چین میں مسلمانوں کے خلاف نئی تحریک، مسجد کیلئے مختص جگہ پر زمین میں ایسی شرمناک ترین چیز دبادی گئی کہ جان کر ہر مسلمان بے حد افسردہ ہوجائے

بیجنگ (نیوز ڈیسک) مغربی ممالک میںمسلمانوں کے ساتھ تعصب کوئی نئی بات نہیں ہے، جس کا تذکرہ ہر روز سننے کو ملتا ہے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت بھی ہوگی اور افسوس بھی کہ دوست ملک چین میں بھی مسلمانوں کے لئے حالات اچھے نہیں رہے۔ دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں چینی سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف تعصب اور اظہار نفرت کا ایک سیلاب امڈ آیا، جس کی وجہ وسطی چین کے شہر نان گانگ میں ایک نئی مسجد کی تعمیر کی تجویز تھی۔ جس علاقے میں مسجد کی تعمیر کی جانی تھی وہاں آس پاس کے لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔ کسی شرپسند نے تہذیب ا ور اخلاقیات کی سب حدیں پھلانگتے ہوئے مسجد کے لئے مختص جگہ پر خنزیر کا سر دبادیا، جس کا انکشاف ہونے پر علاقے کے مسلمانوں کے جذبات سخت مجروح ہوئے۔

مسجد کی تعمیر کے منصوبے سے وابستہ امام تاﺅ ینگ شینگ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ انہیں بھیجے گئے ایک میسج میں کہا گیا ”اگر تمہارے خاندان میں کسی کی موت ہوجائے تو کفن تیار ہے۔ اگر ایک سے زائد کفن چاہیے ہوں تو بھی دستیاب ہیں۔“

ایک بڑے چینی شہر میں مسجد کی تعمیر کے خلاف احتجاج دراصل اس شدت پسندی کی جانب اشارہ کرتا ہے جو چینی معاشرے اور خصوصاً سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف تیزی سے پھیل رہی ہے۔ چین میں مسلم مخالف جذبات پر تحقیق کرنے والے لاٹروب یونیورسٹی آسٹریلیا کے پروفیسر جیمز بولڈ کہتے ہیں کہ چینی معاشرے میں مسلمانوں کے خلاف جذبات کی ایک بڑی وجہ کمیونسٹ حکومت کا رویہ بھی ہے جس نے سنکیانگ صوبے کے مسلمانوں کو دباﺅ میں رکھنے کے لئے ان جذبات کو پھیلنے کی اجازت دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کے حل کے لئے جلد اقدامات نہ اٹھائے گئے تو بالآخر اس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر شدت پسندی اور عدم استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar