ائمہ مساجد کو سرکاری تنخواہیں، دین کی سماجی حیثیت کیا ہوگی؟ – ظفرالاسلام سیفی

خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے حال ہی ائمہ مساجد کو سرکار ی تنخواہیں ومراعات دینے کے اعلان نے ارباب علم ودانش کے درمیان ایساقابل دید مباحثاتی ماحول کشید کردیا ہے جو ہردو طبقات کے لیے بذلہ سنجی کا موجب ہے۔ ایک طرف ائمہ عظام کے داخلی وذاتی احوال کے تناظر میں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جارہاہے تو دوسری طرف عالمی منظرنامے کے پیش نظراسے ایک گہری سازش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والے اجلا س میں کیا جانے والا یہ فیصلہ اور نیکٹا کے صوبائی کوآرڈینیٹر کی جانب سے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں ائمہ کی تنخواہوں کا ذکر بلاشبہ ثانی الذکر فریق کے ان خدشات کو تقویت پہنچاتا ہے کہ حکومت تنخواہوں ومراعات کی آڑ میں پس پردہ عزائم کی تکمیل چاہتی ہے، اور یہ کہ یہ قدام دراصل مساجد کے ماحول کو ریاستی نظم کا تابع بنانے، ائمہ کی آزادانہ دینی خدمات پر قدغن لگانے اور انہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو نہ صرف آئینی طور پر ایک نامناسب طرز عمل ہے بلکہ شرعی واخلاقی اعتبار سے امر مذموم وقبیح ہے۔
صوبائی وزیر مذہبی امور کی جانب سے مساجد کی رجسٹریشن، ائمہ کا ڈیٹا جمع کرنے، یوسیز کی سطح پر مساجد کی تعداد وماحول بابت معلومات کے حصول اور ائمہ کی تعلیمی قابلیت جانچنے کے اعلانات نے سنجیدہ طبقات کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہیں کچھ ہونے تو نہیں لگا۔ میری نظر میں ثانی الذکر فریق کے خدشات وزنی اور موقف ٹھوس ہے۔ دینی امور کی سرانجام دہی سو فیصد نتیجہ خیز اس وقت ہوسکتی ہے جب اسے مزاج نبوت، طرز صحابہ، مطابق احکامات فقہ اور ہدایات اکابر کے تحت کیا جائے۔ برصغیر پاک و ہند میں مساجد ومدارس دینی خدمات کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ فرنگی استبداد، دینی بے اعتدالیوں، معاشرتی رسوم ورواج اور فکری گمراہیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے غلبہ اسلام ومسلمین کے مقاصد عالیہ کے تناظر میں مدارس ومساجد کی آزادانہ جدوجہد کی بنیاد رکھی گئی تھی اور پھر قیام پاکستان کے بعد مقتدر طبقات کی جانب سے دینی علوم کی طرف بے پرواہی اور ازاں بعد دین سے دانستہ تنفر کو دیکھتے ہوئے اکابر نے اسی طرز جہد کو معیار قرار دیتے ہوئے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا اور طے کیا کہ مساجد ومدارس کا پلیٹ فارم حکومت کی مداخلت سے کلی طور پر آزاد رہ کر ہی چلایا جائے گا۔ ماضی میں یہی منہج جہد مفید وموثر رہا اور مستقبل میں بھی یہی موثر ہوسکتا ہے چنانچہ وقتاً فوقتاً مساجد ومدارس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی علماء واکابر نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بناکر دم لیا۔ مگر اب کی بار صیاد نے جال مختلف مگر خطرناک پھینکا ہے۔ ائمہ کے مالی حالات کا حوالہ دے کر ہمدردی وخیرخواہی کے عنوان پر فرسودہ روایات کو دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ماضی میں متعدد مرتبہ ناکامی سے دوچار ہونے والے کام کو عمل کی نئی سمت دی جارہی ہے جو یقیناً ارباب مدارس ومساجدکے فکری وعملی کاز کے لیے نہایت سنگین ہے۔
یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ آخر مدارس ومساجد ایسی کس جہد وعزم کے علمبردار ہیں جس کی عملی رکاوٹ میں لمحہ بھر توقف کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اسی بات کو کچھ حلقے اس عامیانہ اسلوب میں بیان کرتے ہیں کہ ’’ آخر مدارس ومساجد میں ایساکیا ہو رہا ہے جسے مولوی چھپانا چاہتے ہیں؟ ‘‘خوب یاد رکھیے کہ مساجد میں ایسا کچھ ہو رہا ہے، نہ مستقبل میں ہوگا جس پر ریاست کو آئینی اعتبار سے پریشانی ہو۔ بات دراصل وہ ہے جو قائد ملت اسلامیہ مفتی محمود رحمہ اللہ نے اسی عنوان پر راولپنڈی میں منعقدہ علماء کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ حضرت نے فرمایا تھا کہ ’’سابق حکومتوں سے ہمیں یہ گلہ تھا کہ انہوں نے اسلامی علوم کی تعلیم وترویج کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن موجودہ حکومت سے دہرا شکوہ ہے کہ وہ اسلامی علوم کی تعلیم وترویج میں دلچسپی لینا تو کجا اس مقصد کے لیے موجودہ نظام کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتی ہے اور اس نے مدارس ومساجد کی آزادی کو سلب کرنے کابتدریج پروگرام اس لیے بنایا ہے کہ ان دینی مراکز سے جو لوگ فیض یاب ہوتے ہیں وہ اپنے ٹھوس دینی ذہن کی وجہ سے خلاف اسلام باتوں کو قبول نہیں کرتے بلکہ حکومت کے غیر اسلامی اقدامات پر تنقید کرتے ہیں، حکومت اس ذہن کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے تاکہ اس کی من مانیوں اور غیر اسلامی حرکات کے خلاف بلند ہونے والی اس مضبوط آواز کا گلا گھونٹ دیا جائے ۔‘‘ مفتی صاحب نے مزید فرمایا کہ ’’ مجھے علوم اسلامی کے مستقبل کے باری میں کوئی خدشہ نہیں اور میں ان لوگوں کے اس خیال کو احمقانہ تصور سمجھتا ہوں جو اپنے طور پر طے کیے بیٹھے ہیں مدارس ومساجد پر قبضہ کرنے کے بعد ہم اس ملک میں دینی ذہن کو اپنے کنٹرول میں کرسکیں گے اور دینی علوم کی تعلیم وترویج کا سلسلہ بند ہوجائے گا، البتہ صرف اس خیال سے کہ جن لوگوں نے علمائے کرام پر اعتماد کرکے مساجد ومدارس کی تعمیر کے لیے رقوم صرف کی ہیں انہوں نے مدارس ومساجد کے نظام کے سلسلہ میں علماء کو چنا اور ان پر اعتماد کیا ہے اس لیے یہ مدارس ومساجد علماء کے پاس عوام کی امانت ہیں اور امانت کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مساجد ومدارس کی حفاظت کریں گے اور انہیں ظالمانہ دستبرد سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
میری نظر میں مدارس ومساجد کے مقدمہ کو حضرت مفتی صاحب نور اللہ مرقدہ نے بڑی خوبصورت تعبیر عنایت فرمائی اس لیے مدارس وحکومت کی باہمی چپقلش میں اس مقدمے اور برصغیر پاک وھند میں مدارس ومساجد کے قیام کا تاریخی تناظر سامنے رکھا جائے تو مسئلہ سمجھنا آسان رہے گا۔
میری نظر میں ائمہ مساجد کو مراعات کا حالیہ اعلان پرانے حکومتی مقدمے کو نئی تعبیر کے ساتھ پیش کرناہے، اس کی وجہ یہ ہے زمینی حقائق اس کے برخلاف ہیں، مولانا امان اللہ حقانی کے چشم کشا حقائق کو ملاحظہ فرمائیے، مولانا لکھتے ہیں کہ
ایک بات واضح طور پر ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ پورے صوبے میں ایک اندازے کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد جامع مساجد ہیں جن میں پانچ وقت مع جمعہ کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں، کوئی بھی حکومت جب نئی ملازمتوں کی تخلیق کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے آسامیوں کی تعداد بتلا کر اس پر آمدہ اخراجات کا حساب کرکے اسکو محکمہ خزانہ کے پاس بھیج کر اس کی باقاعدہ منظوری لیتی ہے، جب محکمہ خزانہ اس پر آنے والے اخراجات اور حکومت کے پاس موجود وسائل کو دیکھ کر باقاعدہ اطمینان حاصل کرلیتا ہے تو پھر ایک طویل مرحلے کے بعد ان ملازمتوں کی باضابطہ منظوری دی جاتی ہے، اب جب میں نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے معلومات حاصل کیں تو وہاں پر نہ کوئی ایسی سمری گئی ہے اور نہ وہاں سے باضابطہ متعین تعداد میں ملازمتوں کی منظوری دی گئی ہے اور نہ کوئی ایسی تجویز زیر غور ہے جبکہ 2017ء اور 2018 ء کی بجٹ دستاویزات میں اس طرح کے اخراجات کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت نے اب تک نہ کسی امام کی پوسٹ تخلیق کی ہے اور نہ وہ اس کا ارادہ رکھتی ہے۔
میری نظر میں اس معاملے کو سیاسی نظر سے دیکھنے کے بجائے شرعی، سماجی وتاریخی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے، وہ ارباب نظر جو کچھ سیاسی علماء کی جانب سے مخالفت کے سبب فورا پارلیمنٹ کی بحیثیت ممبر لی جانے والی تنخواہوں کے حوالے دینے لگتے ہیں ازراہ کرم وہ اس دور کی کوڑی پر خود ہی غور فرمالیں تو اس خلط مبحث سے بچ سکتے ہیں، پارلیمنٹ اور مساجد ومدارس کی حیثیت ایک جیسی نہیں، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ مساجد ومدارس تربیتی وتعلیمی مراکز ہیں جہاں خدمات کا معاوضہ حکومت کسی صاحب خیر کی جانب سے دیے جانے والے چندے وعطیہ کی طرح سے نہیں دے گی بلکہ وہ اس کے لیے کڑی شرائط اور کچھ ضوابط وقیودات کو طے کرے گی، مساجد ومدارس کی خود مختاری پر قدغن کا ظاہر سی بات ہے مطلب یہی ہے جبکہ پارلیمنٹ کا فلور اپوزیشن کا ایک تصور رکھتا ہے جس میں آپ حکومت وقت کی کمی کوتاہیوں کو ببانگ دھل بیان کرنے کی آئینی اجازت رکھتے ہیں اس لیے وہاں تنخواہ لینے سے اظہار حق کی کسی صورت پر قدغن لگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جہاں تک آرمی خطباء وائمہ اور سکولز وکالجز میں اسلامیات وعربی کے ٹیچرز کی تنخواہوں کے حوالے ہیں تو ہمارے یہ سادہ لوح دانشور بتلادیں کہ کیا وہ آزادی سے دینی کام کر رہے ہیں، اگر نہیں تو گذارش ہے اسی لیے تو آپ سے بھی احتیاط کی گذارش کی جارہی ہے، برسبیل تذکرہ یہ دلیل ہماری ہے جسے آپ کی سادگی نے سمجھنے نہ دیا،میری نظر میں کسی رائے کو اپنانے سے پہلے آپ کو طے کرنا ہوگا کہ آپ دین کو سماج میں کس حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں، اس کے مطابق رائے تشکیل دیں، اگر آپ دین کو حکومتی لبادے اور اس کی تشکیل کردہ خدوخال میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں توائمہ کی سرکاری تنخواہوں ومراعات کی حمایت فرمائیے اور کھل کر فرمائیے مگر یہ پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ مخلص ارباب فکر وعمل کی جانب سے اس نوع کی کوششوں کو ماضی میں کامیاب ہونے دیا گیا ہے نہ مستقبل میں ہونے دیا جائے گا، ہمیں بس ذہنی طور پر اسی قدر تکلف کرنا ہوگا کہ فکری طور پر معاندین مساجد ومدارس کا حلقہ بڑھ گیا ہے جس کی کبھی پریشانی ہوئی نہ ہوگی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں