لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورآرتھوپیڈک سرجن کس بہانےمریضہ کواپنی نجی کلینک لیکرکیاکرڈالا؟لوحقین نےپریس کلب میں اصل حقائق بیان کرڈالے

نوشہرہ(تفہیم ڈاٹ پی کےآن لائن)لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ارتھوپیڈک سرجن نے مریضہ کو اینستیزیا سپیشلسٹ کی غیرموجودگی اور ان کے لواحقین سے بغیر اجازت کے چیک اپ کے بہانے اپنے نجی کلینک میں اپریشن تھیٹر لے جاکر اینستیزیا کی زیادہ مقدار سے مریضہ کی جان لے کر مریضہ کواپریشن تھیٹر میں مردہ حالت میں چھوڑ کر لواحقین سے اپریشن فیس مبلغ 40 ہزار روپے کی وصولی کا مطالبہ اور مریضہ کیلئے پرہیز تجویز کرتا رہا لواحقین کو جب اصل حقائق کا پتہ چلا تو سیخ پاہوگئے جبکہ ڈاکٹر کلینک چھوڑ کر بھاگ نکلااس سلسلے میں نواں کلے نوشہرہ کلاں ضلع نوشہرہ کے رہائشی مرتضیٰ خان نے نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا(جاری ہے)ا

 کہ 25 مئی 2018 کو میری اہلیہ معراج بی بی کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جسے ہم پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے جہاں پر ان کو داخل کرایاگیا اور وہاں پر چار دن بے یارومددگار پڑی رہی اور مریضہ سخت تکلیف میں مبتلا تھی ایل آرایچ آرتھوپیڈیک وارڈ میں موجود ڈاکٹر گلزار نے ہمیں بتایا کہ آپ اپنی مریضہ کو میرے نجی کلینک الکریم میڈیکل سنٹر واقع ڈبگری گارڈن پشاور چالیس ہزار روپے اپریشن فیس سمیت پہنچادے جب ہم وہاں مریضہ کولے گئے تو انہوں نے بغیر کسی لیبارٹری ٹیسٹ کے اپریشن تھیٹر لے گیا اور کہا کہ میں ان کا معائنہ کررہا ہوں پھربتایا کہ اپریشن شروع ہوگیا ہے ہم سے بغیرپیشگی اجازت اور دستخط لئے بغیرانہوں نے کہا کہ ڈاکٹر گلزار کے نجی کلینک میں اینستیزیا سپیشلسٹ بھی موجود نہیں تھا اور ہماری مریضہ کو انہوں نے خود نشہ دیا ڈاکٹر گلزار کا اینستیزیا دینے میں ناتجربہ کاری کے باعث نشے کا مقدار زیادہ ہوگیا جس سے ہماری مریضہ کی موت واقع ہوئی لیکن ڈاکٹر گلزار نے باہر آکر ہماری جھوٹی مبارکباد دیتے ہوئے ہم سے 40ہزار روپے فیس کا مطالبہ اور پرہیز تجویز کرتا رہا حالانکہ ہماری مریضہ اس وقت زیادہ نشے کی وجہ سے فوت ہوچکی تھی انہوں نے کہا کہ ہم سے ڈاکٹر گلزار اپنی فیس لے کررفوچکرہوگیا جب ہم مریضہ کے پاس پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ اپریشن کے دوران ہی فوت ہوچکی تھی انہوں نے کہا کہ ہم نے شاہ قبول تھانے میں رپورٹ درج کرائی اور ہماری مریضہ کوKMC پشاور میں چیڑپھاڑ کرکے پوسٹ مارٹم کیا لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود اسی پوسٹ مارٹم کا کوئی رزلٹ نہیں آیا اور وہی مجرم خونی ڈاکٹر گلزار آج بھی ایل آرایچ میں اپنی ڈیوٹی پر مامور ہے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کرکے ہمیں پورا پورا انصاف دلائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں