*مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں* نوائے بے باک۔۔۔۔۔۔ تحریر: محمد جبران سنان

*مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں*

نوائے بے باک۔۔۔۔۔۔ تحریر: محمد جبران سنان

پشاور کے نشتر ہال میں ایک تقریب ہوئی، تقریب میں اور بھی بہت کچھ ہوا ہوگا لیکن جو سب سے ذلیل اور گری ہوئی حرکت کی گئی وہ پختون ماؤں بہنوں کے روایتی برقعہ کا مذاق اڑانا تھا۔ چند اوباش نوجوان سٹیج پر برقعہ پہن کر آئے اور ناچنے لگے، یہ سارے نوجوان شائد خود کو پشتون کہتے ہوں گے، مائیں بہنیں ان کی بھی برقعہ یا چادر اوڑھ کر پردہ کرتی ہوں گی، انہیں برا بھی لگتا ہوگا کہ کوئی ان کی ماں بہن کو پردہ کئے بغیر دیکھ لے۔ لیکن اس کے باوجود ان اوباشوں نے اپنی ہی والدہ اور ہمشیرہ کے برقعے کی لاج نہ رکھی اور اس کی حرمت کو سربازار تار تار کیا۔
کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر اس قسم کی تصاویر وائرل ہوتی رہی ہیں جس میں کسی خاتون نے برقعہ اوڑھ کر عجیب و غریب انداز بنائے ہوئے ہیں۔ مغرب کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ شعائر اسلام کا مذاق اڑائے اور مسلمانوں کے دلوں سے اسلام اور شعائر اسلام کو مٹانے یا کم از کم ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے، مغرب اپنی اس کوشش اور سازش میں کامیاب رہا، آج حالت یہ ہے کہ برقعہ کا مذاق کسی بے پردہ معاشرے میں نہیں بلکہ باپردہ پشتون معاشرے میں اڑایا جارہا ہے۔
ایک پشتون معاشرے میں “پشتونوں” کے ہاتھوں اس طرح کی حرکت سے دل بے چین اور بے کل ہے۔ دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کشتی کے محافظ ہی کشتی کو ڈبونے کی سازش میں ملوث ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ حقیقت یہی ہے۔
تُو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تیری رہبری کا سوال ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں