عافیہ صدیقی بے حس قوم کی ایک بدقسمت بیٹی – عظیم الرحمن عثمانی

عافیہ صدیقی بے حس قوم کی ایک بدقسمت بیٹی – عظیم الرحمن عثمانی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی وطن عزیز کی وہ بدقسمت بیٹی ہے جس کے ساتھ ظلم کا ایسا پہاڑ توڑا گیا جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ عافیہ صدیقی شہر قائد کراچی میں پیدا ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلی گئی۔ آپ نے ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ یعنی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ عافیہ کا رجحان اسلامی تھا جس میں قرآن حکیم کی تعلیم سے لے کر مختلف چیرٹی آرگنایزشن سے وابستگی شامل تھی۔ 2001ء میں نائن الیون (9/11) کا سانحہ پیش آیا تو امریکی خفیہ ایجنسیاں اس پلان کے ذمہ داران کو ڈھونڈھنے میں لگ گئیں۔ ڈاکٹر عافیہ کی پی ایچ ڈی ڈگری 2002ء میں اختتام پذیر ہوئی تو وہ واپس کراچی آگئی۔ واپسی کے فوری بعد ہی آپ کی اپنے شوہر ڈاکٹر امجد خان سے طلاق ہوگئی۔ اس صدمے سے آپ کے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ چل بسے۔ یہ عافیہ کے لیے ایک سخت وقت تھا اور وہ ڈپریشن میں تھیں۔ دوسری طرف امریکہ نے نائن الیون کے ذمہ داران میں سے سات مطلوب افراد کی فہرست اور پھر تصاویر جاری کیں جو ان کے بقول اس سارے پلان کے فنانسراور ماسٹر مائنڈ تھے۔ ان میں سے ایک نام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھی تھا۔ کچھ امریکی صحافی یہ بھی کہتے ہیں کہ القاعدہ کا مرکزی رہنما شیخ خالد محمود جو کراچی سے ان دنوں گرفتار ہوا تھا، اس نے ڈاکٹر عافیہ کا نام بتایا۔ گو اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا گیا کہ واقعی شیخ خالد نے ایسا کچھ کہا تھا یا نہیں؟ امریکہ کے بقول نائن الیون کی فنڈنگ لائبیریا، افریقہ سے ہیروں کی اسمگلنگ کے ذریعے کی گئی تھی جس کا مرکزی کردار عافیہ تھی جو یہ ہیرے وہاں سےامریکہ لے کر آئی۔ ان ہی سخت حالات میں ڈاکٹر عافیہ 2003ء میں اپنے تین بچوں جن کی عمریں بالترتیب چھ سال، چار سال اور چھ ماہ تھی، کو لے کر کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوئیں۔ راستے میں انہیں نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ انہیں اغوا کرکے افغانستان کی بگرام جیل میں منتقل کردیا گیا جہاں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گی۔ ایک اطلاع کے مطابق، عافیہ کے بقول انہیں ان پانچ سالوں میں مختلف جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا جہاں انہیں انسانیت سوز تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ بگرام جیل سے نکلنے والے ایک قیدی نے بھی اس کی گواہی دی کہ جیل کی خاموش فضاؤں میں ایک پاکستانی خاتون کی آہیں اور چیخیں گونجتی رہتی تھیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس تشدد سے ان کا ذہنی توازن بھی متاثر ہوگیا۔ 2009ء میں ان کے ایک اغوا شدہ بیٹے کو واپس گھر بھیج دیا گیا۔ 2010ٰء کو ان کی اغوا شدہ بیٹی کو کچھ نامعلوم افراد اس کی خالہ فوزیہ صدیقی کے گھر کے باہر چھوڑ گئے اور سب سے چھوٹا بیٹا آج تک لاپتہ ہے۔2008ء میں ایک نومسلم برطانوی صحافی ‘ایون ریڈلی’ نے عافیہ کے حق میں ایک زبردست تحریک برپا کی جس سے امریکی انتظامیہ عافیہ کی گرفتاری کو بتانے پر مجبور ہوگئی۔ ‘ایون ریڈلی’ نے یہ بھی بتایا کہ اسے بگرام جیل سے نکلے قیدیوں کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو چھ امریکی سپاہیوں نے گینگ ریپ یعنی اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ امریکی فورسز کی جانب سے عافیہ کی گرفتاری کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اسے غزنی کے علاقے سے اس حالت میں گرفتار کیا گیا ہے کہ اس کے پاس بم بنانے کی کتابیں اور مواد موجود تھا۔ ساتھ ہی اس کے اپنے ہاتھ سے تحریر شدہ نوٹ بھی تھا جس میں ان کیمکلز کے نام وغیرہ تھے۔ 2009ء میں جب پاکستانی حکومتی وفد نے ان سے ملاقات کی تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے بتایا کہ یہ سراسر جھوٹ اور ڈرامہ تھا۔ بچے پر تشدد کا کہہ کر ان سے نوٹ بھی زبردستی لکھوایا گیا۔ ایک اور بڑا الزام ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر یہ لگا کہ انہوں نے دوران قید ایک پستول سے امریکی فوجیوں پر جان لیوا حملہ کیا جس میں نشانہ خطا ہوگیا اور فوجیوں کے جوابی فائر سے وہ خود زخمی ہوگئیں۔ پاکستانی سینیٹر طلحہ نے جب عافیہ سے ملاقات کی تو انھیں معلوم ہوا کہ عافیہ کے بقول یہ بھی سب جھوٹ ہے۔ وہ پردے کے پیچھے بے ہوشی سے واپس ہوش میں آئی تو انہیں آوازیں سنائی دیں۔ انہوں نے پردہ اٹھایا تو وہاں امریکی فوجی موجود تھے جنہوں نے ایک دم گھبرا کر فائرنگ کردی۔ عافیہ کولگا کہ یہ ان کا آخری وقت ہے مگر بے ہوش ہونے سے قبل انہیں جو آوازیں امریکی فوجیوں کی سنائی دیں تو وہ کہہ رہے تھے کہ یہ ہم سے کیا ہوگیا؟ اس سے تو ہماری نوکری چلی جائے گی۔ مقام واردات سے نہ پستول پر عافیہ کے فنگر پرنٹس ملے، نہ ہی کپڑوں پر بارود اور نہ ہی گولی کا کوئی نشان۔ سینیٹر طلحہ کے بقول اس ملاقات کے وقت بھی ڈاکٹر عافیہ شدید زخمی تھیں اور ان کا گردہ متاثر ہوا تھا۔عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی اور ‘ایون ریڈلی’ کی انتھک کوششوں کے بعد بلآخر ان کا مقدمہ امریکی عدالت میں پیش ہوا جہاں بنا کسی ٹھوس ثبوت انہیں 86 (چھیاسی) سال کی سزا سنائی گئی۔ یہ بھی عجب تماشہ ہے کہ فردجرم میں دہشت گردی کی معاونت یا بم بنانے والے کیمیکلز کیساتھ گرفتاری کا ذکر ہی نہیں بلکہ سزا دوران قید فوجیوں پر جان لیوا ناکام حملہ کرنے کی پاداش میں دی گئی۔
حالات، واقعات، شواہد، گواہ سب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بیگناہی کا اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کیس میں تین ممالک شامل ہیں اور تینوں مجرم ہیں۔
سب سے پہلا مجرم پاکستان جس کے حکمرانوں نے اپنی بیٹی عافیہ کو اغیار کے حوالے کر دیا۔ حالانکہ اگر اس پر کوئی الزام تھا بھی یا کوئی جرم ہوا بھی تھا تو مقدمہ پاکستان میں چلنا چاہیے تھا۔ حکومتوں نے وعدوں کے نام پر ڈھکوسلے دیے اور عافیہ کی واپسی کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
دوسرا مجرم افغانستان ہے جس کی جیلوں میں ظلم کی بدترین تاریخ مرتب ہوئی اور اس نے جانتے بوجھتے کچھ نہ کیا۔
اور تیسرا مجرم ہے امریکہ، جس نے پہلے ایک غلط الزام میں گرفتار کیا اور پھر مظالم و زیادتیوں کا ایک ایسا سلسلہ جاری کیا کہ اب عافیہ کی رہائی اس کے جنگی جرائم کا پردہ چاک کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مجرم مجھ سمیت ہم سب ہیں۔ آج ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور اذیت کو پورے پندرہ سال پورے ہونے جارہے ہیں۔ روز قیامت اگر ہماری اس بہن، ہماری اس ماں، ہماری اس بیٹی نے ہمیں بھی خاموش رہنے کا الزام دیا تو سوچیں ہم رب العزت کیا کہیں گے؟

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں