تعلیم کی ساکھ کو کس چیز نےبڑےنقصان سے دوچارکیا،منتخب ممبر پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کااعتراف

پشاور(نواب شیررپورٹ)پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے ایجوکیشن نظام میں ٹاپ ٹوئٹی کومسائل کاجڑاورکاروبارکا ذریعہ گردانتے ہوئے کہاہے کہ ٹاپ ٹوئٹی نے قومی معیار تعلیم کی ساکھ کوبہت نقصان پہنچایاہے جسکے باعث بچوں اور والدین میں حسداوررقابت کاعنصربڑھ رہاہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ امتحانی نتائج میں طلبہ کی درجہ بندی کے بجائے اے لیول اور اولیول گریڈمتعارف کروایاجائے۔منتخب ممبر پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی سید انس تکریم کاکاخیل نے ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ دو دہائیوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور سرکار کے پاس وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نجی شعبے کا حجم بہت بڑھ گیا ہے اور اب یہ سرکار کے ساتھ 50% حصہ دار ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے کا پھلنا پھولنا اور پھیلاؤ ادارے کے نتائج سے وابستہ ہے اور اسی ٹاپ ٹوئٹی کی دوڑ کا اداروں کے پھیلاؤ میں بڑا ہاتھ ہے جس کوتقویت دینے کیلئے تعلیمی بورڈز میرٹ اور شفافیت کو چھوڑ کر نجی اداروں کے پھیلاؤ اور کاروبار میں حصہ دار بن گئے ہیں اور اس طرح ٹاپ ٹوئٹی نے قومی معیار تعلیم گرانا شروع کیادوسری طرف بچوں کو ذہنی مریض بنا دیاگیا اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارے نے ایک منفی مقابلہ حسد اور رقابت کی شکل اختیار کر لی جو والدین تک جا پہنچی ہے،نمبروں کے اس چکر میں علم پیچھے رہ گیا اور نمبرز نے اہمیت حاصل کر لی جسکی وجہ سے علم کی بجائے نمبرز کی اہمیت بڑھ گئی اور سرکاری سکول مزید گرنے لگے کیونکہ وہاں پر اس دوڑ میں دلچسپی کا عنصر کم اور نتائج پر پوچھنے کا عمل سست روی کا شکار رہا۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم نمبرز گیم سے قوم کو نکال کر گریڈز پر لائیں تو بہت سی بیمارئیوں کا علاج بہت آسانی سے ممکن ہوگا اور علم پر توجہ بڑھے گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں