نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواجسٹس (ر) دوست محمد خان کابنوں کیلئے بڑا اعلان

پشاور(تفہیم ڈاٹ پی کےآن لائن)خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے بنوں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے ویمن کیمپس کی تعمیر کیلئے آئندہ اے ڈی پی میں چار سو ملین روپے مختص کرنے ، نئے شامل شدہ ضلع شمالی وزیرستان میں بنوں یونیورسٹی کا کیمپس بنانے کیلئے منصوبہ بندی کرنے اور غلام اسحاق خان انسٹیوٹ صوابی کی مدد سے بنوں یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ اور سٹاف کو بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ کی فراہمی اور مذکورہ یونیورسٹی کیلئے ایر گیشن اور واٹر سپلائی سکیم کی منظوری دینے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تمام یونیورسٹیوں کو بلا تفریق ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کیلئے ڈونر ایجنسیوں ، یو این ڈی پی اور کچھ خاص بنکوں سے مالی معاونت کی فراہمی کیلئے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں تحقیق پر مبنی علم ، جدید سائنسی تعلیم و ٹیکنالوجی اور انٹر پری نیورشپ کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور پروفیسرز ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں بنوں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ان کے ہمراہ دیگر عملہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پرنگران صوبائی وزراء ظفر اقبال بنگش، انوار الحق، سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم، رجسٹرار بنوں یونیورسٹی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔دوست محمد خان نے کہا کہ ہمیں کوالٹی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، ہمیں ایسے گریجویٹس پیدا کرنے چاہیءں جو پوری دنیا کے ساتھ مقابلہ کر سکیں، انہوں نے سیکرٹری اعلیٰ تعلیم کو ہدایت کی کہ صوبے میں نئے شامل ہونے والے اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر تعلیمی نظام کی بحالی پر کام شروع کیا جائے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگ کی وجہ سے یہ علاقے تعلیمی میدان میں کافی پسماندہ رہ چکے ہیں۔ وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی نے نگران وزیر اعلیٰ کو یوینورسٹی کے قیام، اس کے اغراض و مقاصد، موجودہ انفراسٹرکچر، نئے ویمن کیمپس کیلئے تگ و دو اور یونیورسٹی کے مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ نگران وزیر اعلیٰ نے ان کو ہر قسم کی انتظامی اور مالی تعاون کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی، اس موقع پر اانہوں نے کہا کہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم کیلئے یونیفارم پالیسی لاگو کرنے لئے ایک آرڈیننس لا رہے ہیں ، انہوں نے قومی سطح پر ایک اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کی تجویز کی پیشکش کی۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کے لاکھوں ٹی ڈی پیزملحقہ علاقوں خصوصی طور پر بنوں میں رہائش پذیر ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں قدرتی وسائل کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں ، ہم نے ان وسائل کو استعمال میں لانا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایمانداری سے کام کیا تو ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہم دوسرے علاقوں میں سرمایہ کاری کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقو ں کے لوگ اسلئے دہشتگردوں کا شکار بنے کہ ان کو بروقت قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا، ہم نے مختصرالمدتی اور کثیر المدتی منصوبوں کے تحت ان اضلاع میں تیز تر ترقی لانا ہے، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری یونیورسٹیاں بین الاقوامی معیار کے مطابق گریجویٹس پیدا نہیں کر رہی ہیں لہٰذا ہمیں یونیورسٹیوں کے سلیبس کا از سر نو جائزہ لینا چاہئے، ہم نے ایسے طلباء اور سکالرز پیدا کرنے ہیں کہ وہ روزگار مانگنے کی بجائے دینے والے بن جائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں