مسلم لیگ ن ، پی پی پی ،اے این پی سمیت دیگر دینی و سیاسی جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور تحریک انصاف کے خلاف اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں،پرویز خٹک

وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس ملک کی سب سے بڑی سیاست قوت بن چکی ہے مسلم لیگ ن ، پی پی پی ،اے این پی سمیت دیگر دینی و سیاسی جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور تحریک انصاف کے خلاف اتحاد بنانے کے لیے کوشاں ہیں ،باریاں تقسیم کرنے والے اب مزید عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے پی ٹی آئی اکیلے انکا مقابلہ کریں گی اور 2018 کے انتخابات میں کلین سویپ کرے گی کیونکہ عوام کرپٹ مافیاں اور کرپشن سے تنگ آچکے ہیں 70 سالوں سے غریب عوام کا استحصال ہورہا ہے اس ملک کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی صور ت میں ہمارے پاس موجود ہیں، عوام آنے والے انتخابات میں سیاسی لٹیروں کو اپنے ووٹ کے ذریعے چلتا کریں گے تحریک انصاف قوم سے کیے گئے وعدے کے مطابق نظام کی تبدیلی کے لیے کامیابی کے ساتھ گامزن ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ نظام کو ٹھیک کئے بغیرپاکستان ایک کامیاب ریاست نہیں بن سکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کلاں ہسپتال گراؤنڈ میں ایک بڑے شمولیتی جلسے سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر اے این پی سے کونسلر فیاض خان ، کونسلر زبیر خان ،عطاء اللہ شاہ،فرمان ، زیشان، نواب علی خان،اپنے پور خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکر تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا وزیر اعلی پرویز خٹک نے نئے شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنائی اور پارٹی میں انکا خیر مقدم کیا، جلسے میں ہزار وں افراد نے شرکت کی اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل ، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک، ممبر قوم اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک ، تحصیل ناظم رضااللہ خان ،تحصیل نائب ناظم زرعالم خان ، انور حقانی، ضلعی کونسلر ، نوشہرہ خان ، زاہد حیات ، نے خطا ب کیا ، پرویز خٹک نے کہا کہ ہماری نیت صاف تھی اور ارادے مضبوط تھے ا س لئے مخالفین کے پروپیگنڈو ں اور مافیا کی شدید مزاحمت کے باوجود اللہ کی مدد سے خیبر پختونخوا میں شفاف نظام کے ذریعے نئے پاکستان کی ٹھوس بنیادیں رکھ دی ہے۔ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار اور ظالم نظام سے تنگ عوام خصوصا نوجوانوں میں نظام کی تبدیلی کا جذبہ پیدا ہوا جس کے لیے انہوں نے عمران خان کی شفاف اور باکردار قیادت پر اعتماد کیا۔سیاسی مجرموں نے ہمیشہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جھوٹے وعدوں اور اعلانات کی سیاست کی اور اپنی کمیشن بنانے کے لیے دو نمبر عمارتیں اور سڑکیں بنائیں عوام کی انہیں کوئی فکر نہ تھی۔تباہ حال نظام اور اداروں کی خستہ حالی کو ٹھیک کرنے کا بوجھ تحریک انصاف کو اٹھانا پڑا۔ہم نے حکمرانی کا شفاف نظام وضع کیا اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے با اختیار بنایا جو اب ڈیلیو ر کر رہے ہیں۔آج کسی کی جرات نہیں کے اداروں پر اثر انداز ہو سکے۔۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے تبدیلی کے کامیاب سفر اور اسکی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ سیاسی مجرم رنگارنگ ڈرامے رچا رہے ہیں کیونکہ ہمارے مخالفین کو سوائے ڈراموں کے کچھ سوجھتا ہی نہیں اور نہ ہی ان میں اچھا سوچنے اور نیک کام کرنے کا جذبہ اور صلاحیت ہے۔مگر ان کے ڈرامے بے نتیجہ ثابت ہوں گے کیوں کہ اب عوام باشعور ہیں۔سیاسی مجرموں کے ادوار حکومت اور تحریک انصاف کا دور حکومت دونوں عوام کے سامنے ہیں۔عوام خود فیصلہ کریں گے اور سیاسی لوٹ مار کے خلاف تحریک انصاف پر پھر سے اعتماد کا اظہار کر کے صوبے کی تاریخ بدل دیں گے۔تحریک انصاف نے عوام سے کیے گئے وعدے کے مطابق لوٹ مار کے دروازے بند کیے،رشوت اور سفارش کلچر کا خاتمہ کیا،اداروں کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر کے بااختیار بنایا، میرٹ کی بالا دستی قائم کی کیونکہ دنیا کی ترقی اور خوشحالی کے پیچھے بھی ایک نکاتی ایجنڈا کارفرما ہے انکے ادارے آزادوبا اختیار اور امیر وغریب کے لیے یکساں نظام ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ اس ملک کی عوام کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم تعلیم کے شعبے میں ہوا۔سرکاری سکول ایک کباڑخانے کا منظر پیش کر رہے تھے۔چالیس ہزار اساتزہ کی آسامیاں خالی تھیں اور جو اساتذہ تھے ان میں سے آدھے مکمل غیر حاضر تھے۔اب تمام سکولوں میں اساتذہ سو فیصد حاضر ہیں،فرنیچر موجود ہے اور بجلی ،پانی ،چاردیواری وغیرہ کا کام بھی رو بہ تکمیل ہے۔ہم نے اس مقصد کے لیے چالیس ارب روپے خرچ کیے تا کہ غریب کا بچہ بھی امیر کے مقابلے میں آ سکے۔اب استاد نتائج دینے کا پابند ہیں۔اب سفارشی تھرڈ ڈویژن پاس استاد کا زمانہ گیا۔اب این ٹی ایس کے ذریعے قابل اور تعلیم یافتہ لوگ آگے آ رہے ہیں۔پرویز خٹک نے کہا کہ اسی طرح ہسپتالوں کی حالت بھی ابتر تھی۔ایک ہزار ڈاکٹر بیرون ملک تھے،سترہ گریڈ کے نو سو ڈاکٹر ترقی نہیں لے رہے تھے تا کہ انکا کاروبار خراب نہ ہو۔ہم نے زبردستی ترقی دی اور نئے ڈاکٹربھرتی کیے۔ہمیں فخر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کے پی کے ہسپتالوں میں سارا سٹاف موجود ہے۔ہم نے ایم ٹی آئی کا قانون پاس کر کے ہسپتالوں کوخود مختاری دی اب شام کے اوقات میں بھی ڈاکٹر موجود ہوا کریں گے۔ہم عمران خان کے وژن کے مطابق غریب عوام پر سرمایہ لگا رہے ہیں۔صحت انصاف کارڈ کے تحت اٹھارہ لاکھ مستحق خاندان سالانہ تین سے پانچ لاکھ تک علاج معالجے کی مفت سہولت حاصل کر رہے ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ کہ اب اے این پی کے حیدر ہوتی نے نوشہرہ کے دورے شروع کیے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب وہ وزیراعلی تھے تب اسے نے اس ضلع کی کیا خدمت کی پختون کے نام پر ووٹ لینے والوں نے غریب پختونوں کا سب سے زیادہ استحصال کیا بچوں کو سکولوں میں ٹاٹ تک مہیا نہیں تھے اسپتالوں میں ڈاکٹر تو دور کی بات ہے یہ لوگ غریب سے غر یب تر اور امیر سے امیر تر کی پالیسی اپنا رہے ہیں یہ قوم کو بتائیں کہ معصوم شاہ کون تھا اور پچیس کروڑ روپے کس کھاتے میں نیب کو جمع کرائے انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس سے سیاسی مداخلت ختم کی۔یہ واحد حکومت ہے جس نے اپنے اختیار پولیس کو دیے۔تھانوں میں پہلے بدمعاشی عام تھی مگر اب عوام کو عزت مل رہی ہے اور پولیس ڈیلیور کر رہی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ خدمات تک فراہمی کا قانون پاس کر کے عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی آسان بنا دی گئی ہے۔ادارے پندرہ دنوں کے اندر ڈومیسائل،شناختی کاڑڈ۔لائسنس اور دیگر دستاویزات مہیا کرنے کے پابند ہیں بصورت دیگر انہیں جیب سے جرمانہ دینا پڑے گا۔ہمارا وسل بلوئر قانون کرپشن کے خلاف حتمی تالا ہے۔اس قانون کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو موصول شدہ رقم کا تیسرا حصہ دیا جائے گا اور اس کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے میں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے بھی نظر آنے والی جدوجہد کر رہی ہے۔صوبے میں کارخانوں کے قیام کے لیے چینی اور دیگر سرمایہ کاروں کے ساتھ آئے روز معاہدے ہو رہے ہیں،رشکئی صنعتی بستی کی ترقی کے لیے چینی کمپنی کے ساتھ ایم او یو ہو چکا ہے۔اس صوبے کا مستقبل بڑا تابناک ہے۔مستقبل کی تیز رفتار صنعتکاری کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کی فنی تربیت کے لیے آمان گڑھ نوشہرہ میں پاکستان کی پہلی ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کردی گئی ہے۔اس یونیورسٹی سے فارغ طلبا نوکری کے پیچھے نہیں بھاگیں گے بلکہ نوکری ان کا پیچھا کرے گی۔پرویز خٹک نے وادی پشاور کو سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابقہ دور میں حیدر ہوتی اور زرداری کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا مگر انہوں نے میری بات کو گپ شپ میں اڑا دیا اور آج حیدر ہوتی عوام کا ہمدرد بن کر نوشہرہ کے دورے کرتا ہے۔ہم تیرہ ارب روپے کی لاگت سے حفاظتی پشتے تعمیر کر رہے ہیں جس سے نوشہرہ سمیت پوری وادی پشاور سیلاب سے محفوظ ہو جائے گی۔وزیر اعلی نے اس موقع پر پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو تحریک انصاف کی ٹوپیاں پہنائیں اور ان کو خوش آمدید کہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar