پاکستان میں بے روزگاری کی ایسی وجہ سامنے آگئی کہ آپ بھی پریشان ہوجائنگے: تحریر- توصیف احمد

میں خود ایک #استاد ہوں۔
اس لیےاپنے تجروبےکی بنیاد پر تعلیم کے حوالے سے کچھ ضروری حقاٸق لکھنا چاہتاہوں۔ انشاءاللہ آپ سب کو ضرور پسند آۓ گا۔

دوستوں ہم میں سے ہرایک یہ بات ہزار بار سن چکےہیں کہ دنیا کی قومیں اگر ترقی کرتی ہے تو اس میں سے زیادہ تر حصہ تعلیم کا ہوتا ہے یعنی کسی ملک کی ترقی کا دارمدار تعلیم پر ہوتا ہے۔
اگر آج امریکہ۔روس۔ چین اور جاپان ترقیاتی یافتہ ممالک ہے اور دنیا میں اتنی ترقی کی ہے تو وہ تعلیم کی بدولت کی ہے۔ کیونکہ تعلیم بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم بنیادی ضرروت ہے۔
تعلیم کی اہمیت سے کوٸی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ نا میں اور نا آپ۔۔۔۔۔
بدقسمتی سے ہم میں سےبیشتر لوگ اس لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ مسقبل میں اسے ایک اچھی نوکری ملے اور اپنی زندگی کو عیش وآرام سے گزاریں۔ لیکن اس طرح کے لوگ بہت کم کامیاب ہوجاتے ہیں۔
تعلیم حاصل کرتے وقت صرف ایک بات ذہن میں ہونی چاہیۓ کہ تعلیم دنیا میں رہنے کے لیے اتنی ضروری ہے جتنا کہ زندگی گزرانے کےلیے پانی اور خوراک ۔۔
تعلیم ہمیں زندگی گزارنےکے نۓ نۓ طریقے سکھاتی ہے ۔
تعلیم ہمیں ماں باپ کی عزت اور بڑوں کا احترام سکھاتا ہے۔
تعلیم ہمیں انسانیت سکھاتا ہے۔
تعلیم ہمیں معاشرے میں ایک کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
تعلیم ہمیں اللہ اور رسول کے قریب لے جانے کا طریقہ سکھاتاہے۔
تعلیم ہمیں بہتر سے بہتر انسان بنے کا طریقہ سکھاتاہے۔
تعلیم ہمیں اللہ کی بناٸی ہوٸی دنیااورکاٸنات جاننے کی استعطاعت دیتاہے۔
ان سب کےعلاوہ بھی تعلیم کے بہت سارے فاٸدے ہیں۔
لیکن ان سب فاٸدوں کو ہم نے ایک ساٸیڈ پر رکھی ہے اور نوکری کی فکر دوسری ساٸیڈ پر۔ اس لیے ہم تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گۓ ہیں۔ اگر ہم صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کریں تو نوکری ہمیں ضرور ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر نوکری سے کوٸی انسان ۔۔ایک مکمل انسان نہیں بن جاتا۔
جولوگ تعلیم صرف نوکری کےلیے حاصل کرتے ہیں توان سے پیسے کمانے کے علاوہ کسی اور چیز کی امید کرنا بلکل بے معنے ہیں۔
ہمارے گاٶں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے جس کا تذکرہ میں آپ سے اوپر کرچکا ہوں۔ یہاں پر لوگ تھرڈ کلاس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں مطلب میٹرک تھرڈ کلاس۔۔۔۔ ایف۔اے تھرڈ کلاس اسکےبعد تھرڈکلاس بی۔اے اور پھر ایم۔اے ۔۔ یہ ہے ہمارا تعلیمی معیار۔۔۔اس کو ہم اعلی تعلیم کہتے ہیں۔ صرف نام کی ڈگریاں اور سرٹیفیکیٹس ۔۔۔۔۔باقی کچھ نہیں۔ زیادہ تر طالب طالبعلموں کو تو اپنے کتابوں کے نام بھی یادنہیں رہتے۔
میرا ایک دوست ہے اس نے ابھی ابھی۔۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم۔ایڈ مکمل کی ہے میں نے ان سے پوچھا پوچھاکہ بھاٸی ایم۔ایڈ میں کون کونسے سبجکٹ ہوتے ہیں اس نے جواب دیا کہ میرے بھاٸی مجھے کیا پتا ۔۔۔۔میں نے توسارا ایم۔ایڈ نقل سے پاس کیا ہے۔ ۔۔ہاہاہاہاہاہا
اگرتعلیم کا یہی معیار رہا تو ہم بہت پیچھے چلے جاٸنگے اوردنیا بہت آگے نکل جاۓ گی۔
اچھا تو اس تھرڈکلاس تعلیم کومکمل کرنے کےبعد ہماری سوچ بہت اونچی ہوتی ہے ہم بڑی بڑی نوکریوں کے لیے اپلٸ کرتے ہیں جیسے GM ,M.D وغیرہ ۔ اور دس ۔پندرہ جہگوں پر Apply کرنےکے بعد آرام سے بیٹھ جاتےہیں۔ اور اس کے بعد ہم ساری زندگی حکومت سے گلے شکوے کرتےہیں۔ کہ ہمیں نوکری نہیں مل رہی۔ یہ کیسا فضول ملک ہے۔۔پاکستان میں اس طرح کی تعلیم ہر دس میں سے آٹھ بندوں نے حاصل کی ہے۔ جس کا آجکل کے دور میں کوٸی اہمیت نہیں۔
اگر کچھ وقت کے لیےآپ خود سوچیں تو پاکستان میں بےروزگاری کی سب سے بڑی وجہ یہی غیر معیاری تعلیم ہے۔ کیونکہ ہرسال ہزاروں لوگ یونیورسٹوں سے فارغ ہورہے ہیں جس کے بعد وہ ساری عمر زلیل و خوار ہو تے رہتے ہیں۔
اب تھوڑا سا تذکرہ بنیادی تعلیم کی بھی کرتےہیں۔
آج سے ایک ہفتہ پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوگٸی اور سکول دوبارہ کھل گۓ۔ تو مجھے ایسا لگ رہاتھا جیسے بچیں سکول میں پہلی بار آۓ کیونکہ انہیں نا بات کرنے کا سلیقہ آتا تھا نا کچھ سبق یاد تھا۔ ناسلام اور نا کلام کا طریقہ ۔۔
وجہ؟؟؟؟
کیونکہ ہم سب ایک عرصہ دراز سے یہ چلتے آرہیں ہے کہ سب کچھ استاد کا کام ہے۔ ہمارے بچے کو سب کچھ استاد ہی سکھاۓ گا۔ ۔۔۔ ٹھیک ہے ہم مانتے ہیں۔۔۔۔
اگر سب کچھ استاد ہی کرے گا تو والدین کی کیا زمہ داری ہوگی۔ کیا وہ صرف بچوں کو کھلاۓ ۔۔۔۔۔۔پلاۓ گا؟؟؟؟
میرا والدین سے یہی شکایت ہے کہ آپ کا بیٹا ہمارے ساتھ چار گھنٹے گزارتے ہیں اور آپ کے ساتھ 20 گھنٹے ۔۔اگر ہم انہیں ہوم ورک دیں تو وہ صبح ہمیں کہتا ہے کہ سرجی میں اپنے باپ کے ساتھ کھیت میں کام کررہاتھا۔ اگر کام نا کرتے تو پھر وہ ہمیں مارتا ہے۔ نا ہم معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں اور نا ہمیں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیاجاتا ہیں۔
آخر کیوں؟؟؟؟؟
ہمارے کلاس کے چند بچے ہیں جن کی پوچھ گچھ کےلیے والدین مہینے میں ایک بار آتے ہیں ۔ باقی بچوں کے والدین کوتو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کےبچے کون سے کلاس میں پڑھتے ہیں۔
تحریر راٸٹر : توصیف احمد
0333-9155855

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں