کرپشن کے سات شوکیس…! آصف لقمان قاضی کے انکشافات

نوشہرہ(رپورٹ: فضل نبی) چیف جسٹس خیبر پختون نخوا کے سات صوبائی اداروں میں کرپشن کی انکوائری کریں۔ وزیراعلی اقرباپروری ، بدعنوانی اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اصف لقمان قاضی نے ڈاگ اسماعیل خیل میں متحدہ مجلس عمل کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا پراجیکٹ پشاور میڑو بس ہے جسے چار سال تک وزیراعلی جنگلہ بس کہتے رہے۔ اس پراجیکٹ میں وزیراعلی مجرمانہ غفلت اور کرپشن میں ملوث ہیں۔ باربار ڈیزائن کی تبدیلی سے ٹھیکیداروں کو من مانی کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔میڑوبس پراجیکٹ میگا کرپشن کے لیے شروع کیاگیاہے۔ دوسرا ادارہ بجلی کی پیداورار کا ادارہ پیڈو ہے جس میں اپنا نور نظر چیف ایکزیکٹو تعینات کیا گیا اور سینکڑوں افراد کو غیر قانونی بھرتی کیا گیا۔جس سے صوبائی خزانے کو ماہانہ کڑوڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ اس ادارے میں پی ٹی ائی کے رہنما اسد عمر بے جامداخلت کرتے اور اپنی سابقہ کمپنی اینگرو سے سینکڑوں افراد کو غیر قانونی بھرتی کیاگیا تیسرا ادارہ جو کرپشن کا شوکیس ہے وہ محکمہ معدنیات ہے جس کے سابق وزیر نے خود پی ٹی ائی کے خلاف چارج شیٹ عائد کی ۔ ضیا ء اللہ افریدی نے وزیر اعلی کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کئے۔ چوتھا ادارہ خیبر پختونحوا اکنامک زون کمپنی ہے ۔ جہاں سے ہرماہ ساڑھے چار کروڑ روپے تنخواہ وصول کی جاتی ہے ۔ لیکن پانچ سال میں کارگردگی صفر ہے وزیراعلی بتائیں پانچ پانچ لاکھ تنخواہیں وصول کرنے والے کون لوگ ہیں۔ اور پانچ سال کے دوران اکنامک زون کمپنی نے کیا کارگردگی دکھائی ہے۔ پانچواں پراجیکٹ بلین ٹری سونامی ہے جس میں بدعنوانی کے گواہ خود محکمہ جنگلات کے افسران ہیں ۔ بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ذرلیع قوم کی انکھوں میں دھول جھونکی گئی ہے۔ چھٹا پراجیکٹ دریائے کابل پر پشتے لگانے کا 34ارب روپے کا پراجیکٹ ہے جس کے ذریعے سے ٹھیکیداروں کے مافیا کو پیسہ بنانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اور پتھر دریائے کابل میں پھینک کر جعلی بل بنائے گئے۔ کرپشن کا ساتواں شوکیس ضلع نوشہرہ میں سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارئمنٹ کے ٹھیکے ہیں۔ اپنے رشتہ دار کو ایکسئن تعینات کرکے سڑکیں بنانے کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی۔ انہوں نے کہا چیف جسٹس وزیراعلی خیبرپختونخوا کی کرپشن کے سات شوکیسوں کی ازخود تحقیقات کروائیں۔کیونکہ صوبائی احتساب اداررہ خود اپنے وزیراعلی کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتا اگر چیف جسٹس واقعی بے لاگ احتساب کرنا چاہیتے ہیں۔ تو پھر انہیں وزیراعلی خیبرپختونخوا کے خلاف کاروائی کرکے اسے ثابت کرنا ہوگا۔۔۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں