سینیٹرسراج الحق نےآرمی چیف کے اسمبلی آنےپرکیاکہا؟

اسلام آباد(تفہیم ڈاٹ پی کےآن لائی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ جمہوریت کی گاڑی چلتی رہنی چاہیے ۔ آرمی چیف کا اسمبلی میں آنا ایک اچھی اور مثبت روایت ہے ۔ پاکستان کے خلاف امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ٹرائیکا کی سازشوں کو متحد ہو کر ہی ناکام بنایا جاسکتاہے ۔ عدالتوں سے لڑائی میں کسی کا فائدہ نہیں ، اداروں کے ساتھ لڑنے سے مزید حادثات اور سانحات ہوسکتے ہیں ۔ پاکستان کو جن بیرونی اور اندرونی خطرات نے گھیر رکھاہے ، ان سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کرپٹ اور بد دیانت ٹولے سے نجات حاصل کی جائے اور دیانتدار اور مخلص قیادت کا انتخاب کیا جائے ۔ دولت کے پجاری اور امریکہ کے حواری ملک کو موجودہ بحران سے نہیں نکال سکتے ۔ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی بالادستی قائم کیے بغیر حالات نہیں بدل سکتے لیکن سیاست اور جمہوریت کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے والے سیاسی معاشی دہشگرد آئین کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ بد دیانت سیاسی پنڈتوں اور اسٹیٹس کو کی غلام قوتوں سے آزادی حاصل کرنا ہوگی ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سینیٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ عدلیہ کی تضحیک اور توہین کرنے والے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں جو لوگ عدل و انصاف کے اداروں کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا ناچاہتے ہیں ، ان سے کسی خیر کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ انہوںنے کہاکہ عدالت عظمیٰ کو کرپٹ اور بد دیانت ٹولے کے رویے سے بد دل ہونے کی بجائے احتساب کے عمل کو جاری رکھنا چاہیے ، پوری قوم عدالت کی پشت پر کھڑی ہے ۔ عدالت کسی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کا سخت ترین احتساب کرے ۔ انہوںنے کہاکہ عدالت بیرونی بنکوں میں پڑی قومی دولت واپس لانے کے لیے مناسب اقدامات کرے تاکہ بیرونی قرضوں، غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی جیسے مسائل سے نکلا جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت سے دوستی اور امریکہ کی غلامی کا دم بھرنے والوں نے ملک و قوم کے مستقبل کو تاریکیوں کے حوالے کردیاہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قومی سلامتی اور ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والی مخلص قیادت بر سر اقتدارآئے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے اور بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دے سکے۔ انہوںنے کہاکہ امریکی خوف سے تھر تھر کانپنے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن پر چلنے والے ہی قوم کے دکھوں اور پریشانیوں کے ذمہ دار ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام مسائل کا حل نفاذ شریعت میں ہے ۔ نظام مصطفی ٰ کے نفاذ پر تمام دینی و سیاسی جماعتوں کو متحد ہو جاناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات میں کلین اور صاف دامن لوگ ملک و قوم کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں ہمارا ساتھ دیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں