جماعت اسلامی کی شکست ، زوال اور عروج کا راستہ – تحریر: خلیل الرحمٰن چشتی

جماعت اسلامی کی شکست ، زوال اور عروج کا راستہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن 2018ء کے نتائج کے بعد اپنے اور بیگانے سبھی 1970, 1993ء اور 2013 ء کے الیکشنوں کے بعد اٹھنے والی صداؤں کی طرح آوازیں کسنے لگے ہیں۔
ووٹرز کی تعداد تقریبا ساڑھے دس کروڑ تھی۔ تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ افراد نے ووٹ دیا۔ جماعت اسلامی ( مجلس عمل)کا ووٹ پانچ فی صد سے بھی کم تھا۔
2013 ء کے فی صد سے بھی کم۔ پچیس لاکھ افراد نے ایم ایم اے کو ووٹ دیا۔

شکست کے اسباب :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکست کے اسباب کیا تھے ؟
اس پر بہت گفتگو کی جاسکتی ہے۔

میرے نزدیک سیاسی شکست کی دو کوڑی کی اہمیت نہیں ہے, البتہ مجھے یہ فکر ہوتی ہے کہ کہیں نظریاتی ، فکری ، علمی اور روحانی شکست نہ ہو۔
میری گفتگو کا موضوع دراصل یہی دوسری شکست ہے۔
جس کے بارے میں سوچنا اور غور کرنا ضروری ہے۔اور ایک طویل منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اب روایتی تھوک پالش سے کام نہیں چلے گا۔ انقلابی فیصلے کرنے ہوں گے۔
سیاسی شکست پر عام و خاص نے بہت گفتگو کی ہے ۔ اس کو دہرانے کا کیا فائدہ؟
میرے نزدیک اس کے بنیادی اسباب یہ تھے۔
1- بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا اسلامی تحریکوں کے خلاف سخت موقف اور مقامی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں پر دباو۔
2- مقامی اسٹیبلشمنٹ کے دانشوروں کا جماعت اور اسلامی تحریک کو پوری طرح نہ سمجھنا اور ان سے کلی طور پر بے تعلق ہوجانا بلکہ معاند ہو جانا۔
3- ضیاء الحق مرحوم کے بعد کے ادوار میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے طرز حکومت سے عوام کی بیزاری۔
4- فاسق و فاجر عمران خان کا (مقامی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اور دیگر مقامی اداروں کی مدد سے ) پر زور اور جارحانہ طریقے سے، اسلام کے نام پر ” ایاک نعبد و ایاک نستعین ” کا نعرہ لگا کر بجا طور پر سماجی عدل وانصاف کی طرف لوگوں کو راغب کرنا ( جو یقینا لائق تحسین ہے ) اور بالخصوص نوجوانوں اور خواتین کو (خالص اسلامی اقدار و اخلاقیات کے بجائے )مغربی اخلاقیات سے اور رقص و موسیقی کے ذریعے بھی متوجہ کرنا۔
عمران خان کی یہ ٹیکنیک نہایت کامیاب رہی کہ وہ جماعت کی تعریف کرتا رہا اور مولانا فضل الرحمن صاحب کی تذلیل ، اس طرح وہ ایم ایم اے کی صفوں میں دراڑ ڈالنے میں پوری طرح کامیاب ہوگیا۔ کہتے ہیں پشتو کا محاورہ ہے اگر تمہیں گجر کو مارنا ہو تو اسے نہ چھیڑو ، اس کے بھینسے کی پٹائی کرو ، گجر آپ خود مر جائے گا۔
5- اسلامی جماعتوں ( جمعیت علمائے اسلام ، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور جماعت اسلامی وغیرہ ) کا غریب و مسکین ہونا ، میڈیا پر تشہیر و اشتہارات کے لیے مفلس اور قلاش ہونا۔
6- اسلام پسندوں کے پاس عمران کی طرح کے جارح خطیب کا نہ ہونا ، جو اسلام کے منشور اور اپنے اہداف کو عوام کی زبان میں پیش کرسکتے۔
7- اسلام پسندوں کا “توحید حاکمیت” کے تصور کو پوری طرح نہ سمجھنا اور دوسروں کو سمجھانے سے قاصر ہونا۔
8- اسلام پسندوں کا قرآن و سنت میں دئیے گئے “بنیادی حقوق” سے پوری طرح واقف نہ ہونا اور اپنے کارکنوں اور عوام کی صحیح سیاسی تربیت کر نہ سکنا۔
9- عمران کا دینی صفوں میں شگاف ڈالنا اور مولانا فضل الرحمن کو ٹارگٹ بنا کر خصوصا جماعت کے کچے اور ناراض لوگوں کو اپنا ہم نوا بنالینا اور اس پردے میں علماء اور دینی شخصیات کی بے توقیری کرنا۔
10- عمران خان کے بیانیے کے خلاف ، دینی جماعتوں کے پاس کوئی ” مؤثر متبادل اسلامی بیانیہ” ہی نہیں تھا۔
عوام تو عوام ہیں، دینی گھرانوں ،علماء ، ” مولویوں” اور خود جماعت اسلامی کے بعض ارکان نے بھی اپنے امیدوار کی حمایت کے بجائے ، نہ صرف عمران کی تائید کی بلکہ اس کے کیمپ میں جاکر اس کو جتوانے کے لیے متحرک ہوگئے۔

اپنے اور بیگانے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں ، لیکن ناکامی ہمیشہ یتیم ہوتی ہے۔

بیگانے کہتے ہیں: سیاسی دوکان بند کریں۔ سماجی کام کریں۔
اپنے کہتے ہیں : صوفی بن جائیں ۔ اللہ اللہ کریں۔ کچھ کہتے ہیں جماعت کے دو حصے کریں ، ایک دعوتی کام کرے گا ، دوسرا سیاسی۔ حالانکہ جماعت اسلامی دوئی Dichotomy کو مثانے کے لیے کھڑی کی گئی تھی۔
اپنوں اور بیگانوں میں کچھ ایسے ہیں ، جو جماعت اور تحریک کو سمجھے بغیر اسے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے ہیں ۔
کچھ ایسے دانا دشمن ہیں ، جو جماعت اور تحریک کو اچھی طرح سمجھتے بھی ہیں اور پھر اس کی بھرپور مخالفت بھی کرتے ہیں ، لیکن ان کی تعداد بہت قلیل ہے۔
بیگانوں میں کچھ ایسے ہیں ، جو جماعت کو نیک اور دیانت دار لوگوں کے ایک چھوٹے گروپ کی حیثیت سے جانتے ہیں اور اس کا تعارف اسی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
اپنوں میں سے کچھ ایسے ہیں ، بلکہ اب ان کی کثرت ہے، جو وقت کے ساتھ مزید بڑھتی جارہی ہے ، بالخصوص نوجوانوں میں ، جو جماعت کو صرف ایک “سیاسی تحریک” سمجھتے ہیں اور جماعت کی فتح و شکست کو صرف اور صرف الیکشن کی فتح و شکست کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔

شکست اور زوال کے اصل اسباب :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے نزدیک جماعت اور تحریک کی سیاسی شکست اور اس کا زوال زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے، بلکہ اس کا داخلی محاذ پر انحطاط سے دوچار ہونا بے , جوحد تشویش ناک ہے۔

یہاں چند ایک کی نشان دہی کی جارہی ہے۔
1- جماعت کے رکن کا “خالص سیاسی کارکن” بن جانا اور اپنے آپ کو قرآن و سنت کے داعی اور مبلغ کے منصب سے کنارہ کش کرلینا۔
میں اسے تحریک کا سب سے بڑا زوال سمجھتا ہوں۔
یہ زوال 1990ء کے بعد برق رفتاری سے آگے بڑھتا رہا۔ ہفتہ وار درس قرآن اور درس حدیث کی اہمیت اور باقاعدگی گھٹتی گئی۔ نصاب رکنیت کے وجوب کو استحباب سے بدلا گیا۔ نصاب میں حالات و زمانہ کی رعایت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب تبدیلیوں سے گریز کیا گیا۔
2- دستور جماعت سے روگردانی۔ حلف رکنیت کے بارے میں غیر سنجیدگی۔عقیدہ ء جماعت اور طریقہ ء کار سے بے اعتنائی , جو حلف کے بعد (اللہ نہ کرے) اللہ سے بے وفائی اور بغاوت کے درجے تک پہنچ سکتی ہے۔
شعوری حلف کے بجائے محض ایک رسمی اور کاغذی کاروائی بن سکتی ہے ، جس طرح پاکستان کے کرپٹ حکمران حلف اٹھا کر اپنےحلف اور دستور پاکستان کی خلاف ورزی کرتے رہے ہیں۔
3- جامع توحید کے بارے میں تساہل ، جو جماعت کے دستور اور لٹریچر میں موجود ہے۔
4- منصب رسالت کے بارے میں لاعلمی اور سنت کے بارے میں تساہل۔ قیادت کا امہات الکتب صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی طرف عدم رجحان۔ اتباع سنت کے سلسلے میں غیر سنجیدگی۔فقہ کے بنیادی اصولوں سے واقفیت جو فقہ حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی میں مشترک ہے۔
5- توحید حاکمیت :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کارکنان اور قیادت کی ” توحید حاکمیت” سے لاعلمی اور قرآن و سنت میں موجود اس کے علمی دلائل سے عدم واقفیت ،یہی وہ اہم چیز ہے جو جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کو دیوبندیوں ، بریلویوں اور اہل حدیث سلفیوں سے ممتاز اور ممیز کرتی ہے۔
6- عدل اجتماعی کے جامع تصور سے لا علمی :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام کے “سیاسی ، سماجی اور معاشی عدل” کے تصور سے پیشتر ارکان و کارکنان کی لا علمی اور کار رسالت کے ایک اہم جزء ” لیقوم الناس بالقسط ” ، کئی لا یکون دولة بین الانبیاء منکم ” اور ” امرت لاعدل بینکم ” کے جامع ادراک سے محرومی۔
7- اسلامی طرز حکومت سے لا علمی :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور خلفائے اربعہ راشدین و مہدیین کے طرز حکومت سے لا علمی، جو اسلامی تحریک کے لیے ایک نمونہ اور ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
8- علمی زوال :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیادت کی اکثریت (آلا ما شاءاللہ) وحی الٰہی پر مشتمل اسلام کے بنیادی دو (2) آسمانی ماخذوں (قرآن و سنت) اور اس کی زبان سے لا علم ہوتی جارہی ہے۔ شوری میں علماء کی مقدار اور میعار میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔
جب قاضی حسین احمد مرحوم نے مولانا گوہر رحمن کو صوبہ سرحد کی امارت سے معزول کرکے پروفیسر ابراہیم کو مقرر کیا اور نو (9) نائب امراء میں مولانا گوہر رحمن جیسے بڑے عالم کو شامل نہیں کیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اب مستقبل میں “اسلامی تحریک” کی قیادت غیر علماء ہی کے پاس رہے گی اور علماء محض دم چھلے کی حیثیت ہی سے تحریک میں شامل رہیں گے ، جب کہ اس کا دستور صاف کہتا ہے کہ ہم ہر فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ اس معاملے میں قرآن و سنت کی کیا ہدایات ہیں۔
یعنی آب سیاسی قیادت ہی فیصلہ کن قوت کی حامل ہوگی۔
ایک نکتہ سمجھ لیجیے۔ مولانا مودودی جس طرح دینی اور دنیاوی علوم کے جامع تھے ، جماعت کی قیادت اسی طرح کی جامع ہو، ورنہ خالص دینی علوم اور خالص دنیاوی تعلیم کا حامل تحریک اسلامی کی قیادت کا اہل نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اس کے نتائج آپ دیکھ رہے ہیں۔
اب لکھنے والے کم ہیں۔ سوچنے والے کم ہیں۔
9- فکری زوال:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فکری زوال یہ ہے کہ لوگ سیا ست اور سیاسی شکست کے علاؤہ کچھ غور ہی نہیں کرتے۔ جس کی طرف یہاں اشارات ہیں۔
10-عملی تربیت سے بے اعتنائی :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی تربیت نیک لوگوں کی صحبت سے ہوتی ہے۔ کونوا مع الصادقین کا حکم اسی لیے ہے۔ کوئی ہو جو غیبتوں پر ٹوک دے۔ کوئی ہو جو بتائے کہ نماز تم نے اطمینان سے نہیں پڑھی۔ کوئی ہو جو بتائے آپ نے سجدہ صحیح نہیں کیا ۔ کہنی تک ہاتھ زمین پر کیوں پھیلائے ؟ نماز کے بعد کچھ دیر بیٹھ کے مسنون اذکار کیوں نہیں کیے ؟
11- شرعی عقل و استدلال سے گریز ، جس کے نتیجے میں لوگ اعتزال اور غامدیت کی طرف رجوع کر رہے ہیں ، جو سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کے لیے سر گرم ہیں۔
12- روحانی تربیت سے گریز :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“نبوی روحانیت” کے فروغ کے بجائے، روایتی تصوف کے احیاء کی کوشش، مولانا مودودی کے منہج سے انحراف۔ یہ تبدیلی ترجمان القرآن سے نعیم صدیقی صاحب کی علیحدگی اور خرم جاہ مراد صاحب کے مدیر مقرر ہونے سے رونما ہوئی۔ارکان و کارکنان کی روحانیت میں تو ایک ماشے کا بھی اضافہ نہ ہوسکا ، لیکن بعض نے ذکر کے غیر مسنون طریقے اور بعض نے مزاروں پر چادر چڑھانے کی بدعت اختیار کرلی۔ مولانا مودودی اس قسم کی حماقتوں سے کوسوں دور تھے۔ قرآن مجید کے مخصوص حصوں اور مسنون دعاؤں کی تحفیظ سے ارکان و کارکنان کو روحانی طور پر بلند کیا جاسکتا تھا ، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
نتائج :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1- جمعیت کے عظیم ادارے کا زوال :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی جمعیت طلبہ ایک عظیم ادارہ ہے۔ مجھے اس سے محبت ہے۔ یہ نئی نسل کو اسلام سے وابستہ رکھتا ہے۔جمعیت جیسے عظیم ادارے کو ، جو مستقل جماعت کو افراد دیتا ہے ۔
اس نے دنیا کو پروفیسر خورشید احمد اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسے افراد دیے ہیں ۔
آج خورشید کیوں طلوع نہیں ہوتے ؟
آج اسرار طشت از بام کیوں نہیں ہوتے ؟
اس لیے کہ ان کے سامنے بڑے لوگ تھے۔
ان کے عزائم بلند تھے۔ ان کے سامنے علم کا لا متناہی سمندر تھا۔
عجلت پسندوں نے دانستہ یا نادانستہ کمزور کیا ۔ جمعیت کے مقابلے میں شباب ملی اور پاسبان کی سرپرستی کی گئی ، یہی غیر تربیت یافتہ تنظیمیں آگے چل کر عمران خان کا ہراول دستہ بنیں۔
اسلامی تحریک کے زوال کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تحریکی افراد اپنے 50 فی صد وسائل جمعیت کو دیں۔ الیکشن میں ضمانتیں نہ گنوائیں۔ یہ وسائل کا ضیاع ہے۔ نئی نسل کو سنبھالیے۔
طویل المیعاد منصوبہ بندی کیجیے۔
یہیں سے بڑے لوگ پیدا ہوں گے۔ ان ہی نوجوانوں سے امید ہے۔
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ہمیں چن چن کر ایسے ذہین نوجوانوں کو منتخب کرنا ہوگا ، جو فرسٹ ڈیویژن میں پاس ہوتے رہے ہیں ۔سنہیں تکمیل علم تک وظائف دے کر کفالت کرنی ہوگی۔ ہر ضلع میں 13 سے 15 سال کے ذہین لڑکوں کا انتخاب کرنا یوگا۔ پیسہ یہاں لگائیے۔
انہیں دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرکے سول سروس ، فوج ، پولیس ۔ عدلیہ ، ادب ، صحافت ، اقتصاد ، قانون اور دیگر شعبہ جات میں پی ایچ ڈی کرانا ہوگا۔ یہی لوگ مستقبل میں تحریک کے قائد ہوں گے ۔ ان کی اسلامی تربیت کرنی ہوگی۔ ان کے کردار کو سنوارنا ہوگا۔ یہ ہے وہ طویل المیعاد منصوبہ جس کی روشنی میں پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ سیاسی جدو جہد ضروری ہے ، لیکن محض سیاسی جدو جہد سے اسلامی انقلاب برپا نہیں ہو سکتا۔

2- ارکان جماعت کے عظیم ادارے کا زوال :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیام پاکستان کے بعد ارکان کی تعداد تین سو کم تھی۔ آج تیس ہزار سے زیادہ ہے۔ ہر رکن اپنی جگہ ایک انجمن تھا۔ ایک شمع ، جس کے اطراف پروانے تھے۔ عجلت پسندوں نے اس ادارے کو کمزور کیا۔
ہر رکن خود قرآن و سنت کا درس دیتا تھا ، یا اس کا گھر دعوت کا مرکز تھا۔ ہر رکن کے پاس ایک اچھی خاصی لائیبریری ہوتی۔ وہ اسلام کا مجسم داعی تھا۔
ان کی خواتین ، ان کے بچے سبھی اسلامی رنگ میں ڈھل جاتے تھے۔
پھر پی پی پی اور مسلم لیگ کی طرح عوامی بھرتیاں ہونے لگیں۔
ان میں داعی اور مبلغ کم تھے۔ محض سیاسی کارکن تھے۔
دستور کو سمجھے بغیر حلف لینے لگے۔
ارکان کے حلف نامے میں تین (3) دفعہ ” اچھی طرح ” کا ذکر ہے ۔
پھر اسی انحطاط نے “باگ ڈور” ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دی جو ” بھاگ دوڑ ” کرنے والے تھے۔ اب دل اور دماغ کے بجائے ہاتھ اور پاؤں کے ہاتھ میں فیصلے تھے۔ یہ تبدیلی یکایک نہیں آئی۔ اس زوال کا آغاز 1987ء کے بعد بہت تیزی سے ہونے لگا۔ اور اب 31 سال بعد 2018ء میں آپ خود ملاحظہ فرماتے ہیں۔
لٹریچر سے لگاؤ نہیں۔ قرآن و حدیث کا باقاعدہ روزانہ مطالعہ نہیں۔ ہفتہ وار درس میں شرکت نہیں ۔بس سیاسی جلسے میں شرکت کی اہمیت حاصل کرگئی۔ صوت حمیر پر مشتمل نعرے ہی جذبات کو مہمیز دینے کے لیے کافی تھے۔ علم و استدلال پر جذباتیت کو ترجیح تھی۔
کچھ مفاد پرست کسی طرح جماعت کے رکن بن کر جماعت کے ارکان کو مالی نقصان پہنچانے لگے۔
الیکشن میں خود امیدوار بننے کو عیب سمجھا جاتا تھا اور اس کا اخراج ہوجاتا تھا۔ اب علی الاعلان ہوس انگڑائیاں لینے لگی۔
الیکٹیبلز Electables اور ATM کی اہمیت بڑھنے لگی۔
گروپ بندیاں عام ہونے لگیں۔
بعض بغاوت کرکے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے لگے۔
جب شوہر ظلم کرتا ہے تو بیوی باغی ہوجاتی ہے۔ اس کے رد عمل پر وہ خود طلاق دے دیتا ہے ، یا پھر بیوی خود خلع لے لیتی ہے۔
میاں بیوی کی لڑائی میں بچے پس جاتے ہیں۔ امیر اور مامور کا یہ تعلق صرف انتظامی نہیں ، بلکہ ایمانی ، قلبی اور روحانی ہوتا ہے۔
3- شوریٰ کے اداروں کا زوال :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارکان کا زوال خود بخود شوری کے زوال کی صورت میں رونما ہوا۔
اب صاحب الرائے ہی نہیں ، غیر صاحب الرائے بھی رائے دینے لگے۔
وہ لوگ رائے دینے لگے ، جو صرف الیکشن کی سیاست کے تجربے کار تھے۔ ان کے نزدیک جماعت کے مجموعی نصب العین اور کردار سازی کی اہمیت بہت کم تھی۔ نہ ان کا مطالعہ تھا اور نہ ان کے فہم میں گہرائی۔
ہر ضلع کا امیر ، جو خود الکشن میں امیدوار تھا ، شوری کا لازما رکن بن گیا۔ اب شوری کا اصل ایجنڈا امیدوار کی سرگرمیوں کے اطراف ہی گھومتا تھا۔
امیر ضلع کا خود امیدوار بن جانا نہ صرف ضلع کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ، بلکہ شوری کے لیے بھی۔ امیر ضلع کی ترجیح اول خود اس کا ضلع سے پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کے لیے انتخاب تھا۔ دعوت ، تربیت وغیرہ وغیرہ سب ثانوی حیثیت اختیار کر گئیں۔
4- قیادت کا زوال :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثر جگہ اب قیادت کا معیار یہ تھا کہ وہ علمی ، فکری ، اخلاقی اور روحانی طور پر جیسا بھی ہو قائد وہ تھا ، جو پیسہ لگا سکتا ہو ، الیکشن لڑ سکتا ہو۔ اب یہ نئی قیادت ارکان و کارکنان کی مربی اور آئیڈیل بھی تھی۔
نیک اور شائستہ لوگ پہلے مزاحمت کرتے رہے لیکن پھر بتدریج حیرت زدہ خاموش تماشائی بنتے گئے۔
5- نئی ترجیحات کے تعین سے گریز اور پرانی ڈگر پر بدستور قائم رہنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلرکوں کا کام دفتری کاغذات کو درست رکھنا ہوتا ہے۔
یہ منصوبہ بندی کرنے لگے۔
پچھلے سال کا منصوبہ لے کر اس میں پانچ دس فی صد اضافہ کرکے ہر سال نیا منصوبہ بنایا جانے لگا۔ اور چھاپ کر خوبصورت سے خوبصورت کاغذ پر چھاپا جانے لگا۔
لکیر کے فقیر اور کیا کرسکتے ہیں
یہ ہے ہمارے گزشتہ پینتیس چالیس سال کے زوال کی داستان !
عروج کا راستہ :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کے بعد زوال ہے اور زوال کے بعد عروج۔
جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے ، ادھر ڈوبے ادھر نکلے
امام مالک نے پتے کی بات کہی تھی کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی اس امت کی اصلاح بالکل اسی طرح ہوگی ، جس طرح پہلے ہوئی تھی۔
جماعت اسلامی کی تحریک کی اصلاح بھی بالکل اسی طرح ہوگی ، جس طرح پہلے اس کی بنیاد قائم کی گئی تھی۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم نئے سرے سے معاملات کا جائزہ لیں۔
آپ پرانی دوا بے اثر ہوگی۔
ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ایک نئے لائحہ ء عمل کی ضرورت ہے۔
اب پوری قیادت کو بدل کر نئی قیادت لانی ہوگی۔
نو جوان قیادت۔
یہی عروج کا راستہ ہے۔
نوجوانوں کو ہماری ترجیح کا مرکز ہونا چاہیے۔
باقی کام ثانوی حیثیت کے حامل ہوں گے۔

نئے امیر کا انتخاب :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امیر کے انتخاب میں مروجہ طریق کار کو بدلنا ہوگا۔
تین ناموں کے بجائے دس بارہ نام دئی جائیں۔ ہو صوبے سے تین چار نئے نام۔
نامزد کردہ امیدواروں سے پوچھا جائے گا کہ وہ اگر منتخب ہوجاییں تو پہلے سال اور دوسرے سال اور تیسرے سال کیا اہداف حاصل کریں گے ؟
اب امیر کا انتخاب کارکردگی پر ہوگا ؟
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
امیر خود انتخاب نہیں لڑے گا۔ اس کی ہیبت اور رعب ہوگا۔
سیاسی لوگ اس سے آکر ملیں گے۔ وہ بادشاہ گر ہوگا۔ وہ محور ہوگا۔ مرکز فکر و رشد و ہدایت ہوگا۔ وہ نہ سینیٹ میں جائے گا اور نہ عدالتوں کے چکر لگائے گا۔
شوری کی نئی ماہیت :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوری کی ماہیت کو بھی بدلنا ہوگا۔
اس میں علماء اور فقہاء کے لیے ، مفکرین کے لیے ، اقتصادی ماہرین کے لیے ، قانونی اور دستوری ماہرین کے لیے ، عسکری ماہرین کے لیے ، مینیجمینٹ کے ماہرین کے لیے نشستیں مخصوص کرنی ہوں گی۔
ارکان :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر رکن کو قرآن و سنت کا داعی اور مبلغ بنانا ہوگا۔
اخوان کی طرح ہر رکن کو مغرب تا عشاء مسجد میں بیٹھ کر دعوت اور تربیت کے لیے تیار کرنا ہوگا
پاکستان کے تمام ارکان کا اور جمعیت کے نوجوانوں کا فردا فردا جائزہ لینا ہوگا کہ کون کس قابل ہے ؟ کس سے کیا کام لیا جاسکتا ہے ؟ کس میں کیا صلاحیت ہے ؟ کن کن کی صلاحیتوں کو کن کن امور میں ترقی دی جاسکتی ہے۔
یہاں صرف سیاسی صلاحیت مقصود نہیں۔
ہر ضلع کی الگ الگ منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔
منصوبہ بندی میں کلرکوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔
والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا
اللہ کرے یہ تحریر جماعت کو ایک نیا لائحہ ء عمل مرتب کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو۔
اللھم انی اعوذبک من شرور نفسی و من سیاتی اعمالی
طالب دعائے خیر
خلیل الرحمٰن چشتی
11 اگست 2018ء  

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں