کراچی کو پُر امن اور خوشحال بنانے کے لیےسینیٹرسراج الحق کی بڑی تجویز،کراچی کو اس وقت باہمی رابطوں، امن اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے.سینیٹرسراج الحق

کراچی کو پُر امن اور خوشحال بنانے کے لیےسینیٹرسراج الحق کی بڑی تجویز،کراچی کو اس وقت باہمی رابطوں، امن اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے.سینیٹرسراج الحق

کراچی(تفہیم ڈاٹ پی کے آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی کو اس وقت باہمی رابطوں، امن اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ، اس شہر کے مستقبل سے ہی ہمارے ملک کا مستقبل وابستہ ہے ،حکومتوں اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ اس شہر کو منظم ، خوشحال اور پُر امن بنانے اور ترقی دینے میں اپنا کردار اداکریں ۔اگر کراچی سیاسی اور معاشی لحاظ سے مستحکم نہیں ہے تو پاکستان کو بھی سیاسی ومعاشی استحکام حاصل نہیں ہوسکتا ۔ کراچی عالمی سازشوں کا شکار رہا ہے اور اسلامی ممالک کی طرح کراچی بھی دشمنوں کے نشانے پر ہے ، کراچی ملک کی معاشی اور نظریاتی شہہ رگ ہے ، دشمن چاہتا ہے کہ کراچی کو تباہ کر کے ملک کو بھی تباہ کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کے تحت معززین شہر ،سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں ، تاجروں ، صنعتکاروں ، وکلائ، صحافیوں،علماءکرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے اعزاز میں دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ آج کراچی کے عوام پانی کو ترس رہے ہیں ،انسان چاند پر جاچکا ہے اور مریخ پر جانے کی تیاریاں کررہا ہے لیکن کراچی کے عوام کو پینے کا پانی تک میسر نہیں ، حکومتوں کے مفادات اور کرپشن کی وجہ سے کراچی میں پانی ،صحت، صفائی ، روزگاراور دیگر مسائل حل نہیں ہوئے ، انہوں نے کہاکہ کراچی میں خوف کا ماحول رہا ہے اور اس ماحول میں ترقی کسی طرح بھی ممکن نہیں ، گزشتہ تین عشرے اس شہر نے خوف کے سائے میں گزارے یہاں ہزاروں انسان قتل کیے گئے ، 2018کا الیکشن اس شہر کے لوگوں کو موقع دے رہا ہے کہ ایسا لوگوں کو منتخب کریں جو کراچی کے مستقبل کو بنائیں اور سنواریں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت اور انتخابات کو یرغمال بنایا جاتا رہا ہے اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیئے ، عوام کو آزادانہ اور صاف شفاف انتخابات کا ماحول ملنا چاہیئے ، ملک اگر ترقی کرے گا تو صرف جمہوری روایات کے ذریعے ہی ترقی کرے گا ۔پاکستان دولخت صرف اسی وجہ سے ہوا کہ جمہوریت اور اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا ،ملک کے اندر آج ایک جمہوری دور ختم ہوا ہے اور سب ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں ، ہم نگراں وزیر اعظم کو بھی مبارکباد دیتے ہیں کہ اللہ ان کو کامیاب کرے اور ایک شفاف الیکشن کرانے میں بھی وہ سرخرو ہوں۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ، عوام کے لیے تعلیم وصحت اور دیگر مسائل موجود ہیں ، لوڈ شیڈنگ جاری ہے ، ان حالات کے آخر ذمہ دار کون ہیں ۔یہ حکمران اور حکومتیں ہی ان حالات کے ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں احتساب کے ادارے بھی ناکام ہوگئے ہیں اور نیب کا ادارہ بھی سو فیصد ناکام ہوگیا ہے ، اس کا وہ کردار نظر نہیں آرہا جو ہونا چاہیئے تھا ،آج عدالتوں کے دروازے مظلوم اور غریب آدمی کے لیے بند ہیں، جہاں عدالتی ،احتساب اور تعلیم کا نظام درست نہ ہو وہاں کے عوام کو سکھ اور چین کیسے مل سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب سیاسی اداروں سے عوام کو سہارا اور سائباں نہیں مل سکا تو عوام غیر سیاسی اداروں پر بھروسہ کرلیتے ہیں ، اگر ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہوتی تو تو ملک اور قوم ترقی کرتے اور عوام ان مسائل سے دوچار نہ ہوتے جن سے وہ آج دوچار ہیں ، غریب اور مزدور آج بھی پریشان حال ہیں اور نوجوان ڈگریاں اُٹھائے روزگار کے متلاشی ہیں۔آج سیاست اور جمہوریت پر ظالم جاگیرداروں اور وڈیروں کا قبضہ ہے ، سیاسی جماعتو ں میں ٹکٹوں کی تقسیم میں غریبوں اور مظلوموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، سیاسی پارٹیاں بھی ٹکٹیں بااثر شخصیات ، امیروں ، وڈیروں اور جاگیرداروں کو دیتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج ہماری معیشت سود ی پر مبنی ہے ، سودی معیشت سے ملک کو کبھی ترقی اور خوشحال حاصل نہیں کرسکتا ۔
قبل ازیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جامع مسجد حرمین ،سوسائٹی میں خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رمضان جنت کے حصول اور دوزخ سے نجات کا پیغام دیتا ہے ، اللہ نے مومنوں کے لئے جنت کی نوید سنا دی ہے ، حکومت نے ملکی ترقی کےلئے قرضے لے کر اربوں روپے کا بجٹ پیش کیا ، لیکن قرضوں کی ادائیگی کے لئے حکومت کو 2 ہزار ارب سے زائد سود کی مد میں دینا ہوں گے ، پہلے ہی قوم کا بچہ بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہے ، حکومت کے اس اقدام سے ملک مزید قرض میں ڈوب گیا ہے ، آج ملک میں انگریزوں کے قانون کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں ، جہاں انگریزوں کا قانون چلتا ہو ، وہاں پر مسلمانوں کو انصاف نہیں مل سکتا ۔ سراج الحق نے کہا کہ آج ملک میں تجارت اور لین دین کا نظام سود پر قائم ہے ، سودی نظام یہودیوں کا قائم کردہ ہے ، جس کے باعث آج ملک قرضوں میں ڈب گیا ہے ، مسلمانوں کو سودی نظام کے خلاف جہاد کرنا ہوگا ، مسلمان کو دنیا بھر میں روزہ ، نماز اور قرآن کا پیغام پھیلانا ہوگا اور بنی کی سنتوں کو اپنانا ہوگا ۔ سراج الحق نے کہا کہ رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں ، نیک سعادتوں اور روحانی مسرتوں کا مہینہ ہے ، رمضان المبارک امت کے لئے خالق کائنات کی طرف سے عظیم الشان تحفہ ہے ، جو گناہوں سے معافی ، رب کی رضا مندی ، جنت کاپ حصول اور دوزخ سے نجات کا پیغام دیتا ہے ، اگر دنیا کا ہر فرد بھی پوری دنیا کے برابر جنت میں جگہ لے تو جنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دنیا کی آسائشوں کے لئے اپنی آخرت کو تباہ نہیں کرنا چاہیئے، رمضان میں اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے اور اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کرنا کا عہد کیا جائے اور اللہ کا خوف دل میں پیدا کیا جائے اور اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے مطابق گزارا جائے ، رمضان میں قرآن سے تعلق کو مضبوط بنایا جائے ۔ سراج الحق نے کہا کہ مسلمان حکومت ، سیاست ، تجارت ، رشتہ داری ، عدل و انصاف اور زندگی کے ہر فیصلے نبی کی شریعت کے مطابق کریں ،رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ اپنے انعامات کی بارش کرتا ہے ، جن میں تمام کلمہ گو مسلمانوں کو نیکیاں سمیٹنے کا موقع ملتا ہے ، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں