سینیٹ انتخاب،‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ پیسے ‌‌‌کا استعمال‌‌‌‌

سیاسی جماعتوں کو نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کن لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں : سینیٹ اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

جب تک انتخابی نظام درست نہیں ہوتا ، عوام کی حقیقی قیادت سامنے نہیں آسکتی: سینیٹرسراج الحق

لاہور(ٹی بی سی نیوز آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ہر سطح کے الیکشن کو صاف شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس غیر معمولی اختیارات ہیں مگر الیکشن کمیشن اپنے ان اختیارات کو استعمال کرتاہے اور نہ اپنے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق کی پاسداری کی طرف توجہ دیتاہے ۔ سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کا استعمال باعث شرم ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر سے ایسی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں جو دولت کے بل بوتے پر لوگوں کے ضمیر کا سودا کرتی ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کن لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس میں شرکت کے بعد پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جب تک انتخابی نظام درست نہیں ہوتا ، عوام کی حقیقی قیادت سامنے نہیں آسکتی ۔ الیکشن کمیشن 2018 ءکے انتخابات سے قبل انتخابی نظام کی درستگی اور اصلاحات کے نفاذ کی طرف توجہ دے ۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح سینیٹ کے انتخابات کو دولت کا کھیل بنادیا گیاہے اور ممبران اسمبلی کی منڈی کے جانوروں کی طر ح بڑھ چڑھ کر بولیاں لگائی جارہی ہیں ، وہ انتہائی شرمناک اور ایوان بالا کی توہین کے مترادف ہے ۔انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن اب یہ بہانہ نہیںبنا سکتاکہ اس کے پاس اختیار نہیں، الیکشن کمیشن کو تمام اختیارات حاصل ہیں لیکن وہ اربوں کھربوں میں کھیلنے والے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی دباﺅ میں آ کر مصلحت اختیار کر لینا مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید گھمبیر بناتاہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سیاست مخلوق خدا کی خدمت کا نام اور انبیاءکا شیوہ ہے مگر افسوس کہ اس وقت سیاست کو جھوٹ فریب اور دھوکے کا نام دے دیا گیا ہے اور سیاست کے نام پر عوام سے دھوکہ اور فراڈ کرنا سیاستدان اپنی اہلیت اور بہترین کارکردگی سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سیاست کے نام پر لوگوں کی امانتوں میں خیانت کرنے والے سیاستدان نہیں چور او ر لٹیرے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو سیاست سے بے دخل کرنا ہوگا جن پر سیاسی مالی اور اخلاقی کرپشن کے الزامات ہوں اور جو لوگ سیاست کو تجارت سمجھ کر الیکشن میں کروڑوں لگاتے اور پھر کرپشن کے ذریعے اربوںوصول کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ عوام کو آئندہ انتخابات میں ایسے لوگوں کا محاسبہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ جن لوگوں پر کرپشن کے کیسز چل رہے ہیں ، جن کے پانامہ لیکس ، دبئی اور لندن لیکس میں نام ہیں یا جنہوں نے بنکوں سے قرضے لے کر واپس نہیں کیے ، جب تک عدالتیں انہیں کلیئر نہ کریں الیکشن کمیشن انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دے ۔ اگر یہی کرپٹ ٹولہ قومی اداروں پر دوبارہ مسلط ہوگیا تو رہی سہی کسر بھی نکال دے گا اور جن قومی اداروں میں زندگی کی کوئی رمق موجود ہے ، ان کا بھی بیڑا غرق کر دے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں