قبائلی عوام کومحرومیوں اورکالےقانون ایف سی آر سےنجات دلانےکےلئےآج میدان لگائنگے،دھرنا تین دن تک جاری رہیگا،دھرناانگریزوں کے قانون سے نجات کااعلان اور خطے میں امن کاپیام ثابت ہوگا۔ سردار خان

پشاور ( جبران سنان سے )امیر جماعت اسلامی فاٹا حاجی سردار خان نے کہا ہے کہ قبائلی عوام کو محرومیوں اور کالے قانون ایف سی آر سے نجات دلانے کے لئے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہمارا دھرنا آئین و قانون کے دائرے میں پُرامن انداز میں ہوگا۔ قیام پاکستان سے قبائلی عوام کو ایک سازش کے تحت تمام تر بنیادی انسانی ، سیاسی ، جمہوری، آئینی، قانونی ، معاشی اور تعلیمی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پورے فاٹا میں نہ کوئی میڈیکل کالج ہے اور نہ ہی کوئی یونیورسٹی بنائی گئی ہے اور ایک سازش کے تحت قبائلی عوام کو پسماندہ رکھا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ 02نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے بلائے آل پارٹیز قبائلی جرگے میں تمام جماعتوں نے اعلامیہ سے اتفاق کیا تھا جس کے مطابق قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے۔ وزیراعظم کے بنائے گئے سرتاج عزیز کمیشن نے بھی سروے کے بعد رپورٹ پیش کی تھی کہ 70فیصد قبائلی عوام ایف سی آر کے خاتمے اور صوبے کے ساتھ انضمام کے حق میں ہیں قومی و صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد یہ رپورٹ کابینہ اجلاس میں پیش ہونی تھی لیکن وزیر اعظم نے چند مفاد پرست عناصر کی خوشنودی کے لئے فاٹا اصلاحات کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے سے نکالا۔ قبائلی عوام صوبے کے ساتھ فاٹا کا انضمام چاہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری رسوم ورواج میں فرق نہیں ۔ مسجد سے لے کر حجرے تک ہماری روایات میں کوئی فرق نہیں۔ جماعت اسلامی نے وزیر اعظم اور حکومت کے فیصلے کے خلاف مؤثر تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ 16فروری کو ہم نے یوم سیاہ منایا اور اب 26,27,28فروری کو گورنر ہاؤس کے سامنے بھرپور دھرنا دیا جائے گا۔ دھرنے میں ہزاروں کی تعداد میں قبائلی عوام شریک ہوں گے۔ایف سی آر کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا فیصلہ کن ہوگا۔ ہم حکومت کو ایف سی آر کے خاتمے اور صوبے کے ساتھ فاٹا کے انضمام کے لئے مجبور کریں گے۔صحافیوں سے گزارش ہے کہ قبائل کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچائیں ۔ قبائل کے دکھوں کے مداوے کے لئے صحافی اپنا کردار ادا کریں ۔ ہم نے دھرنے میں شرکت کے لئے تمام قبائل، سیاسی و سماجی شخصیات ، صحافیوں ، طلباء، وکلاء ، ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت ہرمکتبہ فکر کے افراد کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی۔12مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے آل پارٹیز دھرنے میں شرکت کریں گے۔وفاقی حکومت قبائلی عوام کو معاشی، معاشرتی ، انسانی اور جمہوری حقوق دے اور ایف سی آر کو ختم کرکے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا اعلان کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں دھرنے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کے نائب امیر زرنور آفریدی،ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد اللہ ترابی،سیکرٹری اطلاعات محمد جبران سنان، جے آئی یوتھ فاٹا کے صدر شاہ جہان آفریدی، جماعت اسلامی خیبر ایجنسی کے امیر شاہ فیصل آفریدی اور زرغون شاہ آفریدی بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی فاٹا حاجی سردار خان نے کہا کہ مراعات یافتہ طبقہ نہیں چاہتا کہ ایف سی آر کا خاتمہ ہو کیونکہ ایف سی آر میں ان کا فائدہ ہے اور وہ مراعات لیتے ہیں۔ جے یو آئی بھی فاٹا سیاسی اتحاد کا حصہ تھی لیکن ان کی مرکزی قیادت کی جانب سے تحفظات کی وجہ سے فاٹا سیاسی اتحاد نے جے یو آئی کو اتحاد سے الگ کیا۔ امید ہے کہ جے یو آئی کے تحفظات ختم ہوں گے اور دوبارہ اتحاد کا حصہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے طلباء اور نوجوانوں کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دی ہے ۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے ہم سیاسی کارکنان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ دھرنے میں بھر پور شرکت کریں ۔ ہم ایف سی آر کے خلاف دیگر جماعتوں کے کندھے سے کندھا ملائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم الگ صوبے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ صوبے کے ساتھ انضمام چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہماری ثقافت اورروایات ایک جیسی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایف سی آر کا خاتمہ ہو اور فاٹا صوبے کے ساتھ ضم ہو۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں