آصف زرداری کاپی ٹی آئی قیادت سے رابطے کاانکشاف

آصف زرداری کاپی ٹی آئی قیادت سے رابطے کاانکشاف
آصف زرداری صدارتی الیکشن کیلئے پی ٹی آئی اوراتحادیوں سے بھی رابطے میں تھے،آخری لمحے پرجاکرسب ٹھس ہوگئے،اگر ن لیگ اعتزاز احسن کے نام پرمان جاتی توپیپلزپارٹی رضا ربانی کوبھی لاسکتی تھی۔سینئرتجزیہ کارڈاکٹر شاہد مسعود کی گفتگو

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شا ہد مسعود نے کہا ہے کہ آصف زرداری پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں تھے، آخری لمحے پرجاکرسب ٹھس ہوگئے،اگر ن لیگ اعتزاز احسن کے نام پرمان جاتی توپیپلزپارٹی رضا ربانی کوبھی لاسکتی تھی۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی الیکشن کے معاملے پرآصف زرداری پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں ہیں۔زرداری تحریک انصاف کے لوگوں اور ان کے اتحادیوں سے بھی رابطے میں تھے۔دیکھیں جب احتساب ہوگا توسب کا ہوگا اس میں پی ٹی آئی اور باقی سب شامل ہوں گے۔۔زرداری صاحب نے اپنا کھیل ڈالا ہوا تھا کہ مجھے بتاؤ میں ایسے ایسے بلاک کردوں گا۔انہوں نے کہا کہ آخری لمحے پرجاکرسب ٹھس ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ اب تووقت ہی ختم ہوگیا ہے آج 12بجے تک کاغذات نامزدگی کا وقت ہے جبکہ آصف زرداری کی ایف آئی اے میں پیشی بھی ہے۔ اسی طرح پرسوں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس لگ گیا توکیا ہوگا؟ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مولانافضل الرحمن نے آصف زرداری کوصدر کیلئے لیکر آنا تھا۔شہبازشریف ماضی میں آصف زرداری پرتنقید کرتے رہے۔اگر ن لیگ اعتزاز احسن کے نام پرمان جاتی توپیپلزپارٹی رضا ربانی کوبھی لاسکتی تھی۔اب توشاید رضا ربانی کے نام پربھی اتفاق نہ ہوسکے۔آصف زرداری کوکسی نے پیغام دیا تھا کہ آپ کی ڈیل ہوگئی ہے۔اس موقع پرظفرہلالی نے کہا کہ حکومت کے پاس صدر کیلئے نمبرز پورے ہیں۔ خفیہ رائے شماری میں پیسا چلتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اعتزازاحسن کے نام پرانکارسے سخت ناراضی کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کوسمجھنا چاہیے سیاست میں ضد اچھی نہیں ہوتی،اعتزازاحسن اس وقت نوازشریف کے وکیل بنے جب وہ ڈکٹیٹرمشرف کے قیدی تھے، ن لیگ وہ سب بھول گئی جواعتزازاحسن اورپیپلزپارٹی نےان کیلئے کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق صدرآصف زرداری نے پارٹی رہنماؤں کواپنے موقف سے آگاہ کردیا۔ سابق صدر آصف زرداری نے واضح کیا کہ وہ کیوں اعتزازاحسن کا نام واپس لینے پرتیارنہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعتزازاحسن اس وقت نوازشریف کے وکیل بنے جب وہ ڈکٹیٹرمشرف کے قیدی تھے۔ ن لیگ وہ سب بھول گئی جواعتزازاحسن اورپیپلزپارٹی نےان کیلئے کیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں