’’سب الزامات بے بنیاد ، مقدمات جھوٹے ہیں‘‘ شہباز شریف نے احتساب عدالت کے جج کے سامنے دبنگ اعلان کر دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیاہے ۔اس موقع پر بق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے وکیل امجد پرویز، صاحبزادے حمزہ شہبازاور سلمان شہباز بھی عدالت میں موجود ہیںجبکہ ن لیگ کے رہنما مریم اورنگزیب،خرم دستگیر،مجتبیٰ شجاع الرحمان ،خواجہ احمدحسان،ملک احمدخان جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود ہیں اور لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر جمع ہے اور ان کی جانب سے اپنے قائد کے حق میں نعرے بازی کی جارہی ہے۔شہباز شریف کے خلاف آشیانہ ہائوسنگ سکینڈل کیس کی سماعت عدالت میں زیادہ رش ہونے کے باعث احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کے چیمبر میں ہی کی جا رہی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نےعدالت کے رو بروموقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اختیارات سے تجاوزکیا، شہباز شریف کے اقدام سے قومی خزانے کوکروڑوں کانقصان ہوا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہبازشریف نے ٹھیکہ لطیف اینڈسنزسے منسوخ کرکے کاساڈویلپرز کودیا، سابق وزیراعلیٰ پنجاب سے مزیدتفتیش درکارہے،جسمانی ریمانڈدیاجائے،عدالت سے استدعا ہے کہ عدالت شہبازشریف کونیب کے حوالے کرے، سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام الزامات بے بنیادہیں،شہبازشریف کے وکیل کی نیب کی شہباز شریف کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی مخالفت کردی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شہباز شریف کے خلاف پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اور کاسا ڈویلپرز کی تحقیقات ہو رہی تھیں، سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب کی گرفتاری تحقیقات کے بعد عمل میں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق نیب حکام نے کہا کہ شہباز شریف نے بطور وزیرِاعلیٰ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ آشیانہ منصوبے کا ٹھیکہ بسم اللہ کمپنی کو نوازنے کے لیے دیا گیا جس سے قومی خزانے کو نقصان ہوا، دو ہزار کنال سے زائد اراضی کا ٹھیکہ دار کو فائدہ پہنچایا گیا۔سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کی وجوہات جاری کرتے ہوئے نیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور فواد حسن فواد کے ذریعے پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹرز پر دباؤ ڈالا۔آشیانہ اقبال کی ڈویلپمنٹ کا ٹھیکہ لینے والی لطیف اینڈ سنز کا معاہدہ غیر قانونی طور منسوخ کیا گیا اور غیر قانونی طور پر پی ایل ڈی سی سے منصوبہ ایل ڈی اے کو منتقل کرنے کے احکامات دیئے۔نیب کے مطابق پرائیویٹ پبلک پارٹنرشب کے تحت من پسند کمپنی کو نوازا گیا، شہباز شریف کے غیر قانونی اقدام سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں