جراثیم،دہشت گردی،اورہم…. (تحریر:آفتاب کوثر)

جراثیم،دہشت گردی،اورہم           تحریر :آفتاب کوثر۔۔۔۔

ہمارا جسم قدرت کا ایک عجیب شاہکار ہے اس میں بیک وقت کئی بے مثال نظام اپنا کام ادا کرنے میں مصروف رہتے ہیں مثلاً نظام انہضام، نظام دوران خون، اعصابی نظام اور نظام تنفس وغیرہ اور نور علیٰ نور یہ کہ سارے نظام مکمل ہم آہنگی کی حالت میں کام کرتے ہیں آپ دیکھیں دنیا میں جو بھی چیز ایجاد ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی طرح ان قدرتی نظاموں کی نقل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو بہت خوبصورت اور کامل بنایا( لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم) اس میں ہرقسم کے خطرات سے لڑنے اور مختلف النوع کام سرانجام دینے کی اہلیت ڈال دی ہے اس نے سمندروں کی تہیں چھان لی ہیں اور خلاؤں کو مسخر کیا ہے لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی دیکھیں۔
سخت جان اور پیچیدہ انسانی جسم تقریباً 100 ٹریلین خلیات سے ملکر بنی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے واحد خلیے پر مشتمل ’’نادیدہ‘‘ جاندار کے ہاتھوں آزمائش میں ڈال دیا ہے یہ خوردبینی جاندار یا جرثومے ہمارے اردگر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ہر وقت اپنے لئے خوراک اور کوئی مناسبب ’’ٹھکانہ‘‘ حاصل کرنے کے تاک میں رہتے ہیں ان کا کردار ڈاکوؤں اور چوروں کی طرح ہے چور اور ڈاکو، عوام اور پولیس کی نظروں سے چھپتے پھرتے ہیں اور موقع پاتے ہی کسی گھر یا علاقے میں گھس جاتے ہیں لوٹ مار کرتے ہیں اور لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ڈاکٹری زبان میں وہ گھر یا علاقہ ’’بیمار‘‘ پڑ جاتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے پولیس آپہنچتی ہے سارے علاقے کی ناکہ بندی کرتی ہے اور انہیں مارنے یا گرفتار کرنے کی آپریشن سٹارٹ کرتی ہے کاروائی کو موثر بنانے کیلئے انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی پولیس کی مدد کرتی ہیں یہ ایجنسیاں اپنے بندے بھی دہشتگردوں میں شامل کرکے انہیں ایکسپوز کرتی ہیں اور انہیں نشانہ بنانا آسانی بناتی ہیں ۔
جراثیم کا بھی یہی معاملہ ہے۔
یہ تولیوں، ناخنوں، قالینوں اور دوسری بہت سی خفیہ مقامات میں چُپے رہتے ہیں اور جب بھی سانس، زخم یا کسی اور راستے سے جسم کے اندر داخل ہونے کا موقع ملے تو یہ” بن بلایا مہمان” ہمارے جسم کے (اس کے لئے)سازگار ماحول والے علاقے کی طرف سفر کرتے ہیں اپنی نسل بڑھاتے ہیں ،وسائل پر قبضہ کرتے ہیں اور اپنا راج قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جسم کے اندر یہ مختلف زہریلے مادے خارج کرتے ہیں یہاں تک کہ مدافعتی نظام کے خلیوں پر بھی “حملہ آور ہوتے ہیں۔ جب جسمانی مدافعتی نظام کو “بیرونی مداخلت کاروں” کی اطلاع ہوجاتی ہے تو تمام جسم میں انفکشن کی شدت کے حساب سے “الرٹ جاری ہوتا ہے ایمرجنسی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جن میں گڑ بڑ والے علاقے کی طرف خون کے بہاؤ اور درجہ حرارت میں اضافہ قابل ذکر ہیں ۔اس کے “ساتھ ساتھ جراثیم پر حملہ کرنے اور انہیں تباہ کرنے کیلئے خون کے سفید خلیات بھیج دئیے جاتے ہیں انہی سفید خلیات کے تخلیق کردہ “انٹی باڈیز “جراثیم کے ساتھ چمٹ کر انہیں نیست ونابود کرنے میں مدد دیتے ہیں، کھانسنا، چھینکنا، ناک بہنا اور بخار چڑھنا جراثیم کو دفع کرنے، قابو کرنے اور ٹھکانے لگانے کے کارگر نسخے ہیں اس کشمکش میں اکثر وبیشتر جسمانی دفاعی نظام ہی جیت جاتا ہے لیکن چونکہ جراثیم بھی انتہائی ہوشیار اور چالاک ہیں انکی بڑھوتری بھی کافی تیز ہوتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ” تجربہ کار” بھی ہوتے جارہے ہیں لہذا یہ ایک عرصے تک قوت مدافعت اور بیمار کو تنگ اور پریشان رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں اور کبھی کبھار تو ان کا پلڑا پوری طرح بھاری ہوکر تباہی مچ جاتی ہے جسے بیماری کی” پیچیدہ شکل” کہتے ہیں۔

 

ایک بیکٹریا جب ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے تو بہت تیزی سے تقسیم درتقسیم ہوکر اپنی نسل بڑھاتا ہے اسکی تیز نسل خیزی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ایک بیکٹیریا تقریباً آٹھ گھنٹے میں 500,000 کی تعداد تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اگر فی الوقت اسے کوئی ساز گار ماحول نہ ملے تو یہ اپنے گرد ایک سخت حفاظتی شیل بناکر اپنے آپ کو محفوظ بناتا ہے ایسے بیکٹیریا کو سپورظ(Spores)کہاجاتا ہے جسے مارنا بہت مشکل ہوتا ہے اور جب بھی حالات سازگار ہوجاتے ہیں یہ حفاظتی شیل سے نکل کر اپنے کام میں لگ جاتاہے۔
پس ہماری بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کوئی بیکٹریا ہیں اور ان کا حملہ بھی شدید ہے (Serious Infection) تو ان کی” خاطر تواضع” اینٹی بایوٹیکس سے کی جاتی ہے جو یا تو کمزور کرکے اسے ماردیتے ہیں یا اس کی بڑھوتری روک کر اسے مدافعتی نظام کیلئے ترنوالہ بنادیتے ہیں اگر بیماری کا سبب بننے والے جراثیم وائرس ہوں تو پھر اینٹی بائیوٹیکس کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ یہ بہت ہی چالاک اور مکار واقع ہوئے ہیں ایک تو یہ بیکٹیریا کی نسبت 50 یا 60 گنا چھوٹے ہوئے دوسرے یہ جسم کے اپنے خلیوں کے اندر چپ جاتے ہیں اور دھڑا دھڑ اپنی قسما قسم کا بیان تیار کرتے ہیں یہاں تک کہ جسمانی دفاعی فورس کے پیدا کردہ اینٹی باڈیز کیلئے بھی انہیں ڈھونڈھنا اور مارنا مشکل ہوجاتا ہے ان حالات میں ایک “سپیشل ٹاسک فورس” کی ضرورت پڑجاتی ہے جو ہمارے جسم میں T. Lymphocites کی شکل میں موجود ہیں یہ بھی جسمانی دفاعی نظام کے پیدا کردہ سپیشل خلیے ہیں جن میں ان جسمانی خلیات کو پہنچاننے کی صلاحیت ہوتی ہے جس میں وائرس چپے ہوتے ہیں ٹی۔ لمفوسائٹس انہی جسمانی خلیات کو تاک تاک کرنشانہ بتاتی اور وائرس کو اپنے مورچے” سے باہر نکلنے پر مجبور کرتی ہیں تاکہ اینٹی باڈیز انہیں آسانی شکار کرسکیں ۔
آج کل بچوں اور بڑوں کو فلو نے تنگ کیا ہوا ہے جو ایک قسم کے” وائرس کی وجہ سے لگنے والی بیماری ہے عام طورپر اس کیلئے ویکسین اور اینٹی وائرل دوائیاں استعمال کی جاتی ہے جن کے بے شمار منفی اثرات بھی دیکھنے میں آئے ہیں لہذا صفائی کا خیال رکھیں اور احتیاط برتیں کہ فلو سے محفوظ رہیں اور کیلے مالٹے سیب، پیاز، لہسن اور ادرک کو اپنی روزمرہ خوراکوں میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کریں یہ چیزیں ہماری جسمانی فورس کو مضبوط کرتی ہیں اور بار بار “کرائے کے گوریلوں” کی ضرورت نہیں پڑتی بیماری کے دوران آرام کی بہت ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ دودھ، پانی اور جوس کے استعمال میں “سخاوت” برتنی چاہیے ورزش کا خیال رکھیں اور انرجی ڈرنکس سے پریز کریں گپ شپ لگانا، خوش رہنا اور کسی صحت افزا مقام کی سیر کا اہتمام کرنا بھی تیر بہ ہدف نسخے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں