پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ جس پر حکومت کی توجہ ہے نہ اپوزیشن کی۔۔۔ صرف چند دن باقی اور پھر ایسا خوفناک منظر ہوگا جو ہم نے اپنی زندگی میں کبھی نہ دیکھا۔۔۔ خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پانی زندگی ہے اور پاکستان میں زندگی کا یہ بنیادی جواز خطرے کے نشان کو چھو رہا ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس کی پروا نہیں۔ وائس آف امریکہ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان میں پانی کی قلت کی ایسی بھیانک منظرکشی کی ہے کہ بہت جلد ہمارے سامنے ایک ایسا خوفناک منظرہوگا جو ہم نے گزشتہ تمام عمر میں نہیں دیکھا۔ وائس آف امریکہ کے مطابق دو ہفتے قبل پاکستان میں پانی کا ایک بحران آیا۔ دریاﺅں میں پانی کی سطح زرعی ضروریات سے نیچے چلی گئی۔ پھر درجہ حرارت بڑھا، گلیشیئر پگھلے اور پاکستانی دریاﺅں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہو گیا اور تباہی کچھ وقت کے لیے ٹل گئی۔ انڈس واٹر ریگولیٹری اتھارٹی کے ترجمان محمد خالد رانا کا کہنا تھا کہ ”اگر یہ درجہ حرارت مزید 10سے 15دن تک نہ بڑھتا تو پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہو جاتی اور ہم صوبوں کو مطلوبہ مقدار میں پانی فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہ رہتے۔“

اس کا مطلب ہے کہ اگر درجہ حرارت چند روز اور نہ بڑھتا توکئی اہم فصلیں کاشت نہ ہو پاتیں اور پاکستان ایک بڑے بحران سے دوچار ہو جاتا۔رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں پاکستان کے پاس اس مسئلے کا کوئی مستقل حل موجود نہیں حالانکہ پاکستان میں پانی کا بحران غیرمتوقع طور پر نہیں آیا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی پیش بندی ہی نہیں کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ”اگر ہم اپنی فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کا کام جنگی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔“ پانی کے ماہرین کے کا کہنا ہے کہ ”اگرچہ محمد خالد رانا ایک حکومتی ایجنسی میں کام کر رہے ہیں لیکن ان کی وارننگ پاکستانی حکومت کی پالیسی میں معمولی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔ 1947ءمیں پاکستان میں پانی وافر مقدار میں موجود تھا۔ اس وقت فی کس 5ہزار کیوبک میٹر پانی پاکستان کے پاس تھا لیکن آج یہ شرح صرف 1ہزار کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ پاکستان اس انتہائی سنگین صورتحال پر قابو پانے کے لیے انتہائی معمولی اقدامات اٹھا رہا ہے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے ایک بھیانک منظرنامے پر منتج ہو گی اور ممکنہ طور پر پاکستان کی سرسبز زمینیں بے آب و گیاہ ہو جائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar