ڈیجیٹل گولیاں (دلچسپ و عجیب) – تحریر: آفتاب کوثر

ڈیجیٹل گولیاں

ماڈرن فار ماسوٹیکل کمپنیوں نے دوائیوں کے ڈھیر تو لگا دیئے ہیں. لیکن اسکے استعمال کو کیسے یقینی بنایا جائے اس سوال نے ڈاکٹروں اور دوا ساز کمپنیو ں کو سر جوڑنے پر مجبور کردیا ہے خاص طورپر دماغی امراض میں مبتلا مریضوں اور عمررسیدہ لوگوں میں یہ عام طور پردیکهنے میں آیا ہےکہ وہ اپنی دوائی کی خوراکیں miss کرتےہیں. جسکی وجہ سےایسےمریضوں کےعلاج معالجےمیں رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں.

اس مسئلے کےحل کیلئے مختلف طریقوں پرغورکیا جارہاہے.لیکن اب برطانوی اخبار “The Daily Delegraph” نےخبردی ہےکہ اس مسئلے کاایک زبردست حل” ڈیجیٹل گولیاں”کی شکل میں نکالا گیا ہے. ان گولیوں ( Pills)
میں نظام انہضام کیلئے محفوظ ایک “سنسر “شامل کیا جاتا ہے. یہ سنسرجونہی ہمارےمعدےمیں پہنچتی ہےیہ باہرمریض کے بازو کے اوپر نصب ایک پیوند(patch )کوسگنل بهیجتاہے. جسےوہ اس کے ڈاکٹراورچار دوسرےمتعلقہ آدمیوں کو Forward کرتاہے. اس سگنل کا مطلب یہ ہوتا ہےکہ”آپ کے مریض نے گولی کهالی ہے.” حیرانگی کی بات تو ہے لیکن یہ خالی افواہ نہیں ہے. جاپانی کمپنی ”Otsuka” اورامریکی فرم ”Proteus” جوڈیجیٹل میڈیسن پر کام کر رہے ہیں . نے دماغی امراض کےعلاج میں استعمال ہونیوالی دوائی “abilify”کی ڈیجیٹل شکل تیار کرلی ہےجس میں ریت کےایک چهوٹےذرےکےبرابر سیلیکان، کاپر اور میگنیشیم کی بنی ایک سنسر لگائی گئی ہے.امریکی ”FDA” نے اسے  ”Approve” بھی کیا ہے
اس تازہ پیش رفت نے اب ڈاکٹروں اور متعلقہ افراد کیلئے ایسے مریض کی ” ریمورٹ مانیٹرنگ ” آسان بنالی ہے.اب ڈاکٹروں کو مریض کی علاج کے مؤثر ہونے کی یقین ہو چلی ہے.جس سے برطانوی اور امریکی حکومتوں کو لاکھوں پاؤنڈ اور ڈالرز بچت ہونے کی امید ہے.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں