خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی پروگرام کی حقیقت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بلین ٹری سونامی پروگرام کی شاندار اور بے مثال کامیابی نے اس حقیقت کی تائیدو تصدیق کردی ہے کہ اعلیٰ قیادت کا اخلاص اور عزم کسی بھی تباہی کے دہانے پر کھڑے ادارے میں جان ڈال سکتا ہے اور اُسے کامیابی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میںWWF کی جانب سے بلین ٹری سونامی کے نتائج پر تھرڈ پارٹی تصدیقی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ محکمہ جنگلات ماضی میں کرپشن کی وجہ سے بدنام ترین محکمہ بن چکا تھا۔اس وجہ سے وہ اس محکمے سے شدید نفرت کرنے لگے تھے مگر خیبرپختونخوا کے محکمہ جنگلات کی موجودہ کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے وہ اس محکمے کو پھر سے پسند کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب بلین ٹری سونامی پروگرام بنایا جا رہا تھا تو انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے کہاکہ محکمہ جنگلات میں موجود ٹمبر مافیا، قبضہ مافیا اور بدعنوان لوگوں کی وجہ سے اس پروگرام کو کامیاب کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو گا تاہم وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب انہوں نے عزم اور حوصلے کے ساتھ اس پروگرام کا اجراء کیا تو محکمہ جنگلات نے شکوک وخدشات کے برعکس جوانمردی دکھائی اور پروگرام کو کامیاب بناکر کھویا ہوا اعتماد پھر سے بحال کیا ۔ہمیں اب اس محکمے پر فخر ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ سب کچھ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے عزم اور حوصلے کی وجہ سے ممکن ہو ا نہ صرف ٹمبر مافیا کو شکست دی گئی بلکہ 60 ہزار کنال جنگلات کی اراضی کو بھی واگزار کرایا گیا جنگلات کا تحفظ یقینی بنایا گیا وسیع پیمانے پر پودے لگانے کے ساتھ ساتھ جنگلات کے فطری اُگاؤ کے ذریعے نسل نوکا تحفظ بھی ممکن ہو ا۔پرویز خٹک نے کہا کہ ماضی میں کرپشن کیلئے راستے بنائے گئے تھے ۔انہوں نے بذات خود وزراء کو سائیکل پر چلتے دیکھا ہے جو اب لینڈ کروزر میں گھومتے ہیں اور عالیشان بنگلوں میں رہنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے کرپشن کے مختلف طریقوں سے قوم کے مستقبل کو بڑی بے دردی سے لوٹا۔ونڈ فال کے نام پر درختوں کی کٹائی بھی محکمہ جنگلات میں ان طریقوں میں سے ایک تھی جس کے ذریعے ہر سال لاکھوں درخت بڑی بے رحمی اور بے دردی سے کاٹے جاتے رہے ۔پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی انہوں نے ونڈ فال کے نام پر درختوں کی کٹائی سمیت جنگلات کی ہر قسم کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر دی ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ماضی میں درختوں کی بے رحمانہ کٹائی اور تباہی نے سیلاب ، سیم و تھور اور زمینی کٹاؤ جیسے مسائل کا راستہ ہموار کیا ۔اُن کی حکومت کی کاوشوں سے انتہائی مختصر وقت میں نہ صرف پودے لگانے کاکام شروع کیا گیا بلکہ صوبے کے طول و عرض میں جنگلات کا قدرتی اُگاؤ بھی شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو دعوت دی کہ وہ صوبے میں بذات خود متعلقہ علاقوں کا دورہ کرکے جنگلات کے قدرتی اُگاؤ کا منظر دیکھیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ بلین ٹری سونامی پروگرام کی مجموعی کامیابی میں محکمہ جنگلات میں اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے اس میں حصہ ڈالا، مناسب صلہ دیا جائے گا اور سیکرٹری جنگلات کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں فوری طور پر سمری بنا کر بھیجیں۔وزیراعلیٰ نے بلین ٹری سونامی کے تحت جنگلات کے تحفظ ، شجرکاری کو اگلے پانچ سال میں بھی جاری رکھنے اور اس کو مزید توسیع دینے کا اعلان بھی کیا ۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا محکمہ جنگلات کی کاوشوں کو سراہا خصوصی طور پر انہوں نے اشتیاق ارمڑ کوطاقتور ٹمبر مافیا کی طرف سے درپیش چیلنجز کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر خراج تحسین پیش کیااور اعلان کیا کہ اس پروگرام کو نوجوانوں خصوصاً آئی ایس ایف کی مدد سے پورے پاکستان میں توسیع دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا سے 60 ہزار کنال جنگلات کی اراضی کو واگزار کرنا قابل ستائش ہے جس کی لاگت تقریباً22 ارب روپے ہے۔عمران خان نے کہاکہ وفاقی حکومت نے پچھلے پانچ سالوں میں پاکستان بھر میں 500ملین پودے لگائے جبکہ خیبرپختونخوا میں چند مہینوں میں 800 ملین پودے اُگائے گئے۔عنقریب ایک ارب پودے لگانے کے ہدف کو عبور کرلیا جائے گا ۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت نے آتے ہی حکمرانی کے اسلوب میں جدت لائی اور جنگلات کی بڑھوتری اور شجرکاری کو ترجیح بنا کر صوبے میں گرین گروتھ اکانومی کے تصور کو پروان چڑھایا ۔اس تناظر میں جنگلات صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں اولین ترجیحات میں شامل اور منشور کا حصہ تھے۔صوبائی حکومت نے جنگلات کے کٹاؤ کو روکنے، جنگلات کو تحفظ دینے اور اُن کی بحالی جیسے کام شروع کئے ۔ صوبے کے 2 فیصد اضافی رقبے پر جنگلات اُگانے کی مہم شروع کی تاکہ قدرتی اُگاؤ اور کٹاؤکو متوازن بنایا جا سکے۔ اور ساتھ ہی ساتھ سرکاری زمین کو قبضہ مافیا سے چھڑا کر اُس پر بھی شجرکاری شروع کی ۔تقریب میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے میں اب تک 808 ملین پودے لگائے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کی اس تناظر میں کامیابیوں کی فہرست شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایک لاکھ 70 ہزار 671 ہیکٹر رقبے پر کامیاب شجرکاری کی گئی جو پورے صوبے کا 2.3 فیصد بنتا ہے۔125 ملین پودے تقسیم کئے گئے جو فارم فارسٹری کے تحت لگائے گئے اور یہ 1 لاکھ 16 ہزار ہیکٹر مجموعی شجرکاری رقبے کے عین مطابق ہے ۔1لاکھ 99 ہزار587 ہیکٹر اراضی کو دوبارہ شجرکاری کیلئے تیار کیا گیا جو صوبے کے کل رقبے کو 2 فیصد بنتا ہے ۔قدرتی آفات اور پہاڑی تودوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے مختلف علاقوں میں حفاظتی پشتے تعمیر کئے گئے تاکہ جنگلات میں کمی کے رسک کو کم سے کم کیا جا سکے ۔10 ہزار 160 ہیکٹر اراضی جو سیم و تھو رکا شکار تھی ، کو شجرکاری کے قابل بنایا گیا جبکہ60 ہزار کنال سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کیا گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shares
Skip to toolbar