دیر استنبول کیوں نہ بن سکا……؟ جماعت کی قیادت کو پاکستان کا اردگان کہا جاتا ہے۔دیر میں اردگان جیساموقع ملا تھا لیکن۔..

دیر استنبول کیوں نہ بن سکا

دنیا کے خو بصورت ترین شہر اسنبول میں موجودہ حکمران جماعت کو بلدیاتی انتخابات میں کامیابی ملی۔طیب اردوان اس کے مئیر بنے۔انھوں نے ایسی کارکرد دکھائی کہ ترک قوم نے ان کو وزیر اعظم منتخب کیا۔نسلسل تین بار وزیر رہنے کے بعد ان کو صدر منتخب کیا یا اورآج ترکی دنیا کا کامیاب ترین ملک شمار ہوتا ہے۔
پاکستان میں ضلع دیر پائیں ایک ایسا خطہ ہے جہاں پر جماعت اسلامی کو کئی مرتبہ اقتدار ملا۔جماعت اسلامی کی کارکردگی یہاں اس حد تک اطمینان بخش رہی کہ اگلے الیکشن میں لوگوں نے اس پر دوبارہ اعتماد کیا۔لیکن دیر کو استنبول نہ بنایا جا سکا اور نہ یہاں کی کامیابی کو ملک بھر میں تو کیا پڑوسی اضلاع میں بھی برآمد کیا جا سکا۔ایسا کیوں ہوا،ذیل میں اس پر تھوڑی سی روشنی ڈالنا چاہوں گا۔
دیر استنبول کی طرح تعلیمی اور معاشی لحاظ سے قدرتی وسائل سے مالا مال نہیں۔یہاں یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کی وہ بہتات نہیں جو استنبول میں ہے ۔چنانچہ یہاں پر استنبول کی طرح باصلاحیت اور استعداد والے لوگوں کی کمی تھی۔اقتدار ملنے کے بعد یہاں کے مقتدر لوگوں کی استعداد اتنی ہی تھی جتنا وہ کام کر سکے۔ڈاکٹر یعقوب خان مرحوم ایک استثنا تھے لیکن ان کو اللہ نے بہت ہی کم موقع دیا اور بہت جلد فوت ہوئے۔
دیر میں جماعت اسلامی کے اقتدار کو کئی عشرے ہوئے ہیں۔لیکن یہاں کے عام آدمی کو اب بھی پینے کے پانی،آب پاشی،اور رورزگار کے مسائل اتنے ہی درپیش ہیں جتنا کے ملک کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کو۔ اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں کہ وسائل محدود ہیں۔لیکن یہ بات درست نہیں وسائل ہر جگہ موجود اور محدود ہوتے ہیں۔دستیاب وسائل کو بروئے کا رلانے کے لیے استعداد کار کی ضرورت ہے۔
جنگلات یہاں کی بہت بڑی دولت ہے۔لیکن یہاں کے بیشتر پہاڑخالی ہیں۔مقتدر لوگوں نے ان پہاڑوں کو جنلات میں تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پہلے سے موجود جنگلات آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں اور سرکاری سطح پر جنگلات کو فروغ ملتا تو ایک طرف یہ یہاں کی آمدنی کا بڑاذریعہ ہوتا دوسری جانب ماحولیات پر مثبت اثر پڑتا۔ بارشیں اور برف باری زیادہ ہوتی۔پانی کے مسائل حل ہوتے اور زراعت ترقی کرتی۔
زراعت اور جنگلا کے فروغ کے ساتھ اس کے لیے مارکیٹنگ پر توجہ دی جاتی۔تو روزگار اور تجارت میں اضافہ ہوتا۔جنگلات اورزراعت کے ساتھ خشک میوہ جات کی مارکیٹنگ پر توجہ ی جاتی اور اسی سے متعلقہ انڈسٹری پر توجہ دی جاتی تو دیر میں خوشحالی بڑھتی۔یہاں ایک عجیب مسلہ یہ بھی ہے کہ ٹیکسوں کا نفاذ نہیں۔عام آدمی تو بجلی بل،پانی بل اورسیلز ٹیکس کے نام پر ٹیکس دیتا ہے لیکن یہاں کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر کوئی ٹیکس نہیں۔ضلعی سطح پر اس کا انتظام ہو تو اچھی خاصی آمدنی ممکن ہے۔اس کے لیے عوام میں آگہی مہم چلانی ہوگی کہ عام آدمی کے بجائے صاحب ثروت لوگوں سے ٹیکس وصولی ہو گی۔
خوشحالی کے ساتھ تعلیمی استعدا دمیں بھی اضافہ ہوتا۔یہاں پر موجود دریا کے پانی کو بجلی کے پیداوار کے ساتھ آب پاشی کے لیے نہریں بنائی جاتیں تو یہاں کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔لیکن پرنالہ وہی پر ہے۔یہاں قیادت پر سرفراز لوگوں کا استعداد اتنا ہی ہے کہ وہ روایتی سیاست میں عوام کو کسی حد تک مطمئن رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔صوبہ اور رمرکز سے ملنے والے فنڈز کا کسی حد تک شفاف استعمال کیاجاتا ہے اور دیر کی ترقی باقی ملک کی ترقی کی رفتار سے قدرے بہتر ہے ۔یہاں کی قیادت کی وجہ سے۔۔۔اس مسئلے کا حل کیا ہے ہے استعداد تو قدرتی امر ہے اس کو کیسے بڑھایا جائے۔اس کے دو آسان طریقے ہیں ایک تو یہ کہ یہاں علاقہ صلاحیتوں کے اعتبار سے دوسرے علاقوں سے زیادہ زرخیز ہے۔اس کا ثبوت یاہں سے ملک بھر کی لیے دستیاب قیادت ہے۔پیشہ ورانہ لحاظ سے باصلاحیت لوگ موجود ہیں لیکن مراعات کی کمی کی وجہ سے ملک بھر کے دوسرے علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں،ان لوگوں کو لا کر یہاں مثالی کام ہو کتا تھا۔یہاں پر موجود باصلاحیت لوگوں کو بھی استعمال میں نہیں لایا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باصلاحیت لوگ عملی سیاست سے باہر ہوتے ہیں۔قیادت نے ترقی کے لیے سیاسی میدان میں موجود لوگوں ہی کو استعمال کیا جن کا پیشہ ورانہ استعداد اس درجے کا نہیں تھا جو سیاست سے باہر کے لوگوں کو ہوتا ہے۔چنانچہ جو قوت دستیاب تھی اس کا ستعمال نہیں کیا گیا۔دوسرا طریقہ یہ تھا کہ جماعت کے پاس دیر سے باہر خصوصاً کراچی اور لاہور میں ماہرین اور سرمایہ کار موجود ہیں۔ان کو بطور خاص دیر لایا جاتا اور دیر کو بطور ماڈل پیش کیا جاتا۔جماعت اسلا می یہ کام کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے ہمارے دیر کے لعنت ناظم اسی نظامت سے جا کر وزارت عظمیٰ کے منصب پر پہنچنے کے بجائے شائد ہی اگلے بار ناظم بھی بن سکے۔اگلے بار ان کی طرح کسی اور شادی غمی کے ماہر لیڈر کو ناظم بنا لیا جائے گا اور دیر دیر ہی رہے گا۔ استنبول نہیں بن پائے گا۔
ایک مثال دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی۔تیمرگرہ ہسپتال دراصل تین اضلاع دیر پائیں،دیر بالا اورباجوڑ کا مرکزی ہسپتال ہے۔اس کو باصلاحیت انتظامیہ ملی تو کسی اضافی بجٹ کے بغیرپر چھ اضافی وارڈ بنا ئے۔یہ صرف بہتر انتظام کا نتیجہ ہے۔دیر پائیں کو صوبہ کا سب سے بہتر تعلیمی سربراہ ملا ہے۔لیکن وہ ذاتی محنت کی وجہ سے یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ان کے ساتھ ٹیم ورک ایسی ہر گز نہیں کہ دیر کے تعلیم نظام میں کوئی انقلابی تبدیلی نظر آئے۔جاری نظام میں وہ سب سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ۔ صحت،پولیس،انتظامیہ اور دوسرے شعبوں میں انقلابی لوگوں کی کمی ہے۔تعلیمی بورڈ کی کارکردگی کسی طور پر دوسرے بورڈوں سے بہتر نہیں ہے۔یہاں پر قائم یونیورسٹی بھی ملک کے دیگر یونیوررسٹیوں کی طرح ہی ہے۔جماعت کی اس پر کو ئی ارتکاز نظر نہیںآیا۔حالانکہ صوبائی حکومت کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس کومثالی یونیور سٹی بنایا جا سکتا تھا۔
دیر ار استنبول نہ بن سکا تو اب بھی موقع ہے۔جماعت اپنے مالی اور قدرتی وسائل کو اس جانب منعطف کرکے اس کو مثال بنائے۔یہاں کی کامیابی ابتدا میں پڑوس کے اضلاع میں اور بعد میں صوبہ سے ہوتے ہوئے پو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں