اسٹیبلشمنٹ کو منہ زور گھوڑا قابو میں آنے کا نہیں – تحریر: رشید احمد صدیقی

اسٹیبلشمنٹ کو منہ زور گھوڑا قابو میں آنے کا نہیں – تحریر: رشید احمد صدیقی

عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے جتایا ہے۔وہ یو ٹرن خان ہیں۔ان کی ایک ناجائز بیٹی ہے۔وہ یہودی ایجنٹ ہیں۔ان کے ساتھ سارے کرپٹ الیکٹیبلز مل گئے ہیں۔ یہساری باتیں الیکشن سے پہلے ہو چکی ہیں۔تمام اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی مہم میں یہ نکات بار بار دہرائے۔اس کے باوجود وہ وزیر اعظم کا حلف اٹھا کر رہیں گے۔
اپوزیشن اب احتجاج کر رہی ہے اور پاکستان میں پہلی بار کھل کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔سب سے توانا آواز مولانا فض الرحمان اٹھا رہے ہیں۔کچھ حلقے یہ تاثر لے رہے ہیں کہ اس طرح اسٹیبلشمنٹ کا منہ زور ہاتھی قابو میں آجائے گا۔میرا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو قابو کرنے کے لیے حالات اگرچہ سازگارہیں لیکن تیاری نامکمل کیا نہ ہونے کے برابر ہے۔آصف علی زرداری کی پارلیمانی قوت اس سے پہلے والی اسمبلی کے مقابلہ یں بڑھ گئی ہے۔اور وہ اپنے کرپشن کیسز کو دوبارہ کھلنے سے پہلے پیش بندیوں میں درپردہ مصروف ہیں۔بلاول زرداری اس کلی کے مصداق ہے جو بنا کھلے مرجھا گئی ہو۔لہٰذا وہ دونوں اسٹیبلشمنٹ سے ٹھکر لینے کی پوزیشن میں نہیں۔نواز شریف قصہ پارینہ بن گئے ہیں اور شائد اب این آرو کے معجزہ کے منتظر اور اس کے لیے کوشاں ہوگے بواساطہ شہباز شریف ۔ شہباز شریف پنجاب پرد وبارہ قبضہ کے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ہی کے محتاج ہیں۔مذہبی جماعتوں کا سیاسی اثر ختم ہو کر رہ گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں نمائندگی پہلے سے کافی اچھی ہو گئی ہے۔لیکن خود پارلیمنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔صرف وہ ہی ایسے لیڈر ہیں جن کی دبنگ آواز آج کل گونج رہی ہے لیکن ان کی ماضی ایسی ہے کہ در پردہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں۔سب کو معلوم ہے کہ ان کے مظاہرے عمران خان کے لیے کوئی بڑی مشکل نہیں پیدا کر سکیں گے اور مستقبل قریب میں وہ قومی اسمبلی میں ہوں گے بنوں سے ضمنی الیکشن جیت کر۔شائد ان کو جتا دیا جائے۔اپوزیشن میں رہتے ہوئے کسی کمیٹی کے چئیرمین ہو جائیں گے ماضی کی طرح ۔1973کے آئین کے تناظر میں اللہ اللہ خیر سلّا۔
اسٹیبلیشمنٹ کا زور توڑنے کے لیے عمران خان سے توقع تھی لیکن وہ مکمل طور پر اس کی گرفت میں جا چکے ہیں۔اور ان کی آنے والی حکومت کی جان اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہو گی۔اس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ عمران خان کو بلوچستان،ایم کیو ایم اور آزاد ارکان سے حمایت لینی پڑی ہے اور تمام بحرانوں کی جڑ یہی عناصر ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ میرے خیال میں مزید مضبوط ہو گئی ہے۔اس کی کمر توڑنے کا اصل طریقہ اردگان طرز کی سیاست ہے۔کوئی لیڈر اپنی تمام توجہ توجہ عوامی فلاح پر رکھے۔کسی قسم کی جلد بازی اور جذاباتی ہونے کی کوئی ضرور نہیں۔جب عوام ساتھ ہو جائیں گے تو ترکی کی طرح اسٹیبلشمنٹ کو کان پکڑوا کر اپنے کام تک محدود کر سکیں گے۔
موجودہ صورت میں دیکھیں،آصف زرداری سے نوجوان نسل کو کوئی توقع نہیں کہ وہ ملک کے لیے کچھ کر سکتے ہیں ا ور نہ انھوں نے کوئی ایسا کارنامہ انجام دیا ہے اب تک، جس کو مثال بنا کر وہ پیش کر سکتے ہیں۔نواز شریف نے موٹر ویز بنائے۔بجلی بحران کے خاتمہ پر خاطر خواہ کام کیالیکن اپنی جماعت کی تنظیم پر کوئی توجہ نہ دی اور نون لیگ نوجوانوں کو نواز شریف کا اصل چہرہ دکھانے میں ناکام رہی۔اب وہ قصہ پارینہ ہے۔بلاول بھٹو اور بے نظیر کے سحر میں نوجونوں کو کھینچنے میں ناکام رہے۔ویسے آصف زرداری جیسے شجرسایہ دار کے نیچے ان کا پلنا پھولنا ناممکن ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے کھاتہ میں علما ہیں۔لوگ بار بار ان علما کو ووٹ دیتے آئیے ہیں لیکن اگلی بار کوئی کارکردگی نہ ہونے کی بنیاد پر وہ ہار جاتے ہیں۔مولانا اپنی شاطرانہ سیاست سے اپنی سیٹیں دس بارہ رکھنے کی حد تک کامیاب ہے لیکن عوام کی اکثریت ان کے ساتھ جانے پر ہرگز تیار نہیں۔
عمران خان پر انتہائی سنگین الزامات کے باوجود قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے ان کے ورلڈ پ جیتنے،کینسر ہسپتال بنانے اور یونیورسٹی قائم کرنے پر نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا چکے ہیں کہ یہ لیڈر کچھ کر گزرے گا۔اس بار اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ان کو اقتدار تو مل گئی لیکن اعداد و شمار ایسے رکھے گئے ہیں کہ ان کو کچھ ملنے کا نہیں۔مولانا فضل الرحمان جو جلد بازی میں دکھ رہے ہیں وہ وقتی ہے ۔یہ جاگ جلدی بیٹھ جائے گا ور عمرا خان اسٹیبلشمنٹ کے گرداب میں کتنا عرصہ گزار پائیں گیاس کو دیکھنا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں