دھاوا بول دیا-
پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے علاقے آئی ایٹ فور میں آپریشن کے دوران مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا، جس کے سر پر چوٹ آئی تھی۔
مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں 160 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
پمز اسپتال کے مطابق زخمیوں میں اسسٹنٹ کمشنر عبدالہادی اور ڈی ایس پی عارف شاہ بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پولی کلینک اور بینظیر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے چھٹی پر موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا۔
دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی پہنچا دی گئیں جبکہ آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔
مظاہرین کی جانب سے سرکاری املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس ذرائع کے مطابق پولیس کی دس گاڑیاں بھی نذر آتش کر دی گئی ہیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں