مولاناسرکاری رہائش چھوڑکر کہاں قیام پذیرہوئے۔۔ جان کرآپ دھنگ رہ جائنگے

مولاناسرکاری رہائش چھوڑکر کہاں قیام پذیرہوئے۔۔ جان کرآپ دھنگ رہ جائنگے

خبر ہے کہ مولانا نے اپنا سامان سمیٹا اور طلحہ محمود کے فارم ہاوس لا کر رکھ دیا ، طلحہ محمود کون ہے ؟ مولانا کی جماعت کا سنیٹر ، مولانا سرکاری جگہ خالی کر کے اپنے سینیٹر کے ہاں آئے تو تبصرے شروع ہو گئے ،
بھائی صاحب
مولانا کا مکان نہیں ، کوئی پلاٹ نہیں ،وہ عمر بھر اس دشت کی سیاحی کرنے کے بعد اگر اسلام آباد میں اپنا گھر نہیں رکھتے تو اسے سراہ جانا چاہیے یا تنقید کرنی چاہیے ؟
ہاں مولانا سامان سمیٹے اور مشرف کی طرح دبئی چلے جاتے ، پھر آپ تنقید کرتے میں ساتھ دیتا ،
مولانا سامان اٹھاتے اور کیانی کی طرح آسٹریلیا جاتے میں قلم کا رخ انکی جانب کر لیتا ،
مولانا سامان اٹھاتے اور راحیل شریف کی طرح سعودیہ کی نوکری کو نکل پڑتے میں قلم کو تلوار بنا لیتا ،
مولانا سامان اٹھاتے اور جہانگیر کرامت کی طرح امریکہ نکل پڑتے میں انکے گریبان پر ہاتھ ڈالتا اور کہتا اس ملک کی لاج رکھو ، اس ملک نے تمھیں عزت دی ہے _
مولانا سامان اٹھاتے اور پاشا صاحب کی طرح شیخوں کی خدمت کرتے میں بگڑتا ،
مولانا قلم اٹھاتے اور درانی کی طرح کوئی کتاب لکھتے میں شکوہ کناں ہوتا،
مولانا سامان اٹھا کر اپنے سنیٹر کے ہاں چلے آئے ، اس میں برا کیا ہے ؟ یہی کہ کرپشن نہیں کی ؟ کوئی گھر نہیں بنایا ؟ امریکہ دبئی سعودیہ کیوں نہیں گئے ؟
معلوم ہے کہ بات کیا ہے ؟
بات وہی ہے جو ماضی میں زرداری صاحب کیساتھ تھی ، انہیں چور کہا گیا ، ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا ، گلی گلی میں اس شخص کا چہرہ مسخ کیا گیا ، پھر عدالت کہتی ہے کہ نہیں جی زرداری چور نہیں ، کسی میڈیا ہاؤس میں شرم نام کی چیز نہیں کہ وہ زرداری صاحب سے معافی مانگتا، پھر نواز شریف کی باری آئی، اب وہ کرپٹ ہیں ، جیل کی سلاخوں پیچھے ہیں ، کل یہ بھی بری ہو جائینگے مگر میڈیا معافی نہیں مانگے گا ، اب مولانا نشانے پر ہیں ، انکی کردار کشی کی جا رہی ہے ، انہیں چور شرابی ، اقتدار کا بھوکا اور بہت کچھ کہا جا رہا ہے ، ہم نے نہ کل میڈیا کی عدالت کے تبصروں کو اہمیت دی اور نہ آج دیتے ہیں ، میں جماعت اسلامی و جمعیت کی سیاست سے نالاں ہوں مگر مجھے یہ علم ہے کہ ان لوگوں سے جماعتی یا حکومتی عہدہ واپس لیا گیا تو یہ آرام سے گھر چلے جائینگے ،
منور حسن یاد آئے ،
جماعت اسلامی کی امارت سے ہٹے تو تین کپڑوں کے جوڑے اٹھائے اور پانچ مرلے کے مکان کی جانب چل پڑے ، زندگی کے بقیہ ایام اسی پانچ مرلے کے مکان میں گزار رہے ہیں ، مولانا سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ کالی داڑھی کیساتھ اسلام آباد شہر آئے تھے اب داڑھی سفید ہو گئی مگر اپنا مکان نہ بنا سکے ،
ایسے لوگوں کی کردار کشی نہیں ہونی چاہیے ، اختلاف کریں، دلیل دیں ، بات کریں ، بات سنیں ، سفید دامنوں پر چھینٹے نہ ڈالیں زمانہ آگے جا چکا ہے آپ وہی حربے دہرا رہے ہیں جن کو بچہ بچہ جانتا ہے ، استاد یہ کہانیاں چلنے والی نہیں _
تحریر عامر ہزاروی _

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں