خودبھی اورجماعت کوبھی مشکل میں ڈال دیا…….تحریر: رشید احمدصدیقی

خودبھی اورجماعت کوبھی مشکل میں ڈال دیا…….تحریر: رشید احمدصدیقی

کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان میں فوج انتہائی طاقتور ہے اور اس کو اقتدار کی بو لگی ہو ئی ہے۔اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا اب تک تک تو کوئی سیاستدان نہ کر سکا۔۔۔کوئی چاہے بھی تو ترک ماڈل کو اپنانا ہوگا جہاں فوج ہمارے مقابلہ میں زیادہ طاقتور اس لحاظ سے تھی کہ اسے آئین میں اختیار صل تھا۔نوا زشریف حکمت سے عاری اورطاقت کے بھوکے سیاستدان ہیں۔1988 میں محمد خان جونیجو سے جنرل ضٰیا کی اشیرباد سے بغاوت کی1990 میں مرزا اسلم بیگ کی مدد سے وزیر اعظم بنے 1993 میں غلام اسحاق کو گرانے کی کوشش میں جنرل وحید کاکڑ کے ہاتھوں اقتدار سے ہاتھ دوئے۔1998میں جنرل جہانگیر کرامت کو برطرف کیا۔وہ اسے پاک فوج کو کنٹرول میں لانے کے کی ایک بڑی کامیابی سمھ رہے تھے۔لیکن فوج یہ بات بھولی نہیں تھی۔جہانگیر کرامت کی پالیسی کو مشرف نے جاری رکھا۔میاں صاحب نے ان کو بھی چلتا کیالیکن وار الٹا پڑا اور دو تہائی اکثریت کو رخصت ہونا پڑا۔جنرل راحیل شائد سب سے طاقتور جرنیل تے۔خارجہ اور داخلہ پالیسیوں پر ان کا مکمل کنٹرول تھا۔نواز شریف ان کا تو بال بیکا نہ کر سکا البتہ مشرف پر ہاتھ ڈالا لیکن اس میں بھی جنرل راحیل مشرف کو راستہ دینے میں کامیاب رہا۔جنرل راحیل کو توسیع نہ دے کر وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس بار میں فوج کو زیر دام لانے میں کامیاب ہو گیا۔اس دوران کلبھوشن اور نواز شریف کی سٹیل ملز سے را کے ایجنٹوں کی گرفتاری پر فوج اور ان کے درمیان شدید تلخی آگئی تھی۔ڈان لیکس اس سلسلے کی کڑی تھی اور اس پر انکوائری ہو رہی تھی۔جنرل راحیل ریٹائر ہوئے تو میاں صاحب سمجھے اب فوج میرے کنٹرول میں آ چکی ہے۔جنرل باجوہ مزاج کے مدھم ہے ۔میاں صاحب اس سے بھی غلط فہی میں مبتلا ہو گئے۔ان سے پہلی سرکاری ملاقات یوں ہوئی کہ جنرل جب وزیر اعظم ہاوس آرہے تھے تو واک تھرو گیٹ سے گزرے۔یہ ایک پیغام تھا کہ عوامی حکومت نے فوج کو زیر کر لیا ہے۔پہلے آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات یوں ہوتی تھی کہ مہمان خانہ میں صوفے کے ایک کونے میں وزیر اعظم اور دوسرے میں آرمی چیف بیٹھے ہو تے تھے۔گویا درجہ کی برابری کی سطح کی ملاقات ہوتی تھی۔نواز شریف نے ان کو وزیر اعظم کے دفتر میں میز کی دوسری طرف کرسی پر بٹھا کر ایک ملاقاتی کا درجہ دیا اور پیغام بھی کہ آپ میرے ماتحت ہیں۔
بے شک فوج وزیر اعظم کی ماتحت ہے لیکن پاکستان میں جمہوریت اور وزیر اعظم ابھی اتنی مظبوط نہیں۔کلبھوشن اور سٹیل ملز سے را کے ایجنٹوں کی گرفتاری کا نواز شریف نے برا منایا۔اس پر فوج اور ان میں تلخی ہوئی۔فوج کا موقف تھا کہ اینٹلی جنس کی اطلاع پر باہر کے ایجنٹ جہاں بھی ہو ہم اس کو پکڑیں گے۔نواز شریف اس موقف کو نہیں مانے اور ڈان لیکس کی صورت میں یہ خبر باہر لائی گئی کہ فوج جمہوری حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہے۔اس کو فوج ہضم نہ کر پائی انکوائری ہوئی اور نواز شریف کے چہیتے وزیر اطلاعات پرویز رشید کو جانا پڑ گیا۔ڈان لیکس کی سازش میں مریم نواز کا نام بھی تھا ۔وزیر اطلاعات کے استعفیٰ کو فوج نے قبول نہیں کیا اور آئی ایس پی آر نے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کرکے حکومت کا موقف مسترد کر دیا گیا۔شدید تناؤ زیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کی صورت میں ختم ہوئی۔
اس دوران پانامہ لیکس میں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ ہوا۔ان کو یہ زعم تھا کہ سپریم کورٹ ان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکتی۔چودھری نثار نے ان کو مشورہ دیا کہ یہ جنگ عدالت کے بجائے پارلیمنٹ میں لڑی جائے لیکن وہ نہیں مانے۔سپریم کورٹ نے کمال مہارت سے جان خلاصی کرتے ہوئے گیند جے آئی ٹی کے کورٹ میں ڈال دی۔جے آئی ٹی میں تین افراد کا تعلق فوج سے تھا۔ چوہدری نثار نے ایک بار پر مشورہ دیا کہ آرمی چیف سے ملاقات کرکے کہ فوج کو درمیان سے نکال دیں لیکن میاں صاحب طاقت کے نشے میں مقابلہ پر اتر آئے۔اور اقتدار سے ہاتھ دو بیٹھے۔
مجھے کیوں نکالا؟ کے نعرے کے ساتھ میاں صاب عدلیہ اور فوج کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی پر چل نکلے۔عام تاثریہ تھا کہ وہ اداروں کے ساتھ چل نہیں سکتے لیکن شہباز شریف قابل قبول ہیں۔اھوں تین بار وزارت عظمیٰ کے مزے لیے تھے۔بہتر پالسیی یہی تھی کہ شہباز شریف کے لیے راستہ چھوڑ دیتے۔دوسری طرف پارٹی کے طاقتور لیڈر چوہدری نثار تھے۔میاں صاحب نے دونوں کو چھوڑ کر مریم نواز کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔حالانکہ اسٹیبلشمنٹ کی کتاب میں وہ بلیک لسٹ ہو چکی تھی۔میاں صاحب پارٹی سربراہی کے لیے بھی ناہل ہوئے تو گمنام یعقوب ناصر کو قائمقام بنایا اور پارلیمنٹ سے قانون منظور کروا کر دوبارہ پارٹی سربراہ بن گئے۔چودھری نثار کو تو پارٹی سے عملاً بے دخل کیا اور شہباز شریف کو پیغام دیا کہ آپ وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ لیکن جب پارٹی صدارت سے بھی نااہل ہوئے اور نیب میں بری طرح پھنس گئے تو مجبوراً شہباز شریف کو پارٹی صدر بنوایا۔
اب بھی موقع تھا کہ تین بار سابق وزیر اعظم کے طور پر ریٹائرمنٹ کی زدگی کو ترجیح دیتے لیکن انھوں نے مجھے کیوں نکالا کے ساتھ خلائی مخلوق کا نعرہ بھی بلند کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے بلوچستان حکومت ہاتھ سے گئی۔پھراکثریت کے باوجود سینیٹ چئیرمین شپ ہار گئے۔اور اب تو ایم این ایز اور ایم پیز کے نکلنے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شہباز شریف جو ہر لحاظ سے اسٹیبلشمنٹ کے لیے عمران خان کے مقابلے میں زیادہ موزون تھے اب ان کو اپنے ایم این ایز اور الیکٹیبلز سنبھالنامشکل ہو رہا ہے۔تمام راستے بند دیکھ کر نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستان کے غیر ریاستی عناصر کے ملوث ہونے کی بات کرکے پوری بھارت پالیسی کو داؤ پر لگا دیا۔تین بار وزیر اعظم رہنے کی وجہ سے ان کے سینے میں ملکی سلامتی کے بے شمار ارز ہیں۔یہ بات کرکے انھوں نے اپنے وزیر اعظم کو مشکل میں ڈال دیا۔شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ان کے ا س بیان کی مذمت کی گئی۔آگے کیا ہو گا فی الالحال کچھ کہنا مشکل ہے لیکن نواز شریف نے اپنے آپ اور اپنی جماعت کومشکل میں ڈال دیا ہے۔
نوا زشریف نکالے جانے کے بعد اپنے آپ کومظلوم ثابت کرنے میں کامیاب رہے۔لیکن ان کے سات

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں