گڑ…غذابھی،شفا بھی….. جتناگڑاتناہی میٹھاویسے نہیں کہاگیا؟اسکے فوائددیکھ کرہی آپ کواندازہ ہوگا : تحریر- مراد خان

گڑ کا لفظ ذہن میں آتے ہی شیرینی و مٹھاس کا بڑا بھرپور تصور ذہن میں آجاتا ہے اور ساتھ ہی وہ تمام محاورے بھی جو ہماری زبان و ادب میں رچ بس چکے ہیں مثلاً ’’جتنا گڑ ڈالوگے اتنا ہی میٹھا ہوگا،تمھارےمنہ میں گھی شکر،گڑ کھائیں گلگلوں سے پرہیز،گڑ نہ دے گڑ سی بات تو کرے،گڑ سے مر جائیں تو زہر کیا دینا‘‘ وغیرہ غیرہ۔
گڑ بلاشبہ ہماری روایات وثقافت سے جڑئ مٹھاس ہے جو زمانہ قدیم سے ہی انسان کے زیر استعمال ہے ،یہ دراصل گنے کا رس ہوتا جسے ایک خاص طریقے سے پکا کر گڑکی شکل دی جاتی ہے یہ چینی کا بہت اچھا متبادل اور بالکل چینی کے انداز میں استعمال ہونیوالی چیز ہے بلکہ اگریہ کہا جائے کہ سفید چینی دراصل بیماریوں کی ماں اور برائون چینی یعنی کہ گڑجسم کی اصلاح کرنے والی چیز ہے تو بالکل بے جا نہیں ہوگا،پاکستان اور افعانستان جیسے ممالک میں چینی کی جگہ گڑ کی چائے بھی کافی مقبول ہےگڑ کوعربی زبان میں فاریڈ،فارسی میں قند سیاہ،بنگالی میں گڑ اور انگریزی میں جیگری(Jaggery) کہا جاتاہے،یہ برصغیر پاک و ہند کی خاص سوغات ہے کیونکہ گنے کی پیداوار کے علاقے ہی اس کے بنانے کیلئے خاص طور پر مشہور ہیں،پاکستان میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے متعدد دیہات گنے کی پیداوار اور گڑ بنانے کیلئے مشہور ہے،خیبر پختونخوا میں چارسدہ،مردان،صوابی ملاکینڈ،نوشہرہ،ڈی آئی خان وغیرہ میں گنے کی پیدوار ہوتی ہے۔ پہلے زمانے میں ہر چیز کو میٹھا کرنے کیلئے گڑ کا استعمال ہوا کرتا تھا لیکن چینی نے اس کا استعمال کم کردیا اور لوگوںنے چینی کا استعمال شروع کیا لیکن چینی کے استعمال سے بہت سارے بیماریوںنے جنم لیا تو آج کے ایڈونس دور میںایک دفعہ پھر گڑ کے استعمال کا رحجان شروع ہوگیا کیوںکہ طبی ماہرین سختی سے چینی کے استعمال سے منع کرتے ہیں اس لئے اب زیادہ تر لوگ گڑ کو ہی ترجیح دیتےہیں ۔گڑ کا تاثردو طرح کا ہوتا ہے ٹھوس شکل میں یہ گرم ہوتا ہے اورمائع شکل میں اس کی تاثرٹھنڈی ہوتی ہے جیسے اکثر لوگ گرمیوں میں گڑ کی شربت کو ترجیح دیتے ہیں ، گرمیوں میں گنے کا رس بھی شوق سے استعمال کیا جاتاہے جو صحت کیلئے بہت مفید ہے،گنے کے رس میں کیلشیم، کوبالٹ، کاپر، کرومیم، میگنیشئیم، فاسفورس، پوٹاشیم اور جست پایا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ گنے کے جوس میں وٹامن اے، سی، بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی فائیو اور بی 6 کے ساتھ ساتھ پروٹین، اینٹی آکسائیڈز اور حل پزیر فائیبر کی بھی موجود ہے۔پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال 2017ءکے دوران گنے کی پیداوار میں 81 لاکھ ٹن کا نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پہلی مرتبہ گنے کی ملکی پیداوار 70 ملین ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ گنے کی ملکی پیداوار میں اضافہ کا بنیادی سبب زیادہ پیداوار اور بیماریوں کے خلاف بہتر مزاحمت کے حامل نئے ہائی برڈ بیجوں کی کاشت سے گنے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ میں مدد حاصل ہوئی ہے۔
گنا دراصل ایک قسم کی گھاس ہے جس کا پودا عام گھاس کی بہ نسبت لمبا اور مضبوط ہوتا ہے ۔ یہ حاری اور نیم حاری ممالک میں اُگتا ہے ۔ گنے کے پودے کا مضبوط اور موٹا تنا میٹھے رس سے بھرا ہوتا ہے ۔ اس رس یا شیرے سے جسے “راب “کہا جاتا ہے شکر ،گڑ اور چینی تیار کئے جاتے ہیں ۔رس نکال لینے کے بعد گنے کے پھول اور باقیات کو ایندھن کے طور پر جلانے اور بجلی کی پیداوار کے علاوہ دیگر کئی مقاصد کیلئے استعمال کیا ،دنیا بھر میں سب سے زیادہ گنا پیدا کرنے والے ممالک میں سب سے پہلے نمبر پر برازیل ہے اور دوسرے نمبر پر پاکستان کا ہمسا ئیہ ملک بھارت اور خود پاکستان گنا پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔پاکستان میں 25لاکھ ایکڑرقبے پر گنا کاشت کیا جاتاہے جن میں پنجاب میں63فیصد،سندھ میں26اور خیبر پختونخوا میں 11 فیصد پیدا ہوتا ہے،پاکستان گنے کی پیداوار کے لحاظ سے 5ویں نمبر پر ہے،پچھلے کئی سالوں سے خیبرپختونخواکے گڑنے افغانستان،تاجکستان ودیگرممالک میں اچھا نام پیدا کیا ہے،کاشتکاروں کومناسب رقم نہ ملنے اور کچھ حکومتی پالیسیوں کے باعث کاشتکاروں کاا س طرف رحجان کم ہورہاہے،سالوں پہلے گائوں کے چوہدریوں ،زمینداروں اورامراءمیں رواج تھا کہ جب ان کے ہاں شادی کے تاریخ طے ہوتی تو اڑوس پڑوس کے گائوں میں بلاوے دینے کیلئے نائی یا ملازم کو بھیجا جاتااور ساتھ بانٹنے کیلئے گڑ بھی دیا جاتا یعنی شادی کی دعوت دیکر گڑ کھلانا ہی دراصل شادی کارڈ اور دعوت نامہ تھا،وقت کی ریت نے ہماری ان روایات کو دھندلا دیا،اس طرح گڑ کی چائے بنا کر پینا اورگڑکے چاول کھانا بڑاقبل فخر سمجھا جاتاتھا،اس زمانے میں گڑ ایک قیمتی اور بڑی اہم چیز ہوتی تھی۔ کسی مہمان کو گڑ پیش کرنے کا مطلب اس کی خاص تواضع تھا۔خیر ابھی بھی کچھ جگہوں پر گڑ سے بنے کھانوں اور مٹھائیوں کا بڑا رواج ہے اور خاص کرموسم سرما میں اس کی مانگ میں کئی گنااضافہ ہوجاتاہے، گڑ سے بنے چاول،چائے،گڑ میں مکئی کے بھنے دانے،اور خشک میوہ جات ملا گڑ بہت پسند کئے جاتے ہیں۔
سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی گرم گرم میٹھے گڑ کی تیاری کا کام بھی تیز ہوجاتا ہے گڑ کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے کاشتکار صبح سویرے گڑ کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں، گڑ کی تیاری کا کام موسم سرما کے آغاز میں شروع ہوجاتا ہے۔ کسان صبح سویرے اٹھ کر گنا کاٹنے کیلئے کھیتوں میں جاتے ہیںگڑ بنانے کے سلسلہ اکتوبر میں شروع ہوجاتاہے اور اپریل تک چلتا رہتا ہےتاہم ماہرین کے مطابق جنوری ،فروری اور مارچ میں بنایا جانا والا گڑ اعلیٰ معیار کا ہوتاہے۔گڑ بنانے کے لیے آج کے جدید دور میں بھی روایتی طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گنے سے گڑ تک کا سفر کئی انتہائی مشقت طلب مراحل پر مشتمل ہوتا ہے جن میں پہلا مرحلہ گنے کی کھیتوں سے کٹائی اور اسے کھیت کے بیچوں بیچ لگے بیلنے تک لانا ہوتا ہے۔گنے کے رس کو میٹھےخوشبودار خوشرنگ گڑ کی صورت میں ڈھلنے کیلئے بہت سےکٹھن مراحل سےگزرنا پڑتا ہے، گنے کو بیلنے میں سے گزار کر اس کا رس نکالا جاتا ہےجس سے پہلے منوں ٹنوں کے حساب سے گناچچھل کر بیلنے پر پہنچایا جاتا ہے بیلنے پر پہلے بیل جوتے جاتے تھے اب بجلی کی موٹر لگائی جاتی ہے،پہلے رس نکال کر جمع کیا جاتا ہے، رس جمع ہوجانے کے بعد اسے ایک بڑے کراہے میں ڈال کر آگ پر چڑھا دیا جاتاہے یہ آگ گھنٹوں جلتی رہتی ہے اور اس میں مختلف آدمی چمچے ہلاتے رہتے ہیں کہ جل نہ جائے اسی دوران ایک فرد کی یہ ڈیوٹی بھی لگائی جاتی ہے کہ وہ رس میں سے میل کچیل اور آلودہ گیاں صاف کرتا رہے جب یہ رس مطلوبہ حد تک گاڑھا ہوجاتاہے اور اسے لکڑی یا مٹی سے بنی کڑاہی میں ڈال دیا جاتاہے ٹھنڈا ہونے پر اس کی گول گول پنیاں سی بنائی جاتی ہیں گڑ بننے کا عمل بہت مسحور کن ہوتاہےاور اس سے بھی زیادہ مسحور کن اس کے پکنے کی خوشبو ہوتی ہے جو دور دور سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسےبننے کیلئے ڈھائی سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں اور 5یا 6ماہر افراد مل کر یہ عمل مکمل کرتے ہیں گڑ میں خوبصورت سنہری رنگ لانے کیلئے اس میں کھانے کا سوڈاڈالا جاتاہے اور جب یہ پنیاں خشک ہوجاتی ہیں تو پھریہ بوریوں میں ڈالی جاتی ہیں،بعض دفعہ کچھ مفاد پرست اس میں مختلف کیمیکل ڈالتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔گنے کی کم قیمت کی وجہ سے اکثر کاشتکار اسے چینی کی ملوں کو فروخت کرنے کی بجائے گڑ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لذیز تر اور خوشبودار بنانے کیلئے ناریل ،مونگ پھلی سمیت مختلف میوہ جات ڈالے جاتے ہیں ،ذائقے ،مٹھاس اور لذت سے بھرپور گڑ کو نہ صرف بازار میں بیجا جاتاہے بلکہ کسان اپنے دوست احباب اوررشتہ داروں کو بھی یہ سوغا ت کے طور پر بجھواتے ہیں بلکہ کے ان جاننے والے تو اس گڑ کے سالوں سال سے منتظر ہوتے ہیں۔
جدید دور میں اب گڑ کے استعمال میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ گڑ بنانے کیلئے بیلنے بھی ختم ہوتے جارہے ہیں یوں سمجھیے کہ بیلنا نہیں بلکہ قدیم اور خوبصورت ثقافت کا اور دلکش روایت کا ایک عہد ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کاشتکار وسائل نہ ہونے کے باعث گنا شوگر ملز کو بھجوا دیتے ہیں اور سال بھر اس کی قیمت ملنے کا انتظار ہی کرتے رہتے ہین، لیکن ان کی محنت چینی کی صورت میں شوگر ملز مالکان کے بینک اکاونٹس میں مٹھاس بھر جاتی ہے۔ آج کل گڑ کی جگہ چینی نے لے لی ہے لیکن پرانے زمانے میں ایسا نہیں تھا۔
گڑ مائیکرونیوٹرنٹس،اینٹی آکسائیڈنیٹس سے بنی ایک بھرپور غذا ہے جو جسمانی صحت کیلئے بہت مفید ہے ،گڑ صرف خوشبودار ہی نہیں بلکہ طبی لحاظ سے بھی چینی کی نسبت گڑ زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ طبی ماہرین کےمطابق یہ نظام انہضام کو متحرک کرنے کا باعث بنتا ہے،گڑ میں آئرن کا بڑا ذخیرہ ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ گڑ مائیکرو نیوٹرنٹس، اینٹی آکسائیڈینٹس سے بھی بھرپور غذا ہے جو جسمانی صحت کے لیے طبی نقطہ نگاہ سے انتہائی ضروری سمجھے جاتے ہیں۔پرانے زمانے میں بلکہ آج کل بھی کچھ لوگ کھانے کے بعد لازمی گڑ کھاتے ہیں
،طبی ماہرین کے مطابق گڑ کھانے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں کچھ درج ذیل ہیں
*گڑ کا استعمال اندرونی نظام کو متحرک کرکے قبض سے نجات دلاتا ہے۔ گڑ نظام انہضام کو متحرک کر دیتا ہے، اسی لیے متعدد افراد کھانے کے بعد گڑ ضرور استعمال کرتے ہیں۔
*گڑ آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اور گڑ کی اسی خوبی کے باعث اس کا رنگ گہرا خاکستری ہوتا ہے۔ آئرن ہمارے جسم کے لیے نہایت ضروری ہے کیوں کہ اس سے خون کی کمی نہیں ہوتی۔
*مائیکرونیوٹرنٹس انسانی جسم کی ضرورت ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے ایک انسان متعدد نفسیاتی افعال سرانجام دیتا ہے، اور گْڑ ایسے مائیکرونیوٹرنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔
*کیا آپ اپنے جسم کے زہریلے (نقصان دہ) مادوں کا اخراج چاہتے ہیں تو گڑ کا استعمال کریں۔ گڑ آپ کے جگر کی صفائی کرکے پیشاب کے نظام کو مکمل طور پر درست رکھتا ہے۔
* گڑ کھانسی، آدھے سرکا درد، پیٹ کا اپھارا وغیرہ جیسی عام بیماریوں میں بھی اکسیر کا کام دیتا ہے۔
*مختلف انفیکشنز اور بیماریوں سے لڑنے کے لیے انسانی جسم قوت مدافعت کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ گڑ اینٹی آکسائیڈینٹس، زنک اور سلینیم سے بھرپور ہوتا ہے، جو قوت مدافعت کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
* گڑ کھانے سے پٹھوں، اعصاب اور خون کی Vessels کو تھکاوٹ سے راحت ملتی ہے۔
*گڑ کھانے سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔
*گڑ پیٹ کے مسائل سے نمٹنے کا ایک انتہائی آسان اور فائدہ مند علاج ہے. یہ پیٹ میں گیس بننا اور عمل انہضام فعل سے منسلک دیگر مسائل کو دور کرتا ہے۔
* موسم سرما کے دنوں میں یا موسم سرما ہونے پر گڑ کا استعمال آپ کے لیے امرت کی مانند ہے۔
*گڑ حلق اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے علاج میں بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
*گڑ مٹاپا اور پیٹ کے بڑھناجیسے امراض کوبھی روکتا ہے۔
*خاص مردانہ کمزوری میںیہ ٹانک کاکام دیتا ہے۔
* گلا خراب ہونے اورگلے میں ریشہ گرنے جیسے امراض میں بھی گڑازحدمفید ہے۔
کچھ کاشتکاروں نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم گنے کی کاشت سے لیکر گڑبنانے تک ایک اچھا خاصا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہےاس میں ایک سال لگ جاتاہےاور اس پر بہت خرچہ آتا ہے کہ ہمیں اس کے بدلے میں وہ پیسے نہیں ملتے ہیں ہم سارا سال محنت کرتے ہیں لیکن ہمیں وہ صلہ نہیں ملتاہے جو ملناچاہیے کیونکہ جب ہم گڑ منڈی لیکر جاتے ہیں ہمیں وہاں پر گڑ کی جو قیمت ملتی ہے تو جتنا خرچہ ہم نے اس پر کیاہے وہ بھی نہیں ملتا ہے اور ہماری محنت الگ ہے ہمیں کم ازکم اپنے محنت کا صلہ تو ملنا چاہیے،اور اگر یہی صورت حال رہی تو یہ ہماری پرانی ثقافت اور ہمارے روزگار کا ذریعہ ختم ہوجا ئے گا،اگر حکومت ہماری رہنمائی اور سرپرستی کرے تو ہم گڑ کی پیداوار سے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
گنے کی پھوک سے بجلی بھی بنائی جاتی ہے پاکستان میں اس سال باگاس یعنی گنے کے پھوک سے بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے پلانٹس نے کام کرنا شروع کرنا ہے۔ملک میں 5 مختلف شوگر ملز میں گنے کے پھوگ کی مدد سے 160.1 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جبکہ گنے کے پھوگ سے پیدا کرنے والے مزید 30 منصوبوں کی تعمیر جاری ہے جن کی مدد سے 1193.3میگاواٹ بجلی پیدا ہوگیا،نیپرانے گنے کے پھوگ سے بجلی بنانے کیلئے پیشگی ٹیرف جاری کردیا ۔ نیپرا کے مطابق گنے کے پھوگ سے بجلی پیداوار کا پیشگی ٹیرف 7روپے 97پیسے مقرر کیا گیا ۔ ٹیرف نئے لگنے والے پاور پلانٹس پر لاگوہوگاگنے کی پھوگ سے بننے والی بجلی ٹیرف 30سال کیلئے مقررکیا ہے ۔ ٹیرف میں ہر 2سال بعد پھوگ کی قیمت میں 2فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ۔
ماہرین نے بتایا کہ اگر گنے کی پیداوار کی طرف توجہ دی جائے تو پاکستان دنیا میں گناپیدا کرنے والے ممالک میں
تیسرے نمبر پر آسانی کے ساتھ آسکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق جدید طریقوں کے ساتھ اگر گنے کی کاشت کی جائے اور زمینداروں کو اس کی کاشت کے مفید اور کامیاب طریقے بتائے جائیں تو پاکستان مزید گنا پیدا کر سکتا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں