ماورائے زمین زندگی – تحریر: آفتاب کوثر

ماورائے زمین جاسوسی

جاسوسی کے نام سے تو ہم سب واقف ہیں۔ لیکن “ماورائے زمین جاسوسی” کے اصطلاح سے غالباََ ہم میں سے اکثر لوگ واقف نہیں ہوں گے۔
یہ ایک جامع اصطلاح ہے جو زمین کے علاوہ کسی اور دور دراز کونے میں ” زندگی “کی کھوج لگانے کیلئے سائنسی تحقیق کیلئے استعمال ہوتا ہے۔اس کائنات کی عمر اور جسامت کو دیکھ کر ہم یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کہ یہاں ہمارے علاوہ اور بھی کئی ترقی یافتہ اور ذہین اقوام موجود ہوں گے۔لیکن ظاہر ہے اس بات کو ہم اب تک ثابت نہیں کر سکے۔
زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارے پر زندگی کے آثارمعلوم کرنے کیلئے سائنسدان عرصہ دراز سے بے چین ہیں۔اسکے متعلق ابتدائی کام کاآغاز 1900 ء کے لگ بھگ ریڈیو کے ایجاد کے کچھ عرصہ بعد ہوا۔ابتدائی تحقیقات کے دوران سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات کے سوچوں کا مرکز مریخ ہی تھا۔لیکن بعد ازاں “تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا”
ماورائے زمین زندگی کی کھوج لگانے کیلئے آجکل بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں۔لیکن ان میں” بریک تھرو لسن” Break Through Listen آج تک سب سے بڑا اور موثر منصوبہ گردانا جاتا ہے۔ بریک تھرو، فیس بک کے مالک مارک زکر برگ، ایک روسی ارب پتی یوری ملنر اور مشہور فلکیات دان سٹیفن ہاکنگ کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے جس میں ان کاتقریباََایک ملین قریب ترین ستاروں، ہمارے اپنے کہکشاں (ملکی وے )اور تقریباََ 100مزید قریبی کہکشاوں کو چھان مارنے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ان کے پاس دنیا کی بہترین دوربینیں ہیں جو ایک گھریلو بلب (100واٹ) جتنی توانائی کو بھی تقریباََ 26ٹریلین میل دور سے محسوس کر سکتے ہیں۔
یہ ادارہ اپنے بہترین اوزار کے ساتھ کائنات میں انتہائی گہرائی تک کسی بھی ذہین اور ترقی یافتہ تہذیب کے زیر استعمال آپٹیکل یا لیزر شعاعوں کا پتہ لگا سکتا ہے۔
FRBs ،جسے ہم اردو میں تیز ریڈیائی لہریں کہہ سکتے ہیں، آجکل ماہرین فلکیات کی توجہ کا مرکز ہیں۔یہ کسی دور دراز کہکشاں سے موصول ہونیوالی طاقتور ریڈیائی لہریں ہیں۔جو صرف چند ملی سیکنڈ تک جاری رہتی ہیں۔

FRBsپہلے پہل 2007 میں دریافت ہوئے اور اس کے بعد کئی دفعہ مختلف سر چشموں سے موصول ہوتے گئے۔لیکن عام طور پر ایک مقام سے ایک ہی دفعہ موصول ہوتے ہیں۔
صرف ایک مقام ہے۔جو”121102″کہلاتا ہے۔جس سے FRBsباربار موصول ہوتے ہیں۔ اور اسی چیز نے ماہرین کو پریشان کر رکھا ہے۔لیکن کئی بار زمین پر طاقتور ریڈیائی لہریں FRBsبھیجنے کے باوجود “سر چشمہ121102 ” ایک راز بنا ہوا ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ لہریں زمین سے تین بلین لائٹ سالوں کی دوری پر موجود کہکشاں سے موصول ہوتی ہیں۔
اب ان کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ لہریں کسی بڑے بلیک ہول کے قریب ، گیس کے دباؤ سے نیوٹران ستاروں کے پھٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔
دوسرا نظریہ ہے کہ یہ لہریں کسی ترقی یافتہ قوم کی کسی زبردست ٹیکنالوجی کی پیدا کر دہ ہیں۔یاد رہے کہ 2007سے شروع ہوکر”ایف آر بی 121102 “سے ریڈیائی لہروں کا سلسلہ بڑھتاچلا گیا ہے۔
اپریل 2008 میں یہاں سے “21بوچھاڑ” ہوئے جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ تھا۔جبکہ ستمبر 2018میں پانچ گھنٹوں میں 72بوچھاڑ (Burst) ریکارڈ کیے گئے.
حالیہ دریافتوں نے ماورائے زمین زندگی کے “کھوجیوں”کو نیا حوصلہ عطاء کیا ہے ان کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ مزید کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں