” قوم یوتھ ، سلیم صافی اور میں “

“سلیم صافی کو میں نے کیسا انسان پایا ”

میں بلکل پاگل تھا، ہر شخص کو غور سے دیکھتا اور پھر سلیم صافی سے اس لیڈر یا افسر کے متعلق زکر کرتا، ایک دن سلیم صافی نے وہ ہی تاریخی الفاظ کہے جس نے میرا دیکھنے اور سوچنے کا زاویہ یی بدل دیا ” غوری صاحب آپ افراد کی بجائے ایشوز پر توجہ دیں ہر فرد ایک سا ہوتا ہے کل آپ اُن سے زیادہ بڑے یا مشہور ہوسکتے ہیں ”
یوں سمجھیں سلیم صافی صاحب کی نصیحت پر عمل کرکے میں آج 8 سال بعد وہ قادر غوری ہوں جو شخصیت ، عہدوں ، مال و اسباب والوں سے متاثر نہیں ہوتا ۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں نیا نیا اسلام آباد اور صحافت میں آیا تھا ، جو لوگ ٹی وی پر نظر آتے تھے وہ ہی لوگ اب مجھے چلتے پھرتے سامنے نظر آنے لگے ، صدر پاکستان وزیر اعظم اور دیگر بڑے عہدوں والوں کو اس طرح دیکھتا جیسے صدیوں کا کنوارہ کوئی ٹھرکی کسی زندہ لڑکی کو دیکھتا ہے .
سلیم صافی کے ساتھ پرسنل سیکرٹری کام شروع کیا انہیں بندے کی ضرورت تو نہیں تھی پھر بھی میری مالی حالت دیکھتے ہوئے انھونے آفر کی جو میں نے قبول کرلی ، دوسرے ہی دن جیو نے انھیں زیرو میٹر سٹی کار دے دی جس کی چابی انھونے میرے حوالے کردی کہ یہ آپ رکھیں میں نے انکار کیا کہ نئی گاڑی ہے میں کہیں مار وار نہ دوں .
اس سے پہلے میرے پاس اپنی ذاتی کار ایف ایکس تھی جو میں بطور ٹیکسی بھی چلایا جس میں سلیم صافی بھی کئی بار بیٹھ چکے تھے اس لیے وہ جانتے تھے کہ مجھے ڈرائیونگ آتی ہے لیکن بہت سی وجوحات ہیں جس کی وجہ سے مجھ میں خود اعتمادی نہیں ہے ، واقعی میں کبھی بھی کسی دوسرے کی چیز ہو ہاتھ نہیں لگاتا ڈرتا ہوں کہ کہیں کچھ ہوگیا تو نقصان کہاں سے بھروں گا
خیر سلیم صافی نے مجھے زیرو میٹر کار کی چابی دیکر کہا چلاؤ ، میں نے چلانا شروع کردی صبح ہم ان ہی کے گھر ناشتہ کرکے نکلتے اور رات دیر تک مخلف لوگوں سے ملاقات کے بعد گھر لوٹ جاتے ، کبھی کبھی گاڑی میں اپنے ساتھ اپنے گھر لیجاتا تو کبھی وہ مجھے میرے گھر چھوڑ کر خود گاڑی لیجاتے .
ان کے پاس اپنی ذاتی گاڑی اور ڈرائیور بھی موجود تھا لیکن انھوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھا کہ کہا آپ کے لیے کوئی کام پیدا کرتا ہوں، مجھے اپنے کالمز کو کتابی صورت میں جمع کرنا ہے تم اس کام میں میرا ساتھ دوگے ؟
سلیم صافی نے محمد علی درانی صاحب کے کالج میں ایک کمرا بھی حاصل کرلیا تھا جیسے میں نے آفس کی شکل دے دی تھی . ہم کافی عرصے ساتھ رہے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا وہ اکثر اپنی آفشل ٹیم سے میرے کام کی تعریف کرتے . کہتے کون سیاستدان، بیروکریٹ، تجزیہ نگار پوری دنیا میں کس وقت کہاں ہوگا یہ غوری صاحب کو معلوم ہوتا ہے
ایک دن سلیم صافی کے ساتھ مجھے دیکھ کر حامد میر نے کہا صافی صاحب قادر غوری کو تو میں اپنی ٹیم میں رکھنا چاہتا تھا آپ نے پہلے ہی رکھ لیا ۔
سلیم صافی میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ایک اچھے انسان یا بہت اچھے صحافی میں ہونی چاہیے جیسے
ہر خبر کی ہر طرح سے تصدیق کرنا
اپنے دوستوں اور رشتیداروں کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا
سائل کو کبھی خالی ہاتھ نہیں جانے دینا
گھر آئے کسی بھی مہمان کو بنا کھائے نہ جانے دینا
جس کام کا ارادہ ہو اسے سر پر سوار کرلینا اور مکمل کرنا
چہرے پر کبھی فکر مندی کے اثرات نہ آنے دینا
خبر کے پیچھے سابق جنرلز بیروکریٹ اور سیاسی لیڈر شپ تک ملاقاتیں کرنا
کوئی کام بول دے تو مشکل کے باوجود اخلاقاً ہاں کردینا اور پھر دیر سویر اسے پورا کردینا
ایک دن کچھ رقم میرے حوالے کی بولے ایک فون آیا تھا کسی بچی کا میں اسے جانتا نہیں ہوں تم اس نمبر پر کال کرو اور اسے یہ رقم خاموشی سے پہنچا دو کسی کو معلوم نہ ہو
میں نے کال کی وہ لڑکی خود آگئی میں نے اسے دیکھے بنا ہے کہ کون ہے کہاں سے آئی ہے بس وہ روتی ہوئی آئی تھی میں نے اس کی امانت اسکے حوالے کردی اور وہ سلیم صافی کو دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی
بعد میں معلوم ہوا اس کی ایک اکیلی ماں تھی اسے بھی فالج کا اٹیک ہوا تھا ۔
پیسے نہ ہونے کی صورت میں کبھی کسی سے نہیں زکر نہیں کیا
کسی کو دیے ہوئے پیسوں کا کبھی مطالبہ نہیں کیا
کبھی کسی سیاست دان کو مسکا نہیں لگایا جب بات کی آنکھوں میں آنکھیں برابری کی سطح پر کی بات کی
آفس میں کوئی ایسا نہیں تھا جو یہ کہہ سکے کے سلیم صافی سے کبھی اس سے تلخ بات کی ہو .
وہ اُس وقت بھی بہت بڑے صحافی اور اینکر تھے اور میں بلکل نیا بلکہ میں کچھ بھی نہیں تھا پھر بھی وہ مجھے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا کھلاتے تھے.
ایک دن شفاء انٹرنیشنل سے سلیم صافی کے لیے فون آیا میں نے اٹینڈ کیا تو دوسری طرف سے کہا گیا کہ صافی صاحب کی طرف کچھ بقایاجات ہیں . میں نے صافی صاحب سے فون کے مطابق زکر کیا تو وہ پریشان سے ہوگئے . مجھے ایک چیک دیا کہ جاؤ دے آؤ .
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ان کے گاؤں کے کسی مریض کے علاج پر خرچ ہونے والی رقم تھی جو صافی صاحب نے پے کی تھی ، ایسا اکثر ہوتا تھا کہ وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کی مدد کرتے نظر آتے تھے.
ایک لطیفہ یاد آیا میں صافی صاحب اور ان کا ایک افغانی صحافی دوست کار میں کہیں جاریے تھے، مجھے ایک دم کہا غوری گاڑی روکو اور ڈگّی کھول کر گاڑی سے دور ہٹ جاؤ اور پھر گاڑی رکتے ہی خود بھی اتر گئے .
مجھے دور جانے کو کہا اور خود زرا ٹھرکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو دیکھا اس میں ایک پانی کی بوتل پڑی تھی جو گاڑی کی رفتار کے ساتھ ادھر اُدھر جاتی جس سے آواز پیدا ہورہی تھی جیسے دیکھ کر ہم تینوں ہی ہنسنے لگے ۔
اُن ہی دونوں ایک بڑے اینکر کی جیو میں جاب کے لیے کوششوں میں بھی مصروف تھے جب وہ اینکر میرے سامنے آیا تو میں نے اُس کی آمد کی وجہ پوچھ لی صافی صاحب نے کہا آج کل پریشان ہیں ان کے لیے جیو میں کوشش کررہا ہوں لیکن تم کبھی بھی اس کا زکر کسی سے نہیں کرنا .
پھر وہ شاید کسی دوسرے چینل میں چلے گئے تھے لیکن یہاں بھی سلیم صافی نے مجھے اپنی شرافت کا قائل کرلیا تھا کہ کیسا انسان ہے اپنی نیکیاں بھی چھپاتا ہے ، یہاں تو لوگ ایک کینسر کا ہسپتال بنا کر اتنی بار گنواتے ہیں کہ لوگ شرمندہ ہوجاتے ہیں اس احسان کے بدلے اسے وزیر اعظم بھی بنا دیتے ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں