آج میں آپ سب کے ذہن میں ایک ضروری بات ڈالنا چاہتاہوں۔ کہ بچوں کی پیٹ۔معدہ اور سینے کی بیماریوں کا واحد جَڑ صرف اور صرف….

میں کٸی دنوں سے اس کے بارے میں انٹرنیٹ۔ ڈاکٹروں اور دوستوں سے پوچھ پوچھ کے اس مقام پر پہنچا ہوں۔

کہ بچوں کی پیٹ۔معدہ اور سینے کی بیماریوں کا واحد جَڑ صرف اور صرف چپس/پاپڑ ہے۔ جس کو ہمارے بچے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

کیونکہ آج میں فروٹ لینے کی غرض سے ایک دوکان میں داخل ہوگیا۔تو وہاں پر چپسوں کا ایک انبھار دیکھ کر میں حیران ہوگیا۔ کیونکہ اس دوکان میں چارو طرف چپس ہی چپس پڑے تھے۔ جس میں جانان چپس۔ دلبر چپس۔ سلانٹی چپس۔ کورکورے ۔ شانسے چپس۔ مجھےکیوں نکالا چپس۔ گل پانڑہ چپس اور بھی کٸ طرح کے ناموں والے چپس اِدھر ادھر پڑے تھے۔ کچھ چپس تو بغیر ناموں کے بھی پڑے تھے جس کا نا تو کوٸی نام تھا اور نا کوٸی کمپنی کا اتا پتہ اور وہ بھی ایک سادہ سی تھیلی میں بند پڑے تھے۔ یار خدا کا خوف کیجیۓ۔ یہ ہم اپنے بچوں کو کیا کھلا رہےہیں کسی نے آج تک یہ نہیں سوچا۔۔۔۔۔۔
خدا نخواستہ اگر ایک بچہ ان چپس کو کھا کربیمار ہوجاۓ اور مرجاۓ۔۔۔۔
تو آپ کس کے خلاف مقدمہ/ FIR درج کرینگے ؟
کس کو پکڑ ینگے ؟
بغیر نام والے چپس پر یا دلبر چپس بنانے والوں پر یا جانان چپس بنانے والوں پر ؟
کیونکہ اس کا تو نا کوٸی رجسٹرڈ کمپنی ہے ناکوٸی ایک خاص فیکٹری اور نا کوٸی ایک مالک۔ اگر پیپسی یا کوکاکولا سے کسی کی موت واقع ہوجاۓ تو آپ ایک محسوس کمپنی کے اوپر مقدمہ/FIR درج کروگے مگر یہاں پر کس کے خلاف FIR درج کروگےکیونکہ یہاں پر تو معاملا کچھ اور ہے۔
اے میرے گاٶں والے بس کریں اپنے بچوں کو اور زہر مت کھلاٸیں۔ اپنے بچوں پر رحم کریں۔
پھر میں نے سوچا کہ شاید اس میں غلطی دوکاندار کی ہے کیونکہ وہ ہمارے بچوں کے لۓ یہ زہر جان بوجھ کے لاتے ہیں۔میں دوکان میں کھڑا ہی تھا اوریہی سوچ ہی رہاتھا کہ کچھ ہی لمحے بعد ایک چھوٹا سابچہ دوکاندار کے پاس آیا اور چپسوں کی دو تھیلی اپنے ساتھ لے کر باہر چلا گیا۔
میں حیران ہوگیا کہ اِن چپس کو کھانے سے اس ننے سے بچے کے معدے کےلیے کتنا خطرناک ہے۔ اس کے بعد دوسرا پھر تیسرا حتہ کہ سارا چپس کچھ ہی گھنٹوں میں چپسوں کے سارے تھیلے غاٸب ہو گیۓ۔
اب آپ خود سوچیۓ گا کہ غلطی کس کی ہے ؟
بچوں کی یا دوکاندار کی؟۔
بظاہر میں اگر دیکھا جاۓ تو غلطی دوکاندار کی ہے اور اگر حقیقت کو دیکھے تو زیادہ غلطی والدین کی ہے۔ اگر والدین اپنے بچے کو نہیں سمجھا سکتا تو کوٸی اور اس کو کیا خاک سمبھاۓ گا۔
کیونکہ پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو چپس خریدنے سے منع کرینگے تو دوکاندار چپس نہیں لاۓ گا۔ کیونکہ سپلٸ کا دارومدار تو ڈیمانڈ پر ہوتا ہے اگر ڈیمانڈ نا ہو تو سپلٸ خودبخود نہیں ہوگی۔
میں نے ایک نہیں بلکہ کٸ ڈاکٹروں سے یہ خود سناہے کہ چپس کھانے سے بچوں میں سینے. پھپھڑوں اور معدے کی بیماریا پھیلتا ہے یہ نہیں بلکہ اور بھی کٸ جان لیوا بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
آج کل کی مہنگاٸی کے اس دور میں دو وقت کی روٹی بمشکل سے ملتی ہے اور اوپر سے یہ بیماریاں انسان کو بے حال کردیتا ہے۔ سب بیماریوں کا واحد حل صرف اورصرف اپنے بچوں کو اس گندگی سے دور رکھیں ۔ تو انشاءاللہ زندگی آسان ہوجاۓ گی اور بیماریوں سے نجات ملے گی۔
”تحریر میں کسی بھی غلطی کی صورت میں ہماری رہنماٸی کیجۓ۔ شکریہ“

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں