ملالہ گوگولی لگنےکی مذمت لیکن۔۔۔۔۔! مولانافضل الرحمان نےمردان جلسہ عام میں بڑاسوال اٹھادیا

مردان(تفہیم ڈاٹ پی کے آن لائن)متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکہ قوموں کی آزادی چھین رہا ہے اور اقوام متحدہ ہم جنس پرستی کی حوصلہ افزائی لیکن انسان کی حقوق کی پامالی پر خاموش ہے۔ملالہ کو گولی لگنے کی مذمت کرتے ہیں لیکن اگر مذہب کے خلاف اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان اسلام کے نام پر مغرض وجود میں آیا ہے قائد اعظم کے نام لیوا یاد رکھے کہ قائد نے معیشت کی بنیاد اسلام کی اصولوں پر رکھی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ مغرب کی معیشت نے دنیا کو جنگ اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ستر سال سے پاکستان میں سودی کاروباری کو تحفظ دیا جا رہے اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات اور وفاقی شرعی عدالت سود کے خلاف فیصلے اور متبادل نظام دے چکی ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا پاکستان کی سیاست پر مذہب بے زار قوتوں کا قبضہ ہے اور وہ اسلام کی عملی نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ ملک کے معاشی نظام کو مغربی اصولوں پر استور کرنا چاہتے ہیں۔فحاشی غریانی اور جنسی بے راہ روی کو اپنا حق تصور کرتے ہیں مغربی ترجیحات انکی ترجیحات ہے دین اسلام اور پیغمبر اسلام کے تعلیمات کا خود کو رہنمائی کا محتاج نہیں سمجھتے۔روشن خیالی اور جدت پسندی آج کا نہیں ہر زمانے کا مسئلہ رہا ہے۔مولانا فضل الرحما ن نے کہاکہ مغرب کے ایجنڈے کو پاکستان میں لاگو ہونے نہیں دیں گے اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ مقصود ہے تو اقتدار ایم ایم اے کے حوالے کیا جائے۔اس وقت پتہ نہیں کہ یہاں کس کی حکومت ہے جو خود کو حکمران سمجھتے ہیں ان بے چاروں کو روزانہ عدالتوں میں گسھٹا جا رہا ہے پاکستان آج بین الاقومی دباؤ میں ہے ہماری سیاست اور پارلیمنٹ آزاد نہیں اگر ہوتی تو یہاں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد ہو تا ۔ایم ایم اے بنی تو پختونوں کے نام نہاد ٹھیکداروں کو ان کا حق یاد آگیا۔یہ عناصر سوات میں آپریشن کے دوران خاموش اور دوسرے صف میں کھڑے تھے جو عناصر پاکستان کو قومیت کے نام پر توڑنا چاہتے ہیں اور ہمارے جوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنے کے درپے ہیں ہم نے ان کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے آئین کا ساتھ دیا ۔انہوں نے کہاکہ جب تک ہم زندہ ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔مستقبل دین اسلام کا ہے اور ہم اس نظام کو عملی جامہ پہنا کر دم لیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں